فانی بدایونی

شوکت علی خان نام اور تخلص پہلے شوکت بعد میں فانی اختیار کیا۔والد کا نام محمد شجاعت علی خان تھا جو بدایون کے رئیس تھے اور پولیس میں انسپکٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔فانی 13ستمبر 1879ء کو اسلام نگر بدایون میں پیدا ہوئے۔فانی کے آباء واجداد کابل کے رہنے والے تھے۔فانی کے دادا بشارت خان ہندوستان میں آئے اور اکبر آباد میں آباد ہوگئے۔بعد میں اپنی ذہانت کی وجہ سے اتنی ترقی کی کہ بدایون کے گورنر بن گئے۔ان کی جائیداد 184 مواضعات پر مشتمل تھی۔غدر 1857ء کے بعد کچھ بھی نہیں بچا سب کچھ فساد کی نظر ہوگیا۔فانی کے والد نے اپنی قابلیت اور طاقت کی بنا پر عزت و آبرو کی زندگی بسر کی۔محکمہ پولیس میں سب انسپکٹر اور پھر انسپکٹر بھی تھے۔مگر ملازمت کو غلامی سمجھتے تھے اس لیے انہوں نے فانی کو اعلیٰ
تعلیم حاصل کرنے کی طرف راغب کیا۔

دستور زمانہ کے مطابق فانی نے تیرہ سال کی عمر تک عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد 1893ء میں گورنمنٹ ہائی سکول میں داخل ہوئے۔1895ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1897ء میں انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔اس کے بعد بریلی کالج میں داخلہ لیا، 1901ء میں اسی کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔اور وزیرآباد ہائی سکول میں بحیثیت مدرس ملازمت حاصل کرلی۔کچھ عرصے کے بعد اسلامیہ ہائی سکول میں تبادلہ ہو گیا۔ اس کے بعد ترقی کرکے انسپکٹر آف سکولز بن گئے اور گونڈا میں تعینات ہوئے۔اس کے بعد 1907ء میں فانی نے علی گڑھ یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور 1908ء میں لکھنؤ میں وکالت شروع کر دی،لیکن انہیں وکالت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی صرف والد کے مجبور کرنے پر وکالت کا امتحان پاس کیا اور وکالت کرنا بھی شروع کردی۔

فانی 1913ء میں بدایون واپس چلے گئے اور وہیں رہنے لگے۔اس کے بعد آگرہ سے ایک رسالہ "تسنیم” جاری کیا۔ 1932ء میں حیدرآباد چلے گئے لیکن صحت کی خرابی کی وجہ سے واپس چلے آئے۔تندرست نے تو کچھ دنوں کے لیے آگرہ قیام کیا پھر حیدرآباد چلے گئے وہاں ایک ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر ہو گئے۔اسی زمانے میں بیوی کا انتقال ہوگیا پھر 1933ء میں ایک جوان بیٹی وفات پا گئی۔ان صدموں نے فانی کو نہایت پریشان اور غمزدہ کردیا۔ ان کی ساری زندگی پریشان حالی، مالی اور معاشی تنگی میں گزری۔مختلف شے اختیار کیے سکونت بار بار بدلی مگر پھر بھی بدقسمتی نے پیچھا نہ چھوڑا۔فکر معاش سے انہیں کبھی نجات نہ ملی۔آرام و فراغت مقدر میں نہ تھی اسی لئے غم و الم اور یاس و حسرت کا پیکر بن گئے۔فانی کی زندگی کا آخری حصہ نہایت ناکامیوں اور مایوسیوں میں گزرا۔اسی یاس و حسرت کے عالم میں 27 اگست 1941ء کو وفات پائی۔اسی داخلی کیفیت کا اثر ان کی شاعری پر بھی ہے۔

شاعرانہ عظمت


فانی کو ابتدا سے ہی شعر و شاعری کا شوق تھا طبعیت بھی شعرو شاعری کی طرف مائل تھی۔چنانچہ فانی نے پہلی غزل 1890ء میں گیارہ سال کی عمر میں کہی۔والد کی طرف سے پابندی کی وجہ سے فانی کو کسی صاحب فن سے اصلاح کا موقع نہیں مل سکا۔فانی 1890ء تک نام ہی کو تخلص کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ 1899ء میں ایک جان کا حادثہ پیش آیا جس سے متاثر ہو کر انہوں نے اپنا تخلص فانی رکھا۔

فانی پہلے لکھنؤی رنگ سے متاثر تھے پھر دہلوی رنگ میں شاعری کرنے لگے۔غزل گو شعراء میں فانی کے جذبہ عشق و محبت پر قنوطیت کا رنگ غالب ہے۔اس میں میر کا رنگ نمایاں ہے مگر اس رنگ میں ان کا کوئی حریف نہیں ہے۔فانی کے کلام کی ایک خاص خوبی شدت اثر اور معنویت ہے۔فانی کے جذبات میں سچائی کے ساتھ گہرائی ہے۔

تخیل میں گہرائی کے ساتھ باریکی بھی ہے، فانی نے اکثر نئے الفاظ استعمال کیے ہیں اور جدید ترکیبیں پیدا کی ہیں۔فانی کا تخیل مشکل الفاظ اور پیچیدہ تراکیب کا محتاج نہیں ہے۔ان کے کلام کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جذبات، واردات، مشاہدات و تاثرات سب میں جدت اور لطف و اثر موجود ہے۔فانی کو رشید احمد صدیقی نے ‘یاسیات کا امام’ قرار دیا ہے۔ ان کی مایوسی اور درد مندی اردو تغزل کا قابل فخر سرمایہ ہے۔فانی کے اشعار نشتر کی طرح دل میں اتر جاتے ہیں۔

فانی کے کلام میں فلسفہ بھی ہے، وہ غور و فکر کے عادی تھے ان کے کلام میں بہت سے فلسفیانہ اشعار نظر آتے ہیں۔اصل فلسفہ جو فانی کی شاعری کا اہم جزو ہے وہ فلسفہ غم ہے۔انہوں نے انسان کو مجبور محض تصور کیا ہے۔فانی کی غزل گوئی سنجیدہ اور نکھرے ہوئے فلسفیانہ مزاق کی آئینہ دار ہے۔انہوں نے فکروفن کی پرانی روایتوں کو بلاغ انداز میں آب و رنگ عطا کیا ہے اور تازگی بخشی ہے۔غالب کے بعد فانی کے یہاں فکر شاعرانہ کے فلسفیانہ عمل کا ایک واضح اور انفرادی نمونہ ملتاہے۔

تمام ہی نقادوں نے فانی کے غم اور انکی غم پسند فطرت کی طرف اشارہ کیا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ غم ان کی رگوں میں خون بن کر گردش کرتا ہوا نظر آتا ہے اور ان کے وجود میں سما کر جزو ذات بن گیا ہے اور اس غم کی شعاعیں ان کی پوری شاعری پر منعکس نظر آتی ہیں۔فانی کا غم روایتی اور سطحی نہیں ہے اس کے پیچھے ایک فلسفیانہ ذہن کارفرما ہے۔ان کی حقیقت شناس نگاہوں نے زندگی کا قریب سے مطالعہ کیا تھا اور اس زندگی میں غم ان کے سامنے ایک عظیم حقیقت کی شکل میں ظاہر ہوا۔اس احساس نے ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح راسخ کردی کے اس دنیا میں سکون کی تلاش عبث ہے۔موت کی زندگی کے غموں کا خاتمہ کر سکتی ہے۔یہی خیال ان کی شاعری میں "مرگ پرستی” یا "خواہش مرگ” کی شکل میں ہوتا ہے اور وہ موت اور لوازمات موت کا ذکر بڑے والہانہ طور پر کرتے ہیں۔

آج روز وصال فانی ہے
موت سے ہو رہے ہیں راز و نیاز

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانی
زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

فانی کی شاعری میں پائی جانے والی جبرواختیار کی کشمکش بھی ان کے غم آشنا مزاج اور ان کی قنوطیت ہی کی ایک کڑی ہے اور یہ جبر و اختیار کی کشمکش کبھی کبھی انہیں حیرت و استعجاب میں مبتلا کر دیتی ہے۔

جسم آزادی میں پھونکی تو نے مجبوروں کی روح
خیر جو چاہا کیا لیکن بتا ہم کیا کریں

زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں
ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں

فانی کو زبان و بیان پر پوری قدرت حاصل ہے۔وہ اپنے جمالیاتی احساس کی مدد سے اپنے اشعار میں نکھار، دلکشی اور ایسی تصویریں پیش کرتے ہیں جس کی مثال اردو شاعری میں کم تر ہی ملتی ہے۔فانی کو پرمعنی تراکیب تراشنے کا سلیقہ ہے انہوں نے اردو شاعری کا دامن حسین تراکیب سے بھر دیا ہے۔یہ ترکیبیں غالب کی تخلیق کردہ تراکیب کی طرح تہہ دار اور اپنے اندر معانی کی ایک دنیا سمیٹے ہوئے ہیں۔اشعار میں ان تراکیب کا برجستہ و بے تکلف استعمال ایک عجیب کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔

وحشت بقید چاک گریبان روا نہیں
دیوانہ تھا جو معتقد اہل ہوش تھا

سرکار محبت میں ادب بے خبری ہے
اے نشہ دیوانگی ہوش اتر جا

ہر روئے گل کو جلوہ گہہ کی صد بہار
ہر بوئے گل کو میکدہ جام بنا دیا

فانی کو "یاسیات کا امام” "بیوہ کا غم” یا "سوز خواں” کا نام دے کر ان کی عظمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ان کی شاعری میں فکر وفن کا ایسا خوشگوار امتزاج اور دلوں میں اتر جانے والی کیفیت موجود ہے جو ان کے فن کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔اردو غزل گوئی کی تاریخ میں فانی کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ان کے کلام کے کل چار مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں "دیوان فانی”(1921)ء، "باقیات فانی” (1926)ء، "عرفانیات فانی”(1939)ء اور "وجدانیات فانی”(1940)ء مشہور ہیں۔اس کے علاوہ فانی کی نادر تحریروں میں "نقش فانی”، "ارمغان فانی”، "انتخاب فانی” اور "بیاض فانی” مشہور ہیں۔فانی کی نثری تحریروں میں "شعروشاعری” اور"موازنہ نظم و غزل” کو بھی انفرادی حیثیت حاصل ہے۔

Close