Advertisement

کتاب”گلزارِ اردو”برائے نویں جماعت۔

سبق نمبر:02
صنف ادب: غزل
شاعر کا نام: حکیم مومن خاں مومن

تعارف مصنف:

مومن اردو کے ان چند باکمال شاعروں میں سے ایک ہیں جن کی بدولت اردو غزل کی شہرت اور مقبولیت کو چار چاند لگے۔آپ 1800ء میں دلی میں پیدا ہوئے اور 1852ء میں آپ کا انتقال چھت سے گر جانے کی وجہ سے ہوا۔

Advertisement

حکیم مومن خاں مومن کا تعلق ایک کشمیری گھرانے سے تھا۔ان کا اصل نام محمد مومن تھا۔ان کے دادا حکیم مدار خاں شاہ عالم کے عہد میں دہلی آئے اور شاہی طبیبوں میں شامل ہو گئے۔مومن کا خاندانی پیشہ طب ہی تھا مگر انھوں نے دیگر علوم و فنون منطق ،ہیت ،نجوم اور ریاضہ میں بھی مہارت حاصل کی۔

ان کے دادا کو بادشاہ کی طرف سے اک جاگیر ملی تھی جو نواب فیض خان نے ضبط کرکے ایک ہزار روپے سالانہ پنشن مقرر کر دی تھی۔ یہ پنشن ان کے خاندان میں جاری رہی۔

مومن خان کا گھرانا بہت مذہبی تھا۔انہوں نے عربی تعلیم شاہ عبدالقادر دہلوی سے حاصل کی۔فارسی میں بھی ان کو مہارت تھی۔ان کی شاعری پر اثر مگر محدود انداز کی ہے۔معاملہ بندی یعنی عاشق اور محبوب کے درمیان ہونے والی گفتگو کا انداز بیان مومن کی شاعری کا خاص وصف ہے۔ان کی شاعری میں مکر شاعرانہ کی بھی اچھی مثالیں موجود ہیں۔انھوں نے مقطعوں میں اپنے تخلص کے استعمال میں بھی ایک خاص منطق کو استعمال کیا ہے۔

غزل کی تشریح:

غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
میری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھنا

مومن خاں مومن اپنی غزل کے اس شعر میں محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ احتیاط لازم ہے کہ کہیں غیروں پر ہماری محبت کا راز آشکار نہ ہو جائے۔اس لیے اے محبوب اگر بیچ محفل اگر تمھیں میری طرف دیکھنا بھی ہو تو اشارے میں دیکھنا۔تا کہ ہماری محبت کا راز رہ سکے۔

اڑتے ہی رنگ رخ مرا نظروں سے تھا نہاں
اس مرغ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرے چہرے کا رنگ یوں اڑا کہ اڑتے ہی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ شاعر کہتا ہے کہ میرے چہرے کے رنگ اڑنے کا انداز تو ٹوٹے پروں کی طرح ہے کہ ٹوٹتے فوراً غائب ہو جائے۔

دشنام یار طبع حزیں پر گراں نہیں
اے ہم نفس نزاکت آواز دیکھنا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرے محبوب کی آواز اس قدر پرسوز اور نزاکت لیے ہوئے ہے کہ اگر وہ منھ سے کلام بد یعنی گالی وغیرہ بھی نکالے تو وہ بھی میری سماعتوں پر گراں نہیں گزرتی ہے۔

دیکھ اپنا حال زار منجم ہوا رقیب
تھا سازگار طالع ناساز دیکھنا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ عشق نے میری جو حالت کی میری اس تباہ حالی کو دیکھ کر میرے رقیب کو بھی اندازہ ہو گیا۔ یوں عشق کے افشائے راز ہو جانے کی وجہ سے ہر جانب سے ناسازگار حالات کی بو آنے لگی۔

کشتہ ہوں اس کی چشمِ فسوں گر کا اے مسیح
کرنا سمجھ کے دعوئے اعجاز دیکھنا

اس شعر میں شاعر مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں اپنے محبوب کی نگاہ کا گھائل کیا گیا ہوں۔اس لیے میری تکلیف کو دور کرنے کے لیے اگر کوئی چارہ یا علاج ہو تو اس کو خاصا سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔

ترک صنم بھی کم نہیں سوز جحیم سے
مومنؔ غم مآل کا آغاز دیکھنا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب اور محبت کا چھوڑنا بھی کسی جہنم کے عذاب اور کرب سے کم نہیں ہے۔کیونکہ مومن اپنے غم کا انجام بھی اپنے اعمال کے انجام کی طرح دیکھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:شاعر کو کس راز کے کھل جانے کا خوف ہے؟

شاعر کو اپنی محبت کا راز آشکار ہو جانے کا خوف ہے۔

سوال نمبر02:رنگ رخ اڑانے کا اشارہ کس طرف ہے ور شاعر پر شکستہ کس کو کہہ رہا ہے؟

شاعر نے چہرے کے رنگ اڑنے کا اشارہ اپنی جانب کیا ہے کہ محبوب کو دیکھتے کیسے میرے چہرے کا رنگ اڑتا ہے۔اور چہرے کے رنگ کو اڑتے اور غائب ہو جانے کو شاعر نے پر شکستہ کہا ہے۔

سوال نمبر03:طبع حزیں پر دشنام یار گراں کیوں نہیں ہے؟

شاعر کے محبوب کی آواز اس قدر نزاکت لیے ہوئے ہے کہ اس کی گالیاں یا برے کلمات بھی اس کی سماعتوں پر گراں نہیں گزرتے ہیں۔

سوال نمبر04:غزل کے کس شعر میں تلمیح کا استعمال ہوا ہے اور اس کا مطلب کیا ہے؟

غزل کے پانچویں شعر میں تلمیح کا استعمال ہوا ہے۔ جس سے مراد حضرت عیسیٰ اور ان کے معجزات ہیں۔