Advertisement

غزل

رُکی رُکی سی شبِ مرگ ختم پر آئی
وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی نظر آئی
یہ وہ موڑ ہے کہ پرچھائیاں بھی دیں گی نہ ساتھ
مسافروں سے کہو،اس کی رہ گُزر آئی
فضا تبسم صبح بہار تھی،لیکن
پہنچ کے منزل جاناں پہ آنکھ بھر آئی
کسی کی بزم طرب میں حیات بٹتی تھی
اُمیدواروں میں کل موت بھی نظر آئی
کہاں ہر ایک سے انسانیت کا بار اُٹھا
کہ یہ بلا بھی ترے عاشقوں کے سر آئی
ذرا وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

تشریح

رُکی رُکی سی شبِ مرگ ختم پر آئی
وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی نظر آئی

انسان تکلیف میں ہو تو دن تو چلیے کٹ جاتا ہے مگر رات بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔عشق کے رنج بھی کچھ کم نہیں ہوتے۔اب شاعر کہتا ہے کہ یہ ٹھہری ٹھہری اور گھٹی گھٹی سی قیامت خیز رات ختم ہونے کو آئی ہے۔وہ تڑکا ہوا ہے، صبح ہوئی ہے تو گویا ایک نئی زندگی نظر آ گئی ہے۔

Advertisement
یہ وہ موڑ ہے کہ پرچھائیاں بھی دیں گی نہ ساتھ
مسافروں سے کہو،اس کی رہ گُزر آئی

محبت کی راہ میں کوئی ساتھ نہیں دیتا۔ اس راہ پر تنہا چلنا پڑتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبت کی راہ میں محبوب کی رہ گزر موڑ ہے کہ کوئی دوسرا تو کیا ساتھ دے گا، پرچھائی ساتھ نہیں دیتی۔لہذا عاشقوں سے کہہ دو کہ اس کی راہ گزر آگئی ہے اور یہاں آپ کو اپنے ہمت و حوصلے سے آگے بڑھنا ہے کوئی ساتھ نہیں دے گا۔

Advertisement
فضا تبسم صبح بہار تھی،لیکن
پہنچ کے منزل جاناں پہ آنکھ بھر آئی

شاعر کہتا ہے کہ جب ہم منزل جاناں پر پہنچے یعنی محبوب کی گھر پہنچی تو بڑا خوش گوار ماحول تھا۔گویا جیسے صبح بہار مسکرا رہی ہو لیکن نہ جانے کیوں ہماری آنکھیں نم ہو گئیں۔

Advertisement
کسی کی بزم طرب میں حیات بٹتی تھی
اُمیدواروں میں کل موت بھی نظر آئی

شاعر کہتا ہے کہ کسی کی مجلس نشاط میں زندگی بٹ رہی تھی کہ امیدواروں میں موت بھی کھڑی تھی۔ گویا وہ بھی زندگی کا طلب گار تھی۔

کہاں ہر ایک سے انسانیت کا بار اُٹھا
کہ یہ بلا بھی ترے عاشقوں کے سر آئی

شاعر کہتا ہے کہ انسان ہونا ہر ایک کے بس کا نہیں ہے اور انسانیت کا یعنی آدمیت کا بوجھ ہر کسی سے نہیں اٹھ سکتا۔لہذا یہ مصبیت بھی اے محبوب تیرے عشاق کے سر آئی۔وہی اس گرِان بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہے۔

Advertisement
ذرا وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب، اے دوست وصل کے بعد یوں خوف زدہ کیوں ہوا جاتا ہے اور کیا سوچ رہا ہے۔ذرا آئینہ ملا حظہ فرماتا کہ تجھے پتہ چلے کہ تیرا حسن اور بھی نِکھر گیا ہے۔اس کی دو شیزگی میں نِکھار آگیا ہے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement