نیکی پر ایک مضمون

دنیا میں نیکی اور بھلائی کرنے کے برابر اور کوئی کام نہیں ہے۔ اس میں دنیا اور دین دونوں کی بھلائی ہے۔ روحانی اور جسمانی راحت کا سامان نیکی میں ہی پوشیدہ ہے۔آخر اس میں خوشی کیوں نہ ہو کیونکہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے سے بہتر اور کوئی کام نہیں ہے۔ بغیر بدلہ کے دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنا احسان کہلاتا ہے اور اسی وجہ سے انسان کو اشرف المخلوقات سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ انسان میں احسان کا جذبہ قدرت نے پیدا کیا اور قدرت نے انسان کو احسان کرنے کی تعلیم کی تربیت اور تعلیم دی۔ زمین ہمارے لئے روزی پیدا کرتی ہے اور تارے، چاند اور سورج ہمیں روشنی اور گرمی عطا کرتے ہیں۔ سورج اور چاند سبزیوں اور پھلوں میں رس پیدا کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ کچھ قدرت نے ہماری بھلائی کے لئے پیدا کئے ہیں اور اس کا بدلہ وہ ہم سے کچھ نہیں چاہتی۔ اس لئے ہم لوگوں کو مناسب ہے کہ ہم ہر ایک کے ساتھ بھلائی کریں۔

دنیا میں احسان کرنے سے اچھا اور کوئی کام نہیں۔ انسان اور بندے کو احسان کی وجہ سے قریب و نزدیکئ خدائی حاصل ہوتی ہے اور خدا چاہتا ہے کہ ہم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کرے نیکی اور احسان کریں۔ خدا کے بندوں سے نیکی کرنا خدا کو بہت پسند ہے۔ جو لوگ خدا کے بندوں سے محبت کرتے ہیں وہ خدا کے دوست ہیں اور اس کے پیارے ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ بات ظاہرہوگئی کہ بندوں سے محبت کرنے والے دین اور دنیا میں فلاحی پاتے ہیں۔

بھوکوں کو کھانا کھلانا، پیاسوں کو پانی پلانا، ننگوں کو کپڑا پہنانا، مصیبت کے ماروں کی مدد کرنا اچھائی، نیکی اور بھلائی کی نشانی ہے۔ علم سکھانا بہترین احسان ہے، کھانا اور لباس وغیرہ سے تو خود ہی ضرورت پوری ہوتی ہے۔ لیکن اس لیے احسان کا فائدہ مستقل اور پائیدار ہوتا ہے اور اس سے لازوال ترقی ہوتی ہے۔

اگر ہم دولت مند کو روپیہ دیں تو یہ ایک بیکار کام ہوگا۔ جو شخص اپنی محنت کی روٹی حاصل کرسکتا ہے اسے کھانا کھلانے سے ہم نیک نہیں ہوسکتے بلکہ اس سے دنیا میں کاہلی پیدا ہوتی ہے اور کاہلوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب تندرست اور توانا انسان کو مفت میں کھانا ملے گا تو وہ بالکل کاہل اور مفت خور ہو جائے گا۔ اس لئےجب کسی سےبھلائی یا نیکی کرنی ہو تو یہ سوچ لینا چاہیے کہ اس کو کس چیز کی ضرورت ہے، بے سوچے سمجھے کسی کو کچھ دے دینے کو احسان نہیں کہتے۔ جو غیر محتاج کو دیتا ہے وہ قوم کا گنہگار ہوتا ہے۔ جو لوگ تندرست اور توانا ہیں اور ان کے پاس گزر اوقات کے لئے کچھ نہیں ہے، انہیں ایسے کاموں میں لگنا چاہیے جس سے وہ اپنی روزی روٹی خود حاصل کر سکیں۔ اس سے وہ ہمیشہ محنتی بنے رہیں گے اور دوسروں کے سر کھانے کی بےعزتی انہیں نہیں اٹھانی پڑے گی۔

دنیا میں بعض مشہور نیک اور محسن گزرے ہیں۔ جیسے عرب میں حاتم، مغل دور کے خان خانان دوسروں کے لیے اچھے اور نیک کام کرتے رہے۔ آج بھی اکثر لوگ دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنے خون کا عطیہ پیش کرتے ہیں ایسے ہی لوگ سچے محسن ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کی ایثار و قربانی پر یہ شعر پورا اترتا ہے۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں



Close