Advertisement

تعارف

فرخندہ لودھی ۲۱ مارچ ۱۹۳۷ء کو ہوشیارپور میں ایک قدامت پسند خاندان میں پیدا ہوئیں۔ پیدائش کے لحاظ سے اپنے بہن بھائیوں میں ان کا چھٹا نمبر تھا۔ والدصاحب پولیس کی ملازمت ترک کر کے محکمہ جنگلات میں ٹھیکیداری کرتے تھے جنہیں مسلسل مالی مشکلات کا سامنا رہا۔ چنانچہ فرخندہ نے اپنا بچپن عسرت کے دور میں گزارا۔ مگر والدہ نے اپنی تینوں بیٹیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔

Advertisement

فرخندہ کو قدرت نے سوچ کا منفرد انداز عطا کیا تھا۔ وہ نہ صرف شاعری کرنے لگیں بلکہ کہانیاں بھی لکھنے لگیں۔ ۱۹۴۷ء میں یہ کنبہ پاکستان ہجرت کر آیا تو منٹگمری (حال ساہیوال ) میں قیام کیا اور بی-اے کرنے کے بعد فرخندہ نے لائبریری سائنس میں ڈپلومہ حاصل کر لیا۔ ان کی عملی زندگی کی لکیر اس ڈپلومے نے متعین کر دی تھی۔ اگرچہ انہوں نے بعد میں ایم-اے بھی کر لیا۔ لیکن اپنی لائبریرین کی ملازمت کو جو کوئین میری کالج لاہور سے شروع ہوئی تھی ترک نہ کیا اور ۱۹۹۷ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے جو اب یونیورسٹی بن چکا ہے ، چیف لائبریرین کے عہدے سے ریٹائر ہو گئیں۔ ان کی شادی ۱۹۶۱ء میں اردو کے معروف ادیب صابر لودھی صاحب کے ساتھ ہوئی۔

Advertisement

ادبی خدمات

فرخندہ لودھی کی پیشہ ورانہ خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اُن کے ہم پیشہ اُنھیں عزت و احترام سے دیکھا کرتے تھے۔ اردو اور پنجابی ادب کے دانشور بھی ان کا اتنا ہی احترام کیا کرتے اور ’’باجی‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ لائبریرین شپ کے پیشے میں بھی فرخندہ لودھی کا بہت ادب و احترام تھا، فرخندہ کی پیشہ ورانہ خدمات کے معترف ہی نہیں بلکہ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

Advertisement

پیشہ وارانہ زندگی

فرخندہ نے ۱۹۵۸ء میں کوئین میری کالج لاہور سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ فرخندہ محض لائبریرین ہی نہ تھیں بلکہ ان کا شمار اردو اور پنجابی کی معروف لکھاریوں میں ہوتا تھا۔ اردو میں ناول نگاری اور افسانہ نگاری کے جوہر دکھانے کے بعد انہوں نے پنجابی میں بھی افسانے، کہانیاں اور ناول تحریر کیے جو بہت مقبول ہوئے۔ انہوں نے خاکہ نگاری بھی کی، ان کا تحریر کردہ خاکہ ’’انور سدید بھائی صاحب‘‘ میں مصنفہ نے ڈاکٹر انور سدید کی نجی زندگی کی جھلکیاں خوبصورت انداز سے قلم بند کی ہیں۔

افسانہ نگاری

فرخندہ لودھی نے اپنے افسانوں میں انسانیت کی پامالی کو موضوع بنایا اور تنگ نظر انسان کی اقدار کشی سے دردناک کیفیت پیدا کی۔ فرخندہ لودھی کے افسانوں میں کردار وسیع تر تناظر میں اپنا باطن عیاں کرتے ہیں اور اس خوشی سے محروم نظر آتے ہیں جو انسانیت کی خدمت بے لوث انداز میں ادا کرنے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ فرخندہ تعمیر میں یقین رکھتی تھیں اور ملال کرتی تھیں کہ آج کا انسان تخریب کاری میں مبتلا ہے۔ فرخندہ بنیادی طور پر اس مشرقی عورت کی افسانہ نگار ہیں جس کا جسم معاشرے نے مجروح کر دیا ہے اور روح اب بھٹک رہی ہے۔ ان کے افسانوں میں ان کے کردار روح کو سیراب کرنے کے آرزو مند نظر آتے ہیں۔

Advertisement

فرخندہ لودھی کی علمی و ادبی خدمات

ان کے فن اور شخصیت پر ایم اے ‘ ایم فل کے مقالات‘ پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں لکھے جا چکے ہیں۔ حال ہی میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں جناب عطاء الرحمٰن عطا نے ”فرخندہ لودھی کی علمی و ادبی خدمات“ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کا مقالہ کرنے کی منظوری دی ہے۔

مشہور تصانیف

  • پنجابی زبان میں ان کے افسانوں کے تین مجموعے
  • ”چنے دے اوہلے“
  • ”پردے وچ تریڑا“ اور
  • ”کیوں“ اور
  • ناول ”جنڈ دا انگیار“ یادگار ہیں۔

ان کے افسانوں کی کلیات ان کی وفات کے بعد لاہور سے شائع ہو چکی ہے۔

Advertisement

اعزاز

ادب کے شعبے میں شاندار خدمات پر حکومت پاکستان نے ان کو ”پرائڈ آف پرفارمنس“ عطا کیا۔ اور ان کی ادبی و سماجی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔

آخری ایام

۵ مئی ۲۰۱۰ء ، شام ۵ بجے فرخندہ لودھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئیں۔ واپڈا ٹاؤن لاہور کا قبرستان ان کا آخری مستقل ٹھکانہ ٹھہرا۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement