والدین کا احترام پر ایک مضمون

والدین اللہ کا دیا ہوا نایاب تحفہ ہیں۔ اولاد سے والدین کا رشتہ ایسا ہے کہ وہ بنا کسی فتنہ کے، بنا کسی شرط کے اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں، ان کی ہر خواہشات کو پورا کرتے ہیں، ان کی صحت سے لے کر ان کی ہر ضرورت اور ہر خوشی کو پورا کرتے ہیں۔ والدین کے احسانات کا بدلہ انسان اپنی پوری زندگی میں نہیں چکا سکتا۔ والدین ہماری خوشی کے لیے اپنی زندگی تک بھول جاتے ہیں۔

اللہ تبارک تعالی کا فرمان ہے کہ اپنے ماں باپ کا احسان مانو، ان کا احترام کرو۔ اگر اللہ کے بعد کوئی اہمیت رکھتا ہے تو وہ والدین ہیں جو ہمیں دنیا میں رہنے کے قابل بناتے ہیں، ہمیں چلنا سکھاتے ہیں، کھانا پینا٬ اٹھنا بیٹھنا سکھاتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالی ہر انسان کو حکم دیتا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ ان کے احسانات کو مانو۔ کہیں پر بھی ایسا نہ ہو کہ تم انہیں بھول جاؤ۔

اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا کہ جب تمہارے والدین بوڑھے ہوجائیں اور جب ان کا دماغ بچوں کی طرح ہو جائے اور وہ بچوں کی طرح جھنجھلانے لگے اور ضد کرنے لگیں تو اس وقت اگر تو نے ‘اف’ بھی کیا تو میں تجھے معاف نہیں کروں گا۔

اللہ تبارک و تعالی نے ماں باپ سے اف بھی کرنا حرام قرار دیا ہے اور آج کل کی اولاد ماں باپ کے ساتھ بے حد برا سلوک کرتی ہیں۔ ان کو جھڑکتی ہیں اور بدزبانی کرتی ہیں۔ اللہ ایسی اولادوں پر عذاب نازل کرتا ہے۔

اللہ تبارک و تعالی کہتا ہے کہ اپنے والدین سے نرم لہجے میں بات کرو، شریفانہ انداز میں بات کرو۔ انہیں لگنا چاہیے کہ ہاں یہ ہماری اولاد ہے جس کی ہم نے پرورش کی ہے، واقعی یہ ہمارا نیک بچہ ہے۔ اللہ کہتا ہے اپنے والدین کے آگے ہمیشہ جھکے رہو۔ ان کے سامنے اپنے بازوؤں کو جھکا کر کھڑے ہو۔

ماں باپ کا اس قدر احترام ہے کہ خدا چھوٹی چھوٹی بات کے لئے بھی کہہ رہا ہے ان کے احترام کی کتنی زیادہ انتہا ہے۔ اپنے آپ کو جھکانا٬ نرم لہجے میں بات کرنا اور اف تک نہ کرنا اتنی زیادہ انتہا ہے۔

اور اتنی انتہا کے بعد بھی ان کے لیے سجدے میں گر کر اللہ کے سامنے رو کر گڑگڑا کر انکے گناہوں کے لئے ان کی مغفرت کی دعا کرو۔ ان کے زندہ رہنے پر بھی اور مرنے کے بعد بھی۔

اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے کہ اپنے ماں باپ کے اس رحم کو یاد کرو جو انہوں نے تم پر بچپن میں کئے ہیں۔ اگر آج ہم اپنی زندگی جی رہے ہیں تو اس زندگی کو بہتر بنانے والے ہمارے والدین ہیں۔ جس وقت ہم پیدا ہوئے تو ہماری کوئی اہمیت نہیں تھی۔ ہم صرف ایک گوشت کا ٹکڑا تھے۔ ہم سب کو پالنے والے٬ ہمیں قابل بنانے والے ہمارے والدین ہیں۔

اگر ہمارے ماں باپ ہمارے اوپر رحم نہیں کرتے تو ہم بڑے ہو کر قابل نہیں بنتے۔ لیکن قابل ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ان کے سامنے بدزبانی کریں، ان سے برے لہجے میں بات کریں۔ ماں باپ ایک انمول نعمت ہیں جنہیں خدا نے ہمارے لئے تحفہ بناکر بھیج دیا ہے۔ ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے، ان کے سامنے سر جھکا کر بات کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ ادب سے پیش آنا چاہیے۔ ان کا احترام کرنا چاہیے۔ اور ان کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ ہمارے ماں باپ پر اسی طرح رحم کر جس طرح انہوں نے بچپن میں ہمارے اوپر کیا تھا۔ اے رب تو ان کے گناہوں کو معاف کر دے۔ انکی غلطیوں کو معاف کردے۔

قرآن مقدس کی سورہ احکاف آیت نمبر 15 میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ یہ میرا حکم ہے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو، ان کا احترام کرو۔ جو شخص اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرے گا اور ان کا احترام نہیں کرے گا ان کے ساتھ ادب سے پیش نہیں آئے گا تو وہ والدین کی نافرمانی کا گناہ گار بن جائے گا۔ اور اللہ تبارک و تعالی والدین کی نافرمانی کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اللہ پاک ہم سب کو والدین کا احترام کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔