پاکستان کے موجودہ مسائل پر ایک مضمون

پاکستان ایک غریب اور ترقی پذیر ملک ہے۔ قلم کی نوک سے لہو روشنائی کی صورت نکلتا ہے جب ملک کے ساتھ کی گئی ناانصافی کی داستان کو تحریر کیا جاتا ہے۔ اول تو بحیثیت قوم ہم خود منظم طور پر کسی طرح اس ملک کے ساتھ مخلص نہیں۔ ہم نے اس ملک کو اپنے گھروں کے دروازے کھول کر پان کی پچکاری، کوڑا اور آلودگی فراہم کی ہے۔ ہم نے اس ملک سے ملنے والی بے شمار نعمتوں کو بڑی فراغ دلی سے ضائع کیا ہے۔ پانی کے نلکے کے نیچے دو گھنٹے تک موٹر سائیکل دھونے کے بعد اس گرتے ہوئے پانی کو بند نہ کر کے ہم پانی کو بے دریغ ضائع کرتے ہیں۔

مگر یہ تو ایک کثیر تعداد میں مدتوں سے ہوتا آ رہا ہے۔ نہ جانے کون سی غیر معمولی قوتیں ہمارے ملک کو تھامے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ناقص بےروزگاری کا بڑا مسئلہ ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ روزگار کا فقدان کافی عرصے سے دیکھا جارہا ہے۔ اگر نوجوانوں کو مؤثر کاروبار کی فراہمی نہ کی گئی تو بےروزگاری بہت سے جرائم کی جڑ ثابت ہوگی۔

ان بڑھتی ہوئی وارداتوں سے سنگ ملک کا مستحکم ہونا کسی طور ممکن نہیں۔ بے روزگاری پر لگام ڈالنا حکومت کی اولین ترجیح میں شامل ہونا چاہیے۔ وطنِ عزیز میں نوجوانوں کی شرح نصف سے زیادہ ہے جو کہ ملک کا سرمایہ ہیں۔ سرمایہ اچھی جگہ وقت پر نہ لگانا بھی احمقانہ پن ہے۔ بے روزگاری سے دن بہ دن چوری، ڈکیتی اور دیگر چھوٹی بڑی وارداتوں کا منظرِ عام پر آنا معمول بن گیا ہے۔

  • آلودگی سے ہمارا پرانا تعلق ہے‌۔ جس جگہ جانور رہتے ہوں وہاں گندگی کا ہونا عام بات ہے لیکن انسان جہاں رہتا ہے اسے صاف رکھنا مسلمانوں کے نزدیک نصف ایمان ہے۔
  • استعمال کردہ اشیاء کی پیکنگ، شاپر، پلاسٹک جو کہ معاشرے میں ایک ناسور کی مانند ہے، جس کا ختم ہونا تقریبأ ناممکن ہے۔
  • سو سال تک شاپنگ بیگ اور پلاسٹک زیرِ زمین باقی رہتا ہے۔ جس سے پودوں کی پیداوار اور فصلوں کو کافی نقصان پہنچتا ہے۔
  • کراچی کے ندی نالے اور دیگر نہریں بھی اس سے بری طرح بڑے پیمانے پر متاثر ہوئے ہیں۔جس سے نئی نئی بیماریوں نے جنم لیا۔
  • لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں اب تک اس آلودگی کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
  • وقت پر اس بڑھتی ہوئی بیماریوں کو روک لیا جائے وگرنہ ہمیں ایک ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
  • ملک میں بے شمار بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ نہ جانے ہم بحثیت قوم کیسے مطمئن ہو کر سو جاتے ہیں جب کہ ملک کا سرمایہ کس کثرت سے ضائع ہورہا ہے۔
  • پاکستان میں ہر فرد نے ہی حکومتِ وقت سے شکوے کیے ہیں مگر ہم نے اپنی ذمہ داری کو خود ہی نہیں نبھایا۔
  • ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے ہم نے اسے صرف طنز ،مذاق اور کھلواڑ دیا ہے۔
  • پاکستان میں بہت سے مسائل ہیں مگر یہ حل کرنے سے ہی حل ہونگے۔
  • ان کو ایسے فراموش کرنے سے نہ تقدیر بدلے گی نہ ان کا کوئی پرسانِ حال حل نکلے گا۔
  • ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لئے ہمیں پہلے اپنی ذمہ داریاں سمجھنا ضروری ہیں۔