سبق محمد کامل کی نوکری کا خلاصہ:

یہ سبق ڈپٹی نذیر احمد کے ناول “مراعاۃ العروس” سے لیا گیا ہے جس میں اصغری کی سمجھ داری کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اصغری کا شوہر محمد کامل کچہری میں ایک معمولی ملازم تھا۔محمد کامل کے افسر جیمس صاحب کا تبادلہ سیالکوٹ میں ہو گیا۔ جیمس صاحب کچہری میں محمد کامل پر بہت مہربان تھے یہی وجہ تھی کہ اب محمد کامل خاصا افسردہ تھا۔اصغری نے محمد کامل کو کہا کہ جیمس صاحب کے رخصت کا وقت ہے اور یہی وقت ہے کہ ان کے بنگلے پر جا کر ان سے ملاقات کرو ممکن ہے کہ وہ جاتے وقت تمھیں کوئی چھٹی یا پروانہ دے کر جائیں۔

محمد کامل جب ان کے بنگلے پر ملاقات کے لیے گیا تو جیمس صاحب نے محمد کامل سے کہا کہ تم میرے ساتھ سیالکوٹ چلو میں تمھیں وہاں نوکری دلاؤں گا۔ محمد کامل نے جیمس صاحب کو فوراً کوئی جواب دینے کی بجائے اپنی ماں اور بیوی سے مشورہ کرنا مناسب جانا۔اصغری نے محمد کامل کو صلاح دی کہ تمھارا ان کے ساتھ جانا منا سب ہے کہ اگر ایک حاکم خود تم کو ساتھ لے کر جانے کا کہہ رہا ہے تو ضرور اپنی جگہ پر پہنچ کر وہ تم سے اچھا سلوک کرے گا۔

محمد کامل نے اپنی حالیہ نوکری پر استعفا دینے کی بجائے دو ماہ کی رخصت لی اور جیمس صاحب کے ساتھ روانہ ہوا۔ اصغری نے مولوی فاضل کو بھی تمام حال لکھ بھیجا مولوی صاحب نے اپنے رئیس کی جانب سے جیمس صاحب کی دعوت بھی کی اور محمد کامل کی سفارش کی۔ جیمس صاحب جو پہلے ہی محمد کامل پر بہت مہربان تھے اب محمد کامل کو چونکہ اور زیادہ حقوق حاصل ہو گئے تھے اس لیے سیالکوٹ جاتے ہی انھوں نے مولوی محمد فاضل کو خط لکھ کر اطلاع دی کہ انھوں نے محمد کامل کو پچاس روپے ماہوار کی نوکری دی ہے اور جلد اسے ترقی بھی دیں گے۔

اس خبر کی اطلاع وہ رئیس کی خدمت میں کر دیں۔پچاس روپے کی نوکری ملنے سے پہلے محمد کامل کبھی تو امیدواری کا محتاج تھا۔پھر چھوٹے چھوٹے عہدے داروں کی عرضیاں کرنا، پھر صرف دس روپے کا روز نامچہ نویس تھا، پھر پندرہ روپے کے وعدے پر وہ بھی اصغری کے جوتنےسے جیمس صاحب کے ساتھ سیالکوٹ آیا تھا ایک دم سے پچاس روپے کا عہد یدار ہو گیا۔

  • مشق:

مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات تحریر کیجیے۔

محمد کامل کی افسردگی کی کیا وجہ تھی؟

محمد کامل کے افسر جیمس صاحب کا تبادلہ سیالکوٹ میں ہو گیا۔ جیمس صاحب کچہری میں محمد کامل پر بہت مہربان تھے یہی وجہ تھی کہ اب محمد کامل خاصا افسردہ تھا۔

اصغری نے محمد کامل کو جیمس صاحب کے بنگلے پر جانے کے لیے کیوں کہا؟

اصغری نے محمد کامل کو کہا کہ جیمس صاحب کے رخصت کا وقت ہے اور یہی وقت ہے کہ ان کے بنگلے پر جا کر ان سے ملاقات کرو ممکن ہے کہ وہ جاتے وقت تمھیں کوئی چھٹی یا پروانہ دے کر جائیں۔

جیمس صاحب نے محمد کامل سے کیا کہا؟

جیمس صاحب نے محمد کامل سے کہا کہ تم میرے ساتھ سیالکوٹ چلو میں تمھیں وہاں نوکری دلاؤں گا۔

اصغری نے محمد کامل کو جیمس صاحب کی پیشکش کے بارے میں کیا مشورہ دیا؟

اصغری نے محمد کامل کو صلاح دی کہ تمھارا ان کے ساتھ جانا منا سب ہے کہ اگر ایک حاکم خود تم کو ساتھ لے کر جانے کا کہہ رہا ہے تو ضرور اپنی جگہ پر پہنچ کر وہ تم سے اچھا سلوک کرے گا۔

مولوی محمد فاضل صاحب نے جیمس صاحب کی حکومت کی کیا کیا خوبیاں گنوائی ہیں؟

مولوی فاضل کے مطابق جیمس صاحب کی حکومت میں دہلی میں انصاف ، شرفا پروری کا دور دورہ تھا۔

جیمس صاحب نے مولوی محمد فاضل کو خط کس لیے لکھا ؟

جیمس صاحب نے مولوی محمد فاضل کو خط لکھ کر اطلاع دی کہ انھوں نے محمد کامل کو پچاس روپے ماہوار کی نوکری دی ہے اور جلد اسے ترقی بھی دیں گے۔اس خبر کی اطلاع وہ رئیس کی خدمت میں کر دیں۔

پچاس روپے کی نوکری ملنے سے پہلے محمد کامل کس قسم کی نوکریاں کرتا رہا تھا ؟

پچاس روپے کی نوکری ملنے سے پہلے محمد کامل کبھی تو امیدواری کا محتاج تھا۔پھر چھوٹے چھوٹے عہدے داروں کی عرضیاں کرنا، پھر صرف دس روپے کا روز نامچہ نویس تھا، پھر پندرہ روپے کے وعدے پر وہ بھی اصغری کے جوتنےسے جیمس صاحب کے ساتھ سیالکوٹ آیا تھا ایک دم سے پچاس روپے کا عہد یدار ہو گیا۔

مندرجہ ذیل الفاظ کے معانی لغت میں تلاش کیجیے اور ان کی مدد سے جملے بھی بنا ئیں۔

افسردہ خاطرغمگین نوکری کھوجا نے پر احمد افسردہ خاطر دکھائی دے رہا تھا۔
مربیپرورش کرنے والااللہ کی ذات سب مخلوق کی مربی و مالک ہے۔
استعفا نوکری چھوڑنے کی درخواستاحمد کے افسر نے اس کا استعفا قبول کر لیا۔
مفارقتجدائیاحمد کی ماں اسے غم مفارقت دے گئی۔
قلقافسوس/ دکھمجھے اس کی نوکری چھوٹ جانے کا بہت قلق ہوا۔
شرفا پروریشریف لوگوں کی پرورشاس کی تربیت میں اس کے والدین کی شرفا پروری جھلکتی ہے۔
قدیم الخدمتپرانا خدمت گزارعلی ہمارا قدیم الخدمت ملازم ہے۔
ممنونشکر گزاراس مہربانی کے لیے میں آپ کی ممنون ہوں۔
ملتفتمہرباناللہ کی ذات اپنے بندوں پر بہت ملتفت ہے۔

مندرجہ ذیل الفاظ میں سے کون سے مذکر استعمال ہوتے ہیں اور کون سے مونث استعمال ہوتے ہیں۔

علم ، التجا ، درخواست ، کوشش ، احترام ، فرصت،
دقت ، آغاز ، مقابلہ ، نقصان۔
مذکر:علم ، احترام ، آغاز ، مقابلہ ، نقصان۔
مونث: التجا ، درخواست ، کوشش ، فرصت ، دقت۔

سبق کے متن کو مدنظر رکھتے ہوئے درست لفظ چن کر خالی جگہیں پر کیجیے۔

  • اصغری ہمیشہ محمد کامل کو سمجھاتی رہتی تھی۔
  • جیمس صاحب کی بدلی سیالکوٹ ہوگئی۔
  • آدمی کو آدمی پر بھروسہ نہیں رکھنا چاہیے۔
  • محمد کامل کی ماں نے تو سنتے ہی غل مچا دیا۔
  • اصغری نے زبردستی جوت کر محمد کامل کو جانے پر راضی کیا۔
  • جیمس صاحب پہلے سے محمد کامل کے حال پر ملتفت تھے۔

مندرجہ ذیل فقروں کے ہم معنی فقرے سبق میں سے تلاش کرکے تحریر کیجیے۔

فقرےہم معنی فقرے
بہت اداس تھابہت افسردہ خاطر تھا
سنتے ہی شور مچایا سنتے ہی غل مچایا
گھر واپس آگیاگھر لوٹ آیا
جدائی کا غم ہےمفارقت کا قلق ہے
احسان مند ہوں گےممنون ہوں گے
مہینے دو مہینے کی چھٹی لومہینے دو مہینے کی رخصت لو۔

سبق میں سے فعل ماضی ، فعل حال اور فعل مستقبل کی دو دو مثالیں چن کر تحریر کیجیے۔

فعل ماضی:شام کو جب محمد کامل گھر آیا تو بہت افسردہ خاطر تھا۔
یہ حاکم محمد کامل پر بہت مہربانی کرتا ہے۔
فعل حال:بہت سویرے کپڑے پہن کر محمد کامل جیمس صاحب کے بنگلے پر گیا۔
مولوی محمد کامل سیالکوٹ تشریف لے گئے۔
فعل مستقبل:اپنے جی میں کہے گا۔
اپنے پاس سے پندرہ روپے دے گا۔

مندرجہ ذیل الفاظ کو بغور پڑھیے اور انھیں مختصر انداز میں تحریر کیجیے۔

الفاظتلخیص
حکومت کرنے والاحاکم
احسان کرنے والامحسن
ہمدردی کرنے والامہربان
جس پر ظلم ہو رہا ہومظلوم
خدمت کرنے والاخدمت گزار
دعوت دینے والامیزبان
کتاب لکھنے والامصنف
احسان بھلا دینے والااحسان فراموش
جسے قید کیا گیا ہوقیدی
جس پر ظلم ہو رہا ہومظلوم