Advertisement

وقت کی اہمیت پر مضمون

لفظ "گھڑی” بھی وقت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ وقت ایک بیش قیمت دولت ہے کیوں کہ اگر وقت ہاتھ سے پھسل جاۓ تو یہ دوبارہ کبھی ہاتھ نہیں آتا۔ وقت کو اگر آپ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کا وقت کے مطابق چلنا لازم و ملزوم عمل ہے۔

Advertisement

وقت کی اہمیت قرآن کی روشنی میں

اللّه رب العزت کا یہ اصول ہے کہ وہ کبھی بھی کسی معمولی چیز کی قسم نہیں کھاتا لیکن قرآن مجید میں اللّه پاک نے بیشتر جگہ وقت کی قسم کھائی ہے. جن میں سے ایک کا ذکر درج ذیل ہے۔

Advertisement

ترجمہ :
"اس صبح کی قسم (جس سے ظلمتِ شب چھٹ گئی) اور دس (مبارک) راتوں کی قسم”
(سورۃ الفجر : ۱ – ۲)

Advertisement

وقت کی اہمیت حدیث کی روشنی میں

قرآن پاک کے علاوہ وقت کی اہمیت کا اندازہ ہمیں احادیثِ نبوی سے بھی ہوتا ہے۔ حضور پاک صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی مندرجہ ذیل حدیث سے بھی وقت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
"دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ انکی قدر نہیں کرتے ، وقت اور صحت۔”

وقت اور مسلمان

"کیا ہم نے تمھیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہتا تھا وہ سوچ سکتا تھا اور (پھر) تمہارے پاس ڈر سنانے والا بھی آ چکا تھا پس اب (عذاب کا) مزہ چکھو سو ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہ ہوگا "
(سورۃ الفاطر)

Advertisement

آج کل ہمارا یہ دورانیہ بن گیا ہے کہ ہم برے کام کو تو کبھی کل پر نہیں ٹالتے پر اچھے کاموں کے لئے روز کل کل کی رٹ  لگائے رکھتے ہیں جب کہ یہ بات بھی ہم اچھے سے جانتے ہیں کہ گیا وقت لوٹ کر نہیں آتا اور ہم سب سے تو روزِ محشر لمحے لمحے کا حساب ہونا ہے تو ہمیں چاہیے کہ وقت رہتے اپنی آخرت سدھار لیں۔

وقت اور معاشرہ

جو قومیں وقت کی قدر نہیں کرتیں، وقت ان کی قدر نہیں کرتا۔

Advertisement

آج کل ہم سب کا یہ معمول ہو چکا ہے کہ ہم اپنا فارغ وقت گپ شپ کرنے، موبائل استعمال کرنے، محفل جمانے، کہیں باہر گھومنے میں صرف کر دیتے ہیں۔ جب کہ یہی فارغ وقت ہم کسی فائدہ بخش کام میں بھی لگا سکتے ہیں جو ہمیں علم سے روشناس کروائے اور معاشرے کو جہالت سے پاک کرے۔ ایسا کرنے سے ہمیں انفرادی طور پر بھی بہت فائدہ ہوگا اور ہمارے معاشرے کو بھی اجتماعی طور پر فائدہ ہوگا۔

وقت کی قدر

یہ حقیقت ہے کہ گزرا وقت واپس نہیں آتا مگر آنے والا ہر لمحہ اور صبح ، سورج کی کرنوں سے پھوٹنے والی روشنی امید کا پیغام ضرور دیتی ہے۔ یہی ایک امید ہی تو ہے جس پر دنیا قائم ہے۔ مایوسی کو گناہ قرار دیا گیا ہے۔ رب تعالیٰ کے یہاں دیر تو ہے پر اندھیر نہیں۔

Advertisement

وقت کی قدر کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر دن کو آخری دن سمجھے اور قیامت میں حساب دینے کے احساس کو قائم رکھے۔ اس سے نہ صرف بہت سے کام آسان ہونگے بلکہ معاشرے میں بھی مثبت تبدیلی نظر آئے گی۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement