Advertisement
  • سبق نمبر 07:

سوال۱: ملائکہ پر تفصیلی نوٹ لکھیں:

جواب:ملائکہ کا لفظ ملک کی جمع ہے جس سے مراد وہ نوری مخلوق ہے جس میں مادہ نہیں ہوتااسی وجہ سے ان میں ذاتی خواہشات نہیں ہوتیں اور جن کاکام حکم باری اللہ کی بجا آوری اور بغیر چون چرا تعمیل حکم ہے وہ اللہ کے کارپرداز ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مختلف کاموں کی بجاآوری کے لئے ہر وقت مستعدرہتے ہیں اور جن کو غنودگی، سستی اور تھکان وغیرہ عارضات نہیں ہوتے۔ ان کی مثال ایک روشنی کی ہوتی ہے۔ جیسے ٹارچ کو اپنے ہاتھ میں لے کر کوئی جس سمت اس کا رخ کرے اسی طرف اس کی روشنی چلی جاتی ہے اور ذرا بھی اس سے انحراف نہیں کرتی بالکل اسی طرح ملائکہ یعنی فرشتوں کا حال ہے کہ ان میں انحراف یا حکم کی تعمیل میں ذرا بھی غلطی اور کمی بیشی نہیں ہوتی۔

Advertisement

ملائکہ بے حد و شمار ہیں لیکن ان میں بھی فرق مراتب ہوتا ہے مثلاً جبرائیل امین علیہ السلام جن کے سپردوحی والہام پہنچانے کی خدمت سپرد کی گئی اور جو اللہ کے برگزیدہ بندوں، یعنی انبیاء کرام علیہم السلام تک اللہ کا حکم پہنچانے پر مامور ہیں یونانی فلسفہ نے انہیں عقل اول تسلیم کیا ہے اور ان کی حیثیت اور منصب کو مانا ہے اس طرح دوسرے بلند فرشتے الگ الگ کاموں پر اللہ کی جانب سے مقرر ہیں جو حکم رب کائناب کے مطابق احکام کی بجاآوری پر مقرر ہیں۔

ملائکہ کا وجود اس لحاظ سے بھی داخل نظام الہیٰ ہے کہ وہ نبیوں کے پاس اللہ اور اس کے برگزیدہ بندوں یعنی انبیاء کرام علیہ السلام تک درمیانی واسطہ بن کر اللہ کے احکام اور اس کا پیغام پہنچائیں اور چونکہ ان میں نفس اور مادی خواہشات نہیں ہوتیں اس لیے اس کے لائے ہوئے پیغامات اور احکامات میں ایک نقطہ کے برابر بھی کمی و بیشی اور غلطی کا امکان نہیں ہوتا اس کو ایک مثال کے ذریعہ یوں سمجھنا چاہئے کہ ”آلہ مکبرصوت“ جسے ہم لاؤڈاسپیکر کہتے ہیں وہی کچھ ہم تک آواز پہنچاتا ہے جو بولنے والا کہتا ہے یہ آواز ہوا کے خلا سے نکل کر ہم تک پہنچتی ہے اور ہوا بظاہر نظر نہیں آتی اس لئے ہم تک آواز اسی ہوا کے واسطہ پہنچتی ہے۔ جوابظاہر آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔

یہ اس درمیانی واسطہ کو فرشتہ سمجھ لیجئے جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر اس کے وجود سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا تو جب ہم کسی لاؤڈ سپیکر سے کوئی بات سن کر یہ یقین کر لیتے ہیں کہ کہنے والے نے جو کچھ کہا ہے وہی صحیح اور درست طور پر ہم تک پہنچاہے تو پھر اسی طرح انبیاء کرام علیہم السلام کے اللہ کے احکام اس درمیانی واسطہ سے صحیح اور من و عن پہنچنے کا ہمیں یقین کر لینا چاہئے۔

اب رہی ہی بات کہ محض اسلام نے فرشتوں اور ملائکہ کے وجود کا اعلان کیا ہے یا دوسرے مذاہب میں بھی ان کا وجود تسلیم کیا گیا ہے تو جہاں تک الہامی مذاہب کا تعلق ہے تو وہ ملائکہ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں اور ہماری طرف وہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ ان کے نبیوں کے پاس فرشتہ کے ذریعہ اللہ کا کلام اور اس کے احکام صحیح طور پر پہنچ رہے ہیں۔ دوسرے مذاہب نے بھی کسی نہ کسی عنوان ان کے وجود کو تسلیم کیا ہےمثلاً عرب ایام جاہلیت میں ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں تصور کرتے تھے جس کا قرآن میں بھی ذکر ہے اور انہیں اپنا حاجت رواجان کرنذرارے پیش کیا کرتے تھے۔

اسی طرح ہندومت میں بھی انہیں کسی نہ کسی طرح مانا گیا ہے اور حکماء یونان نے واضح طور پر ان کے وجود کا اقرار کیا ہے مگر اسلام نے ان کے وجود کو تسلیم کرنا جو ایمان یوں قرار دیا کہ ان کے ذریعہ نبیوں تک اللہ کے احکام کے آنے، کی تصدیق ہوجائے اور یقین کر لیا جائے کہ اللہ کا کلام اور اسکی ہدائتیں اور احکام صحیح طور پر بغیر کسی شک و شبہ کے نبیوں کے ذریعہ تک پہنچی ہیں فرشتے گوبظاہرنبیوں اور اللہ کے درمیان ایک واسطہ ہیں لیکن یہ واسطہ ایسا قابل اعتبار اور یقینی ہے کہ اس کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔

سوال۲: کراماً کاتبین کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

جواب:اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اعمال کی نگرانی کےلیے اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کردیے ہیں۔ جو اس کے ہر چھوٹے بڑے عمل کو محفوظ کرتے جاتے ہیں۔ جو کہ قیامت کے دن اعمال ناموں کی شکل میں ہی ہر شخص کے سامنے پیش کر دیے جائیں گے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ترجمہ: بے شک تم پر نگران (فرشتے) مقرر کیے گئے ہیں۔ بہت معزز اور تمہارے اعمال لکھنے والے۔ (سورۃ الانفطار: ۱۰،۱۱)

اسی طرح ارشاد ہے:
ترجمہ: جو لفظ بھی اس (انسان ) کے منہ سے نکلتا ہے اس کو محفوظ کرنے کے لیے ایک چست نگران(فرشتہ) موجود ہے۔(سورۃ ق: ۱۸)
اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھانے،انسانوں کے اعمالنامے پیش کرنے، جہنم میں مجرموں کو سزادینے اور جنت میں نیکوکاروں کی خدمت کرنے کے جملہ امور مختلف فرشتوں کے سپرد ہیں۔

سوال۳:مشہور ملائکہ کے نام اور کام پر نوٹ لکھیں۔

جواب:ملائکہ میں چار فرشتے بہت مشہور ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے پاس وحی الہیٰ لانے کا کام کرتے رہے ہیں۔ حضرت میکائیل علیہ السلام کے ذمے بارشوں اور ہواؤں کے نظام کی نگرانی ہے۔ ملک الموت حضرت عزرائیل علیہ السلام کے ذمے جان دارمخلوقات کی ارواح قبض کرنا ہےجب کہ حضرت اسرافیل علیہ السلام کے ذمے قیامت برپا کرنے اور پھر مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اللہ کے حکم سے صورپھونکنا ہے۔

سوال۴: فرشتوں پر ایمان لانے سے کیا ہوتا ہے؟

جواب: فرشتوں پر ایمان لانے سے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا شعور بڑھتا ہے۔ اس کے قائم کردہ عظیم الشان نظام اور بے پایاں رحمتوں کا احساس ہوتا ہے۔فرشتوں کی موجودگی پر ایمان کی وجہ سے انسان کو یہ احساس رہتا ہے کہ میرے ہر چھوٹے بڑے عمل کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اسی طرح میدان جہاد اور دین کے مشکل کاموں میں فرشتوں کی تسلیاں ثابت قدمی کا باعث اور ان کی دعائیں انسانوں کی مغفرت کا ذریعہ بنتی ہیں۔