مزدوروں کا عالمی دن

مزدوروں کا عالمی یکم مئی کو منایا جاتا ہے۔ اس روز ان مزدوروں کی چھٹی ہوتی ہے جو بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز ہوتے ہیں اور شاید نجی ادارے والے بھی خود کو مزدور ہی سمجھتے ہیں لیکن دراصل جو مزدور ہیں جن کا چولہا روز کی کمائی سے جلتا ہے وہ اس روز بھی کام کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے چھٹی کرلینے سے اس روز ان کے گھر والوں کو بھوکا سونا پڑے گا۔

مزدوروں کے عالمی دن کی تاریخ

اس دن دراصل امریکہ کے شہر  شکاگو میں کام کرنے والے مزدوروں کو یاد  کیا جاتا ہے۔ وہ مزدور شکاگو شہر میں ۱۸۷۰ء میں کام کرتے تھے۔ سب مزدور وہاں تقریباً بارہ سے سولہ گھنٹے کام کیا کرتے تھے اور انھیں ڈیڑھ سو یا دو سو روپے تنخواہ دی جاتی تھی اور ان صنعتوں کے مالکان جو تھے وہ یہ کوشش کیا کرتے تھے کہ یہ مزدور اپنے حقوق کے لیے کسی قسم کی کوئی تحریک نہ بنالیں۔

ایسے میں اگر کوئی مزدور باقی مزدوروں میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کرتا تو اسے نوکری سے نکال دیا جاتا تھا۔ ان سب سازشوں کے خلاف مزدوروں نے مختلف تنظیمیں بنائیں۔ ایک تنظیم کا نام تھا "کائنٹز آف لیبرز” یعنی "مزدوروں کے سپاہی”۔ ان لوگوں نے یہ مطالبہ کیا کہ وہ لوگ آٹھ گھنٹے کام کریں گے۔ ۱۸۸۴ء میں یہ تنظیم بنی تھی اور تب اس تنظیم میں ستر ہزار مزدور شامل تھے۔ پھر ۱۸۸۶ء میں یکم مئی کو تقریباً پانچ لاکھ مزدوروں نے پورے امریکہ میں ہڑتال کی اور شکاگو میں تقریباً اَسی ہزار مزدوروں نے ہڑتال کی۔

چار مئی کو تقریباً تین ہزار مزدور ایک فیکٹری پر ملے جہاں پچھلے روز چھ مزدور مارے گئے تھے اور وہاں اپنے رہنماؤں کی تقریریں سنے لگے۔ اگلی صبح مزدوروں کے آٹھ رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا اور مزدوروں کی تحریک کے خلاف ایک تحریک شروع کردی گئی۔ ان آٹھ لوگوں کے خلاف اکیس جون ۱۸۸۶ء کو مقدمہ شروع کیا گیا اور وہ مقدمہ گیارہ اگست ۱۸۸۶ء تک چلا۔ جج گیری سرمایہ داروں کے ساتھ تھے اور انہوں نے تقریباً ایک سو اٹھارہ لوگوں کی گواہی سن کر ان آٹھ رہنماؤں میں سے سات کو سزائے موت اور ایک کو پندرہ سال قید کی سزا سنا دی۔

جن آٹھ لوگوں کو سزا سنائی گئی ان میں سے دو لوگوں کے علاوہ باقی لوگ تو بمب پھینکنے کے وقت وہاں موجود بھی نہ تھے بس پولیس کی کوشش یہ تھی کہ ان رہنماؤں کو سزا سنادی جائے تاکہ مزدور اپنا آٹھ گھنٹے کام کرنے کا مطالبہ واپس لے لیں۔

گیارہ نومبر ۱۸۸۷ء کو چار بڑے رہنماؤں کو سزائے موت کے لیے لے جایا گیا وہاں ان رہنماؤں نے گیت گائے اور تقریریں بھی کیں۔ ایک  رہنما نے با آواز بلند کہا کہ.
"ایک وقت آئے گا جب ہماری خاموشی ان آوازوں سے بھی اونچی ہوگی کہ جن کا گلا آج آپ گھونٹنے کی کوشش کررہیں ہیں..”

جب یہ خبر پھیلی تو ایک رہنما جو جیل میں تھا اس نے خود کشی کی کوشش کی لیکن وہ بھی چھ گھنٹے تڑپنے کے بعد مرا۔ جب یہ خبر لوگوں تک پہنچی تو بین الاقوامی سطح پر مزدوروں کی تنظیموں اور تحریکوں نے ہڑتالیں شروع کردیں۔ اب مزدوروں کی تحریک کی نشانی لال رنگ کا جھنڈا تھا۔ ۱۸۹۰ء کو  یہ فیصلہ کیا گیا کہ یکم مئی اب بین الاقوامی سطح پر منایا جائے گا۔ اس دن تمام مزدور باہر نکل آئیں اور آٹھ گھنٹے کام کرنے کا مطالبہ کریں۔

مزدوروں کی ہڑتال کے اثرات

مزدوروں کی ہڑتالوں کے باعث اب یہ آٹھ گھنٹے کام کرنے کا مزدوروں کا مطالبہ مان لیا گیا ہے اور اگر اب کوئی مزدور آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام کرتا ہے تو اسے زیادہ پیسے دینے پڑتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا کے بہت سے ملک یکم مئی کو چھٹی دیتے ہیں لیکن امریکہ اور اسرائیل اب بھی یکم مئی کی چھٹی نہیں دیتے۔

ہمارا اخلاقی فرض

یہ ہمارا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ہر روز یا کم سے کم یکم مئی کے دن جس بھی غریب شخص کو کام کرتے دیکھیں جو اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کے لیے دن رات محنت کررہا ہے اس کی مدد کریں۔ اگر ہم اسے مالی امداد نہ دے سکیں تو کم سے کم سورج کی تپتی دھوپ میں کسی کو کام کرتا دیکھ اسے پانی ہی پلادیں یقیناً اس کی دعا ہماری کامیابی کا راز بنے گی۔

Advertisements