Advertisement

جامع مسجد پر ایک مضمون

جامع مسجد ہندوستان کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ یہ ہندوستان کی پرانی دہلی میں واقع ہے۔ جامع مسجد ہندوستان کے مشہور عمارت لال قلعہ کے سامنے ہے۔ جامع مسجد کی تعمیر مغل دور کے بادشاہ شاہ جہاں نے 17ویں صدی میں کروائی تھی۔

Advertisement

یہ مسجد جہاں نما کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ اس مسجد کو تعمیر کرنے میں پانچ ہزار مزدوروں نے سات سال سے بھی زیادہ کام کیا تب جاکر جامع مسجد بن کر تیار ہوئی۔

Advertisement

اس مسجد میں سنگ مرمر پتھر اور لمبی سیڑھیوں کا استعمال کیا گیا ہے اور داخل ہونے کی جگہ محراب نما نقاشی کی گئی ہے۔ یہ سب جامع مسجد کی خاصیت ہے۔ دہلی کی جامع مسجد سب مسجدوں سے الگ ہے۔ یہ مسجد اپنی پہچان کے لئے کسی کی محتاج نہیں۔ یہ خود کے لئے ایک پہچان ہے۔ صدیوں بعد بھی اپنی آن بان شان سے مغل سلطنت کے سنہرے دور کا گن گاتی ہے۔

Advertisement

جامع مسجد اتنی زیادہ بڑی ہے کہ اس میں ایک ساتھ کم سے کم پچیس ہزار لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے یہ خواب دیکھا کہ اللہ کا سب سے بڑا گھر بنایا جائے اور اس خواب کی تعمیر دہلی کی جامع مسجد بنی۔ جامع مسجد بنانے کا خواب مغل شاہ جہاں نے دیکھا تھا۔ ایک ایسی مسجد کا خواب جس میں ایسی عبادت گاہ ہو جس کو دیکھ کر خود کا دل عبادت کرنے کو کہے۔ اس کے علاوہ شاہ جہاں یہ بھی چاہتے تھے کہ اللہ کا گھر ان کے خود کے محل سے بھی زیادہ اونچا ہو۔ اتنا اونچا کہ اللہ کے گھر کا فرش اس کے تخت تاج سے اوپر ہو۔ اس کے لیے شاہ جہاں کو لال قلعے کے سامنے ایک جگہ کی تلاش تھی۔ ان کی تلاش پوری ہوئی اور لال قلعے کے ٹھیک سامنے موجلہ نام کی پہاڑی کو مسجد بنانے کے لیے چنا گیا۔ یہ پہاڑی بادشاہ کے محل کے ٹھیک سامنے تھی۔

6 اکتوبر 1650ء کو مسجد بنانے کا کام شروع کیا گیا۔ اس مسجد میں تین گنبد بنائے گئے۔ اس میں کالے اور سفید رنگ کے سنگ مرمر کا استعمال کیا گیا ہے۔ تاکہ یہ دیکھنے میں مسلمانوں کی عمارت لگے۔ اس کے علاوہ مسجدوں کے فرش پر چوڑے کالے بارڈر بنائے گئے ہیں۔ یہ عالی شان عمارت ہزاروں ٹن کے پتھروں سے بنائی گئی ہے۔

Advertisement

اس مسجد کا نام جہاں نما رکھا گیا۔ اس کا مطلب ہے پوری دنیا کو دیکھنے والی مسجد۔ مسجد بہت زیادہ بڑی ہونے کی وجہ سے اسے دیکھنے کے لئے کافی لوگ جمع ہونے لگے اور وقت کے ساتھ یہ جامع مسجد کے نام سے مشہور ہو گئی۔

جس دور میں اس مسجد کی تعمیر ہوئی اس دور میں مغل فن تعمیر کا چلن بہت ہی زیادہ تھا۔ اس دور میں اسلامی فن تعمیر نے کئی بہترین عمارتیں دنیا کو دیں۔ شاہ جہاں نے جو خواب دیکھا وہ پورا کیا اور ہندوستان کی سب سے بڑی مسجد بنوائی۔ اس مسجد کی نقاشی بہت زیادہ خوبصورت ہے۔ شاہ جہاں نے اس مسجد کو بنوانے میں بہت زیادہ دولت خرچ کی تھی۔ شاہ جہاں کے ذریعے بنوائی جانے والی یہ مسجد آخری عمارت تھی۔ اس کے بعد شاہ جہاں نے کسی عمارت کی تعمیر نہیں کروائی۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement