سچائی پر ایک مضمون

جو بات جیسی معلوم ہو اس کو ٹھیک اسی طرح بیان کرنے کو سچ بولنا کہتے ہیں۔سچ بولنا ایک صفت ہے جو انسان میں جرائت، ہمت، کردار، حوصلہ اور بہادری کے جذبات پیدا کرتا ہے۔جھوٹ بولنا نہ صرف گناہ ہے بلکہ ایک اخلاقی گناہ بھی ہے جس کا جرم قومی اور سماجی لحاظ سے بھی بہت ہی برا ہے۔ جھوٹ بولنے والے کا اعتبار سماج اور قوم میں نہیں ہوتا۔ اگر سب لوگ جھوٹ بولنا شروع کردیں تو سارے جہان کا کام رک جائے اور دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

دیکھا گیا ہے کہ جھوٹ بولنے والوں کی حالت بہت خراب ہوتی ہے۔ وہ سماج اور معاشرے میں قابل اعتماد نہیں ہوتے۔ وہ کتنا ہی سچ کیوں نہ بولیں پھر لوگ ان پر بھروسہ نہیں کرتے کیونکہ لوگوں نے ان کو آزما لیا ہوتا ہے۔جھوٹی بات ہمیشہ کے لیے چھپ نہیں سکتی۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ میرا جھوٹ کسی کو معلوم نہ ہو گا اور نہ وہ اصل حقیقت معلوم کرے گا، وہ سخت غلطی میں ہے۔ جب ایک مرتبہ بھی لوگوں کو جھوٹ کا پتہ لگ جائے گا تو اس شخص کا ہمیشہ کے لئے اعتبار جاتا رہے گا۔
سچائی زبان کا جوہر ہے۔ جو سچ بولتا ہے اس کا دل پاک و صاف ہوتا ہے۔ عاجزی، انکساری وغیرہ اچھے اوصاف کی وجہ سے وہ ایک معزز اور باعزت شخص تصور کیا جاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ اگر سچ بولنے والے کی خواہش برے کام کی طرف ہو تو اسے ہمیشہ یہ خیال رہے گا کہ اگر کہیں مجھ سے کوئی شخص پوچھ بیٹھے تو مجھے سچ ہی بولنا پڑے گا۔ اس لئے برا خیال آتے ہی وہ اس کام سے باز آجائے گا۔ لہذا ہمیں ہمیشہ سچ بولنے کی عادت پیدا کرنی چاہیے۔

بہت سے لوگ تو ظاہر میں سچے معلوم ہوتے ہیں مگر باطن میں وہ ویسے نہیں ہوتے۔ اس طرح سچ کے پردہ میں جھوٹ کو چھپانا سخت گناہ ہے۔اس کے علاوہ جس بات کے کہنے سے کوئی فتنہ پیدا ہو، خواہ وہ بات سچ ہی ہو اسے کہنا غیر مناسب ہے۔ اگر ہم لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیشہ سچ بولیں جھوٹ کبھی نہ بولیں، تو ہمیں چاہئے کہ خدا سے ڈرتے رہیں اور اسے ہمیشہ حاضر اور اپنے اعمال کا ناظر سمجھیں۔ کیونکہ کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں خدا موجود نہ ہو۔ وہ ہر جگہ موجود ہے اور سب چیزوں کو چاہتا ہے۔ جو انسان خدا سے ڈرتے ہیں وہ کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے۔ ایسا کون شخص ہوگا جو دل سے خدا کو حاضر و ناظر سمجھے گا اور جھوٹ بولے گا۔ لہذا ہم لوگوں کو چاہئے کہ خدا سے ڈرتے رہیں اور کبھی جھوٹ نہ بولیں۔

Close