Advertisement

ماں باپ کی عزت

ماں باپ جنہوں نے ہمیں پالا ، ہماری چھوٹی بڑی خواہشیں پوری کیں ان کی عزت و احترام کرنا بھی ہم پر فرض ہے۔ اخلاق کا سب سے پہلا سبق بھی والدین کا ادب ہی ہے۔

Advertisement
  • حقوق دو طرح کے ہوتے ہیں
  • حقوق اللہ‎ ، حقوق العباد

حقوق اللہ‎ تو معاف ہو سکتے ہیں لیکن حقوق العباد تب تک معاف نہیں ہو سکتے جب تک بندہ خود اپنے حقوق معاف نہ کرے اور حقوق العباد میں سب سے مقدم حق والدین کا ہے۔

Advertisement

ماں باپ کا احترم قرآن کی روشنی میں

قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ترجمہ: "اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا کہ تم خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو مگر اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو.”

Advertisement

ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ ترجمہ ” اپنے والدین کا اس طرح خیال رکھو جس طرح انہوں نے تمہارے بچپن میں تمہارا رکھا.”

ماں باپ کی عزت حدیث کی روشنی میں

"اور آپ کے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو اور اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس ہوں اور بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک مت کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا بلکہ ان سے عزت اور تکریم سے بات کرنا…”

Advertisement

سائنس کے لحاظ سے والدین کی عزت

ایک تازہ ترین تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو لوگ بوڑھے افراد کے لئے منفی رویہ رکھتے ہیں ان کی آئندہ زندگی میں دل سے منسلک بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق وہ نوجوان اور ادھیڑ عمر افراد جو بزرگوں سے منفی رویہ اختیار کرتے ہیں ، ان کی آئندہ زندگی میں سٹروک ،دل کے حملوں اور دیگر سنگین بیماری میں مبتلا ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے بنسبت ان کے جو بزرگوں سے مثبت رویہ رکھتے ہیں۔

والدین کی عزت کرنے سے کیا مراد ہے؟

اپنے والدین کی عزت کرنے سے مراد اپنے الفاظ اور اعمال میں باادب ہونا اور انکے رتبے کے لئے تعظیم کا اندرونی رویہ رکھنا ہے۔ ان کی کہی اور بن کہی خواہش پوری کرنا ہے۔

اخلاقی اور مذہبی طور پر والدین کی عزت کرنا ہم پر فرض ہے۔ ہماری زندگی میں رونق ہمارے والدین کی وجہ سے ہی ہوتی ہے اور انہی کے بل بوتے پر ہم ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کی پرورش کرتے وقت دن رات ایک کر دیتے ہیں اور اپنے خون پسینے کی کمائی کا روپیہ روپیہ بھی اپنی اولاد کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔ یوں تو تمام جاندار اپنے بچوں کو پالتے ہیں لیکن انسان اشرف المخلوقات ہیں اور ان کے لیے اپنی اولاد کو پالنا باقی جانداروں سے مختلف اور مشکل ہے کیونکہ ہم انسانوں کی ضروریاتِ زندگی پیسوں سے ہی پوری ہوسکتی ہیں جس کے لیے ہمارے والدین انتھک محنت کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر اپنے والدین کے لئے وقف کردیں۔ انکی خدمت کریں، ان سے عزت سے پیش آئیں، انہیں تحفے تحائف دیں اور انہیں خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
اللّه ہمیں ہمارے والدین سے حسن سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement