زمین پر ایک مضمون

اللہ رب العزت سب سے بہتر جانتا ہے کہ خلقت کا آغاز کس افراد سے کیا گیا؟ زمین کا آغاز کب ہوا؟ یہ بھی اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔

اللہ کی بنائی ہوئی اس زمین پر ہم رہتے ہیں۔ اگر زمین نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ ساری دنیا اس زمین پر ہی قائم ہے۔ زمین پر ہی انسان پیدا ہوتا ہے اور زمین پر ہی اس کا بچپن، جوانی اور بڑھاپا گزرتا ہے اور مرنے کے بعد انسان کو اس زمین میں ہی مل جانا ہے۔ ہم سب کی زندگی میں زمین کی بہت ہی زیادہ اہمیت ہے۔

اللہ نے زمین پر انسانوں کے ساتھ ساتھ پیڑ، پودوں کو پیدا کیا۔ اناج میں گیہوں٬ چاول٬ سبزیاں، پھل وغیرہ پیدا کیے جس کے ذریعے انسان اپنی زندگی آسانی سے گزار سکے۔اس زمین پر صرف ہم انسان ہی نہیں رہتے بلکہ اللہ کی پیدا کی ہوئی اور بھی بہت ساری مخلوقات زندگی بسر کرتی ہیں۔

اس زمین پر ہی ہم زندگی گزارتے ہیں اور اپنا گھر بناتے ہیں۔ لیکن جس زمین پر ہم رہتے ہیں اس کے اندر کیا ہے اور یہ کتنی گہری ہے ہم نہیں جانتے۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ زمین کو اگر کھودا جائے تو اس کے اندر سے کیا ملے گا۔

سائنس والوں نے زمین کی کھدائی کی یہ جاننے کے لیے کہ اس کے اندر سے کیا نکلتا ہے۔ انہوں نے 7 میل زمین کو کھودا تو ایسے نشانات نکلے جسے دیکھ کر ہر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔

روس میں ایک 7 میل کا گھڑا کھودا گیا جسے کولاپور حال کہا جاتا ہے۔ یہ گھڑا سمندر کی گہرائی سے بھی زیادہ گہرا ہے۔ زمین کی گہرائی معلوم کرنے کے لئے اس گھڑے کی کھدائی 1970ء میں شروع کی گئی اور اس کے اندر 3 اہم دریا ختی بسالٹ کا پتا چلا۔

زمین کے اندر موجود پتھریلی تہہ میں اہم دریا ختی بسالٹ نامی تہہ موجود ہی نہیں ہے۔ اور سائنسدانوں کا خیال تھا کہ زمین کی پتھریلی تہہ میں بلند درجہ حرارت کے پائے سخت مادے مائے حالات موجود ہیں اور انہیں تہہ میں سے ایک تہہ بسالٹ کی موجود ہے۔ اس کھدائی میں ماحری کو بسالٹ نہیں ملا لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس تہہ کا کوئی وجود نہیں ہے۔

زمین کی گہرائی میں پانی عموماً اوپر ہی ہوتا ہے جو تھوڑی سی کھدائی کرنے پر اوپر نکل آتا ہے۔ اس کا ثبوت باہر لگے ہوئے نل اور ہینڈ پمپ سے ملتا ہے اور اس پانی سے لوگ اپنی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔

سائنس دانوں نے پانی کی گہرائیوں سے بہت دور چار میل کے نیچے بھی پانی دریافت کیا۔ ایسی گہرائی جس کا انسان کبھی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا اور سب سے زیادہ حیرت انگیز کرنے والی بات پانی کی گہرائی سے اور نیچے جانے پر پتہ چلی۔ زمین کے اندر 7 میل کی گہرائی کے نیچے بھی زندگی بسر ہوتی ملی۔ اللہ کی کچھ مخلوق زمین کی گہرائی کے نیچے بھی ملیں اور کچھ پتھر بھی دیکھنے کو ملے۔ ریسرچ پر پتہ چلا کہ یہ پتھر کم سے کم دو ارب سال کی عمر کے ہیں۔

اس کے علاوہ جیسے جیسے کھدائی ہوتی گئی زمین کی مضبوطی میں اضافہ ہوتا گیا۔ کھدائی کرنے والوں کا کہنا تھا کہ مزید زمین کی کھدائی کرنے میں ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم کسی پلاسٹر سے ڈرل کر رہے ہیں۔

کھدائی کے دوران جب پانی دریافت ہوا تو اسے لوگوں نے حضرت نوح کے دور میں آنے والے سیلاب سے جوڑنا شروع کر دیا جس کے بعد زمین پر دوبارہ زندگی کا آغاز ہوا تھا۔

لوگوں کا ماننا تھا کہ حضرت نوح کے دور میں آنے والے سیلاب کی کہانی جھوٹی نہیں تھی۔ اس پانی کا ملنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ کی ہر چیز سچی ہے اللہ کی اس بنائی ہوئی دنیا کو اللہ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔

Advertisements