رحم دلی پر ایک مضمون

رحم دلی سے مراد ہے کہ کسی انسان کے ساتھ معاملہ طے کرتے ہوئے ترس، مہربانی، درگزر سے کام لیا جائے۔ انسان کو سماجی جانور کہا گیا ہے مگر اس کے کچھ طور طریقے اور معاملات ایسے ہیں جن کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلانے کا مستحق بھی ہے۔

رحم دلی انسانوں میں ایک خوش آئند اور پُراثر جذبہ ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں بہت سارے لوگوں نے رحم دلی کی مثالیں قائم کی ہیں۔ جو قومیں رحم نہیں کرتی ان پر رحم نہیں کیا جاتا۔ خدا تعالیٰ کے بہت سارے قوانین ہیں، ان میں سے ایک قانون رحم دلی ہے۔ اگر اس جذبے کو فراموش کردیا جائے تو ہم سے پہلے بہت سی قومیں اسی ایک عیب کی وجہ سے تباہ ہوچکی ہیں۔

رحم دلی کا مقام

رحم دل انسان کو دنیا میں بھی محبت عقیدت اور عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور باری تعالیٰ کے ہاں بھی رحم دلی کی بہت فضیلت پائی جاتی ہے۔
ایک حدیث کا مفہوم ہے

"رحم دل کا ہر عمل کا صدقہ ہے.”
ہمارے لئے حضور ﷺ ہی رحم دلی کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہیں۔ ہر شخص میں غصہ کثرت سے پایا جاتا ہے مگر اس شخص میں موجود رحم دل اسے اصل معنوں میں اشرف المخلوقات بناتی ہے۔

ایک رحم دل انسان سکون کی نیند سوسکتا ہے بجائے اس کے کہ کسی پر ظلم کرکے ہم بےسکون بھی ہوں اور مکافاتِ عمل کی بات سن کر ہمارے دل میں خوف طاری ہو جائے۔

رحم دلی کے فوائد

اگر کوئی شخص رحم دل ہے اور وہ اپنے ساتھ کسی کی کی ہوئی ناانصافی کو رحم دلی سے درگزر کردے اوربدلہ نہ لینے کی خواہش کرے تو ایسا شخص ہمیشہ پُرسکون اور پُرمسرت رہے گا۔ وہ بدلہ لینے کی آگ میں نہیں جلے گا۔

خدا تعالیٰ سے محبت کا عملی جامہ رحم دلی کا مظہر ہے۔ رحم دلی رب کعبہ کی صفات میں سے ایک ہے جو انسان اس صفت کو پالے گا گویا اس نے خدا کے ایک راز کو پالیا اور اسے اپنالیا تو بیشک خدا اسے پسند کرے گا۔

محسنِ انسانیت

ایک رحم دل انسان دنیا میں عظیم انسان کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو لوگوں کے ساتھ رحم دلی سے کام لے گا اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کے ساتھ رحم دلی سے پیش آئے گا۔

نبی پاکﷺ نے فرمایا:
"تم زمین والوں کے ساتھ رحم کرو عرش والا تمہارے ساتھ رحم فرمائے گا.”

بحثیت مسلمان ہمیں اسلام نے نہ صرف انسانوں سے بلکہ جانوروں اور چرند پرند سے بھی رحم دلی سے پیش آنے کی تاکید فرمائی ہے۔

محبتِ رسولﷺ کا ثبوت

جب بھی آپ ﷺ کی مجلس میں کوئی میوہ یا پھل آتا تو آپ سب سے پہلے بچوں میں بانٹتے، بچوں کو اپنی سواری پر بٹھاتے، ان سے پیار کرتے۔
صحابہ اکرام نبی رسالت مآب ﷺ کے تربیت یافتہ تھے اور ان میں رحم دلی وشفقت کثرت سے پائی جاتی تھی جس کی وجہ سےان کے آپس میں بہترین تعلقات تھے۔ وہ تمام لوگ ہر خاص و عام صورت حال میں اپنے پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے۔ ہم بھی ان تمام باتوں پر عمل کر کے رسول اکرم ﷺ سے محبت کا ثبوت دےسکتے ہیں۔

مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد سب سے زیادہ رحم دلی اور نوازشوں کی مثال قائم کی گئی۔ انصار صحابہ نے اپنے مہاجرین بھائیوں کو جانی اور مالی مدد فراہم کی۔ اپنا بھائی بنا کر ان سے اپنی دو میں سے ایک بیوی کو طلاق دے کر شادی کروائی۔

  • رحم دلی سے معاشرے میں امن تنظم اور استقامت پیدا ہوتی ہے۔
  • رحم دلی سے دنیا میں خوشخالی ہوتی ہے اور یہ آخرت میں نجات کا باعث بنے گی۔
  • آقا دو جہاں کا قول ہے آپﷺ نےفرمایا:
  • "بد بخت آدمی ہی رحم سے خالی ہوتا ہے.”
Advertisements