Advertisement

رگو پتی سہائے نام اور فراق تخلص تھا۔۱۸۹۶ء میں گورکھپور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گورکھپور شاد عبرت اردو اور فارسی کے جدید عالم اور شاعر تھے اس طرح شعر گوئی فراق کو ورثہ میں ملی تھی۔ ان کے شباب کا دور ملک میں قومی تحریک کے عروج کا دور تھا‌۔ کانگریس اور خلافت تحریک سرگرم عمل تھی اس لیے فراق نے جب آی سی ایس کا امتحان پاس کیا تو آپ انگریزی حکومت کا پہیے بننے کے بجائے قومی تحریک میں شامل ہوگئے۔ اس کے بعد الہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر ہوگئے‌۔ آپ نے ۱۹۸۲ء انتقال فرمایا۔

Advertisement

آپ کے متعد مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ”روح کائنات“ ”شبنمستان“ ”رمز و کنایات“ ”روپ“ ”رنگ و نور“ ”گل نغمہ“ وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

Advertisement

آپ کا انگریزی ہندی اور سنسکرت زبان کا بڑا اچھا مطالعہ تھا جس کو آپ نے اپنی غزلوں میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ سمویا ہے۔ زبان و بیان سے لے کر دیو مالائی کہانیوں کا اثر تھا۔

Advertisement

آپ کی غزلوں میں جدید رجحانات و میلانات اور حیات و کائنات کے نئے شعور و احساس کی پرچھائیاں بہت واضح ہیں۔ ان کی اعلی فکر و فن نے اردو غزل کو نیا ذہن، خوشگوار آہنگ اور آرائش دلکشی دی ہے۔ آپ نے ہندی کے مانوس الفاظ کو بھی اپنی شاعری میں بڑی خوبی اور دلکشی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ الفاظ کے ساتھ ساتھ ان کی ترکیب بھی دلکش اور نئی ہے۔ کلام میں تشبیہات و استعارات کی بھرمار ہے۔

تغزل کی عظمت، شعر و سخن کا ملا جلا تبسم، مشاہدات کی رفعت، ترنم کی جھنکار اور تاریخی حقائق کی آگاہی وغیرہ سبھی کچھ ان کے کلام میں ملتی ہے۔ جذبات نگاری میں بھی ان کو ملکہ حاصل ہے۔ ان کا رنگ موجودہ دور کے رجحانات کا آئینہ دار ہے۔

Advertisement
ایک مدت سے تیری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

فراق کی ابتدائی غزلوں میں امیر مینائی کا رنگ جھلکتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے عزیز اور صفی کی بھی اتباع کی۔ کچھ عرصہ کے بعد آپ نے میر کے سوز و گراز کو بھی اپنانے کی کوشش کی۔ مومن کے تغزل پر آپ کی پہلے سے ہی نظر تھی مگر بعد میں فراق کی اپنی انفرادیت قائم ہوگئی اور عشق کا دھیما پن ان کے کلام میں مستی بن کر چھانے لگا۔

فراق کی غزلوں کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ان کے یہاں حسن و عشق کی واردات میں ایک ایک لفظ سے ہوس اور شہوت ٹپکتی ہے اور کہیں کہیں تو عمیانے پن کی انتہا ہو جاتی ہے اور یہ سب فراق نے ہندوستانی تہذیب اور تمدن کے قصّوں سے سیکھا ہے۔ فراق کا محبوب صرف دل بستگی کا سامان ہے اس کے لئے انگریزی کا ایک جملہ use and throw بہت مناسب ہے۔

Advertisement

فراق کے یہاں امیر کا سوز و گراز، غالب کی ندرت، مومن کی نازک خیالی، جگر کی عاشقانہ مستی اور حسرت کا رنگ تغزل ملتا ہے۔ انہوں نے حسن و عشق کو ذاتی تجربات اور نفسیات کے پیرائے میں دیکھا اور پرکھا ہے۔ ان کے ہاں گرچہ علامات ذاتی انداز کی ہیں مگر ان کا استعمال نرالا ہے اور کلام میں اشاروں کنایوں کی جھلک ہر شعر میں نظر آجاتی ہے۔

گر چہ فراق فلسفی نہ پھر بھی ان کے کلام میں مفکرانہ شان پائی جاتی ہے۔ کلام میں حسن و عشق کی جسمانی لذتوں کا اتنا غلبہ ہے کہ ساری فکر انہی کے گرد گھومتی ہے۔

Advertisement

فراق کی غزلوں میں کیفیات کا تذبذب، مجبورئی حیات کے اظہار پر تاسف اور غم آمیز پہلو کی ترجمانی قابل دید ہے۔ جذبات نگاری وہ اس طرح سے کرتے ہیں کہ دوسرے کے بھی جذبات مچل جاتے ہیں۔ کلام میں تا سیر کے ساتھ ساتھ معنویت بھی ہے۔

فراق کی غزلوں کا بنیادی موضوع موضوعات حسن و عشق ہے۔ ان کی غزلوں میں جسم و جمال کی بڑی دلکش اور جاندار تصویریں ملتی ہیں۔ فراق کی غزلوں میں جہاں غم کی ہلکی چاندنی چھٹکی ہوئی ہے وہاں ہر ہر شعر سے حسن و جمال اور کیف و نشاط کی شراب جھٹکی پڑی ہے۔

Advertisement

فراق کی شاعرانہ شخصیت کو عظمت بخشنے میں ان کے لب و لہجہ کو بھی بڑا دخل ہے جس میں بلا کا سوز اور ساتھ ہی بلا کی رعنائی اور دلکشی ہے۔ انہوں نے اپنے ہم گیر تجربوں کو نئے لب و لہجہ اور نئے آہنگ کے ساتھ پیش کر کے کائنات غزل کو نئی وسعت بخشی۔

فراق کی شاعری میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ مواد اور معنی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور ایک اچھوتے خیال کو پیش کرنے کے لیے فن کو قربان کر دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔

Advertisement
تحریرارویٰ شاکر
Advertisement

Advertisement

Advertisement