غزل

دُعا کب کرتے آئے ہیں، دُعا سے کچھ ہوا بھی ہو
دُکھی دنیا کے بندے ان گنت کوئی خدا بھی ہو
یہی ہے حسن کی خوبی، یہی ہے شان محبوبی
ز سرتا پا تغافل ہو، کوئی جان وفا بھی ہو
کہاں وہ خلوتیں دن رات کی اور اب یہ عالم ہے
کہ جب ملتے ہیں، دل کہتا ہے کوئی تیسرا بھی ہو
تو کیا پھر عشق دنیا میں کہیں کا بھی نہ جائے
زمانے سے لڑائی مول لے، تجھ سے بُرا بھی ہو
فراقؔ! انسان سے کیا فیصلہ ہو کفر و ایماں کا
یہ خریت ہے دنیا، جب خدا بھی ماسوا بھی ہو

تشریح

دُعا کب کرتے آئے ہیں، دُعا سے کچھ ہوا بھی ہو
دُکھی دنیا کے بندے ان گنت کوئی خدا بھی ہو

شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں دُعا تو سب ہی کرتے ہیں لیکن کیا دُعا قبول بھی ہوتی ہے۔کچھ حاصل بھی ہوتا ہے اور کیوں کر ہو کہ دُکھی انسان تو دنیا میں اتنے ہیں کہ شُمار ممکن نہیں ہے لیکن ان کا خدا کہاں ہے جو ان کی سُنے۔

یہی ہے حسن کی خوبی، یہی ہے شان محبوبی
ز سرتا پا تغافل ہو، کوئی جان وفا بھی ہو

شاعر کہتا ہے کہ حسن کی یہ خصوصیات بھی ہے اور خصلت بھی اور یہی محبوبیت کی ادا اور شان بھی ہے کہ کوئی جان وفا ہی کیوں نہ ہو وہ ہمیشہ بے پروا رہے۔

یہی ہے حسن کی خوبی، یہی ہے شان محبوبی
ز سرتا پا تغافل ہو، کوئی جان وفا بھی ہو

شاعر کہتا ہے کہ کہاں وہ عالم تھا ایک دن رات کی تنہائی راس آتی تھی یعنی محبوب سے تنہائی میں ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ اور اب یہ صورت ہے کہ جب کبھی محبوب سے وصل ہوتا ہے تو جی چاہتا ہے کہ کوئی دوسرا بھی ساتھ ہو گویا تنہا نہ ملے۔

تو کیا پھر عشق دنیا میں کہیں کا بھی نہ جائے
زمانے سے لڑائی مول لے، تجھ سے بُرا بھی ہو

شاعر کہتا ہے کہ پھر کیا ہوگا اگر عشق زمانے بھر میں بے وقعت ہو جائے، اس کی کوئی حیثیت نہ رہے، ایک زمانے سے ٹکرا جائے، تجھ سے برا ہو جائے۔ دوسرا پہلو اس شعر کا یہ ہے کہ زمانے سے جھگڑا مول لے لے اور تجھ سے بھی بُرا ہو جائے۔تو کیا عشق دنیا میں بے وقعت ہو جائے گا؟

فراقؔ! انسان سے کیا فیصلہ ہو کفر و ایماں کا
یہ خریت ہے دنیا، جب خدا بھی ماسوا بھی ہو

شاعر کہتا ہے کہ اس حیرت میں ڈال دینے والی دنیا میں کہ جس میں خدا بھی ہے وہ ذات باری تعالٰی کے سوا بھی ہے تو ایک انسان سے کفر و ایمان کا فیصلہ کیوں کر ہو سکتا ہے۔ وہ کیوں کر جان سکتا ہے کہ کفر و گناہ کیا ہے اور ایمان و ثواب کیا ہے۔

Advertisements