Advertisement

انصاف پر ایک مضمون

انصاف ایک ایسا لفظ ہے جو زیادہ تر مظلوموں کی زبانوں پر رہتا ہے۔ ہر مظلوم انسان کی زبان پر انصاف کی پکار ہے لیکن اس کی پکار کی آواز کوئی بھی نہیں سنتا اور آج کے دور میں تو انصاف ملنا بہت ہی زیادہ مشکل ہوا جا رہا ہے۔ عام طور پر انصاف ملنے کی جگہ عدالت کو کہا جاتا ہے۔

Advertisement

قانون سازی کے انتظام میں عدالتوں کو ہی یہ حق ہے کہ وہ انصاف اور ناانصافی کے بیچ انصاف کے حق میں فیصلہ کریں۔ عدالتوں میں بڑی تعداد میں آنے والے معاملوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا پڑے گا کہ انصاف کی تلاش میں آنے والے لوگوں کی بھیڑ تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔

Advertisement

چونکہ انصاف کا قانونی ماخذ عدالت ہے اس لیے انصاف کی خواہش کرنے والوں کی بھیڑ یہاں عدالت میں آکر اکھٹا ہوجاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا انصاف صرف عدالتوں تک ہی محدود رہ گیا ہے؟ کیا معاشرے میں اور دوسری جگہوں پر انصاف دینے کے انتظامات یا ضرورت نہیں ہے؟ ضرورت بھی ہے اور انتظامات بھی ہیں۔

سب سے پہلے انسان کو قانونی انتظامات کو سمجھنا چاہیے۔ حکومت نے انسان کے انصاف کے لیے الگ الگ محکموں میں الگ الگ مضمونوں میں قائم کی ہے۔ جیسے کہ پولیس اور مقامی گورنمنٹ، پنچایت، وغیرہ۔

Advertisement

اگر صحیح طریقوں سے قانون کا استعمال کیا جائے تو ہر ایک انسان کو انصاف مل جائے۔ لیکن ہر انسان خود کو بچانے کے لئے قانون کو بالکل توڑ مروڑ ڈالتا ہے جس کی وجہ سے فیصلہ صحیح حق میں نہیں ہو پاتا۔ ہر انسان جھوٹ پے جھوٹ بولے جاتا ہے۔ گواہ خریدے اور بیچے جاتے ہیں اور انہیں سب وجہوں سے غریب لوگ پھس جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس اتنی دولت نہیں کہ وہ گواہ خرید پائیں۔ اس لیے ہمیشہ غلط فیصلہ غریب کے لیے ہو جاتا ہے۔

آج کے دور میں ظلم بڑھتے جا رہے ہیں اور انصاف نہیں مل پا رہا ہے۔ سب سے زیادہ معاملہ عصمت دری کا سامنے آرہا ہے اور انصاف مانگنے والوں کی کوئی سنوائی نہیں ہے۔ گنہگار کھلے عام گھومتے ہیں انہیں کوئی سزا نہیں ملتی اور مظلوموں کو انصاف نہیں ملتا۔

Advertisement

جس طرح سے ملک میں گناہ کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اسی طرح سے انصاف کرنے والوں کی کمی ہوتی جارہی ہے۔ لیکن اگر ایسا ہی چلتا رہا تو دیکھتے دیکھتے انصاف کا بلکل نام ونشان مٹ جائے گا اور ہر طرف صرف ظلمت ہی ظلمت ہوگی۔ اس لئے ہم سب کو ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی اور کوئی بھی انسان جو انصاف کی گہار لگائے اس کا ساتھ دینا ہوگا۔ کیونکہ جب ہم سب ایک ساتھ مل کر انصاف مانگیں گے تبھی جا کر لوگوں کی سنوائی ہوگی اور جب ہم آج کسی اور کے انصاف کے لئے کھڑے ہوں گے تو وہی لوگ کل ہمیں انصاف دلانے کے لیے کھڑے ہونگے۔ ایک رہنے میں ہی سب کی جیت ہوگی۔

Advertisement