ہندوستان کے معاشرے کی برائیاں

صدیوں پہلے ہندوستان کے معاشرے میں اتنی برائیاں نہیں تھیں جتنی آج کے اس دور میں موجود ہیں۔ کبھی اس ملک کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ملک کی حالت بہت ہی زیادہ خراب ہوئی جا رہی ہے۔ اسکی بہت ساری وجوہات ہیں۔ جو اس طرح سے ہیں۔

فرقہ واریت

فرقہ پرستی آج کے دور میں سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کی جڑیں انگریزوں نے بوئی تھیں اور آج کے سیاستدان اس میں پانی ڈال کر اسے بڑا کر رہے ہیں۔ میرٹھ میں 1982ء اور 1987ء میں بہت بڑے دنگے ہوئے تھے اور 1991ء اور 1992ء میں بھی دو بار بہت بڑے دنگے ہوئے۔ ایسے بار بار دنگوں کا ماحول ہونے کی وجہ سے ہر طرف بی۔ ایس۔ ایف۔اور پی۔ اے۔ سی۔لگوانے کی وجہ سے عام لوگوں کو بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جہیز کی لعنت

ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ جہیز ہے اور سب سے بڑی برائی بھی یہی ہے۔ جہیز کے لالچی لڑکی کے باپ سے بھاری تعداد میں جہیز مانگتے ہیں۔ جس میں کچھ روپیے، زیور، فرنیچر، اس کے علاوہ اور بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ گاڑی موٹر کی بھی مانگ کر لیتے ہیں اور مجبور باپ کو جہیز دینا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی تو ان کے منہ مانگی رقم یا جہیز نہ ملنے پر آئی بارات واپس لوٹ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے بیٹی کے باپ کی نظر معاشرے میں جھک جاتی ہے۔ شادی ہو جانے کے بعد بھی لڑکی کے سسرال والے کچھ نہ کچھ مانگ کرتے رہتے ہیں۔ اور مانگ پوری نہ ہونے کی وجہ سے اکثر بیٹیوں کو جلا کر مار ڈالتے ہیں۔

فقیر

ہمارے ہندوستان میں ہر جگہ پر چاہے ریلوے اسٹیشن ہو یا بس اسٹینڈ، مندر ہو یا مسجد میلا ہو یا بازار ہرجگہ لوگوں کو فقیروں کی بھیڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں نے پیٹ بھرنے کا سب سے آسان طریقہ بھیک مانگنا بنالیا ہے۔ ایسے اسمارٹ سٹی کا کیا فائدہ جس میں ہر جگہ پر اپنا پیٹ بھرنے کے لیے ایک فقیر کھڑا ہو۔

ہندوستان کی بڑھتی ہوئی آبادی

ہندوستان میں زیادہ تر گاؤں کے لوگ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں اور کبھی لڑکی پیدا ہوئی تو لڑکے کے انتظار میں بھی بچے پیدا ہوتے جاتے ہیں۔ اس طرح خاندان کو آگے بڑھانے کے لئے بھی یہ لوگ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں بہت تیزی سے آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔

جاہلیت

ہمارے ملک میں بنا پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھتی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگ اپنے بچوں سے کھیتوں میں کام کروانے کی وجہ سے انہیں اسکول نہیں بھیجتے۔ جس کی وجہ سے وہ جاہل رہ جاتے ہیں۔ ہندوستان کی صرف %40 ہی آبادی پڑھی لکھی ہے۔

مکان کا مسئلہ

کچھ شہروں میں رہنے کی بہت زیادہ پریشانی ہے۔ رہنے کے لیے مکان کا مسئلہ کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے۔ ہمارے ملک میں ہر سال 21 لاکھ سے بھی زیادہ لوگوں کو رہنے کے لئے گھر کی کمی کا مسلۂ درپیش ہے۔

بچوں کا خیال نہ رکھنا

کچھ گھروں میں میاں بیوی دونوں کام کرنے باہر جاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کما سکیں۔ اس وجہ سے وہ اپنے بچوں کا خیال نہیں رکھ پاتے اور بچوں کی تعلیم و تربیت اچھے سے نہیں ہو پاتی۔ اسکول جانے کے بجائے وہ بچے ایسی ایسی جگہوں پر جانے لگتے ہیں جہاں انہیں کبھی بھی نہیں جانا چاہیے اور بری عادت بھی لگ جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں تیزی سے برائیاں پھیلتی چلی جارہی ہیں۔ اگر ہمیں ان برائیوں سے لڑنا ہے تو ہمیں ہر جگہ علم پھیلانا ہوگا۔ کیونکہ علم نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا ملک برائیوں کی طرف کھینچا جارہا ہے۔ جب انسان تعلیم یافتہ ہو جائے گا تو صحیح اور غلط کو سمجھنے لگے گا اور تب جاکر ہمارا ملک برائیوں سے آزاد ہوگا۔ ابھی بھی وقت ہے ہم سب کو ایک ساتھ مل کر معاشرے کی برائیوں کو ختم کرنا ہوگا۔