Advertisement

قانون کا احترام پر ایک مضمون

ہمارے ملک ہندوستان کا قانون 26 جنوری 1950ء میں قائم ہوا۔ اس دن کو ہم سبھی بڑے ہی جشن کے ساتھ مناتے ہیں۔ ہمارے ملک کی سرکار نے ہم سب کی حفاظت کے لئے ہی قانون بنایا۔ ہمارے ملک کے بنائے ہوئے قانون کا ہمیں ایمانداری کے ساتھ احترام کرنا چاہیے تبھی جاکر ہمارا ملک اور ملک میں رہنے والے لوگ محفوظ رہیں گے۔

Advertisement

دھیرے دھیرے ہمارے ملک کے قانون کو قائم ہوئے 70 سال پورے ہو رہے ہیں اور 70 سالوں سے اس دن کو ہم بہت ہی خوشی کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس دن نہ جانے کتنے وعدے کرتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کے لیے پوری ایمانداری سے ہر کام کریں گے۔ اپنے ملک کا احترام کریں گے، اس کے بنائے ہوئے قانون کو کبھی نہیں توڑیں گے لیکن اس ایک دن کے بعد ہم ساری قسمیں اور سارے وعدے بھول جاتے ہیں۔ ملک کے بنائے ہوئے ہر چھوٹے بڑے قانون کو ہم بڑی آسانی سے توڑتے ہیں اور ہمارے ملک کے سپاہیوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر نکل جاتے ہیں۔

Advertisement

لیکن اس میں ان کا کوئی بھی نقصان نہیں ہوتا کیونکہ اگر ہم نے ملک کے بنائے ہوئے قانون کو توڑا ہے تو وہ ہماری حفاظت کے ہی لئے ہے اور قانون توڑنے کا مطلب صاف ہے کہ ہم اپنی حفاظت خود ہی نہیں کرنا چاہتے۔ پھر قانون توڑنے سے یا تو حادثوں میں ہماری موت ہو جاتی ہے یا پھر ہمارے جسم کا کوئی حصہ خراب ہو جاتا ہے۔

Advertisement

اگر ہمارے ملک کی سرکار نے بائک یعنی موٹر سائیکل چلانے والوں کے لیے ہلمٹ اور جوتے پہننے کا قانون بنایا ہے تو اس میں ہماری ہی بھلائی ہے۔ اس سے حادثہ ہونے پر ہمارے جسم پر گہری چوٹ نہیں لگے گی اور ہماری زندگی محفوظ رہے گی۔ اگر ہمارے ملک کی سرکار نے سگنل ہونے پر گاڑی چلانے کے لیے کہا ہے تو وہ بھی ہماری حفاظت کے لیے ہی ہے۔

ہمارے ملک میں بہتر قانون تو ہے لیکن اس قانون کا احترام کوئی نہیں کر رہا ہے۔ ملک میں کتنا بھی قانون بن جائے لیکن جب تک کوئی اس قانون کو اپنائے گا نہیں تو پھر قانون بنانے کا کیا فائدہ۔ آج ہم خود قانون پر نہیں چل رہے ہیں۔ کبھی سیاستدانوں کی وجہ سے تو کبھی خود غرضی کی وجہ سے ہم اپنے ملک کے قانون کی عمل آوری نہیں کرتے۔

Advertisement

ہمارے ملک میں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو ملک کے قانون کا احترام کرنا تو دور کی بات ہے وہ اپنے ملک سے غداری کرتے ہیں۔ ایسے لوگ آتنگوادی یعنی دہشت گرد کہلاتے ہیں۔ جیسے آج کے دور میں آتنگواد کا آتنگ کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے اسی طرح اور بھی گناہ سامنے آرہے ہیں۔ لوگ قانون کے ہوتے ہوئے بھی قتل کر کے آزاد گھوم رہے ہیں۔ لڑکیوں اور عورتوں کی عصمت دری کرکے گھوم رہے ہیں اور یہ معاملہ کچھ زیادہ ہی سامنے آ رہا ہے۔ اس سے یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ ملک میں ہونے والے ان سب فسادوں کی وجہ کہیں نہ کہیں ہم خود ہی ہیں۔

ملک میں ہونے والے دنگے فساد ہم تب تک نظرانداز کرتے ہیں جب تک ہم خود اس کے شکار نہ ہوجائیں۔ آج ہمارا ملک بہت ہی خطرے کے دائرے میں آ گیا ہے۔ دوسرے ملک سے زیادہ تو ہمارے خود کے ملک کے لوگ ہی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

Advertisement

اپنے ملک کے لیے ہمیں سنبھلنا ہوگا اور ہمیں کہیں سے بھی قانون کے خلاف ہونے والے کاموں کا پتہ چلے تو فوراً قانون کے سپاہیوں کو اطلاع کرنی ہوگی۔ ہر چھوٹے بڑے قانون کی ہمیں خود عمل آوری کرنی ہوگی۔ اور اپنے ملک کے قانون کا احترام کرنا ہوگا۔ جب ہم اپنے ملک کا خود احترام کریں گے تبھی جا کر دوسرے ملک کا شخص بھی ہمارے ملک کی قدر کرے گا اور تبھی ہمارا ملک اور ہم خود بھی محفوظ رہیں گے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement