جارج برنارڈ کے اقوال

  • خاموشی اظہار نفرت کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔
  • زندگی ایک ہیرا ہے جسے تراشنا انسان کا کام ہے۔
  • چاند کے بغیر رات بے کار ہے اور علم کے بغیر ذہن۔
  • خاموش اور کم گو آدمی کا ہر جگہ اور ہر وقت استقبال ہو تا ہے۔
  • اپنی صحت و تندرستی کے لئے شام کو فٹبال، ٹینس اور پولو کھیلنے والو! تم دیہاتوں میں جا کر ان کسانوں کا ہاتھ کیوں نہیں بٹاتے جن کے جسم محنت کی زیادتی سے چور چور ہیں۔
  • انسان پاگل ہے کہ وہ ایک جو پتا یا چونٹی تک تو بنا نہیں سکتا مگر بیسیوں کو خدا بنا لیتا ہے۔
  • کسی کو نصیحت نہ کرو کیونکہ بے وقوف سنتا نہیں ہے اور عقلمند کو اس کی ضرورت نہیں۔
  • جب تک تم بنی نوح انسان میں سے حب الوطنی نام کی چیز نہیں نکال پھینکو گے تب تک دنیا میں کبھی امن قائم نہیں کر سکو گے۔
  • جب دو آدمی کسی مسئلے پر بحث کے بغیر متفق ہو جائیں تو ثابت ہوتا ہے کہ دونوں بے وقوف ہیں۔
  • دنیا میں انہی لوگوں کی عزت ہوتی ہے جنہوں نے اپنے استاد کا احترام کیا۔
  • دولت مندوں اور سرمایہ داروں کی خیرات اور چندے سے چلنے والی انجمنیں ہمیشہ دولتمندوں کی طاقت اور موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کو قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں وہ غریبوں کو صبر و تحمل کی تبلیغ و تلقین سے انقلابی جذبات کو ٹھنڈا کرتی رہتی ہیں تاکہ سرمایہ دار بے خوف و خطر ان کا خون چوستے رہیں۔
  • اگر کوئی صرف تجربوں سے ہی دانشمند بن جاتا تو لندن کے عجائب گھر کے پتھر اتنی مدت کے بعد دنیا کے بڑے بڑے دانش مندوں میں سے زیادہ دانش مند ہوتے۔
  • جو شخص اچھی کتابیں پڑھنے کا شوق نہیں رکھتا وہ معراج انسانی سے گرا ہوا ہے۔
  • میرے سامنے قوموں کی داستانیں نہ کہو مجھے اصول اور قانون کی باتیں مت بتاؤ۔ میرے سامنے حکومتوں کا تذکرہ نہ کرو کہ میرا وطن سارا جہان ہے۔ آؤ اس انسانیت کی بات کریں جو انسان کو جنم دے کر بانجھ ہوگئی ہے جو دور پھٹے چیتھڑوں میں ملبوس رہنے والے اپنے بچوں کو پکار رہی ہے بچے جو انسان سے زیادہ قوم بن گئے ہیں۔
  • میرے دوست کسی چیز کو بدصورت نہ، کہو سوا اس خوف کے کہ جس کی ماری ہوئی روح خود اپنے یاروں سے ڈرنے لگے۔
  • جب سے مجھے پتہ چلا ہے کہ مخمل کے گدھے پر سونے والوں کے خواب ننگی زمین پر سونے والوں کے خوابوں سے مختلف نہیں ہوتے تب سے خدائی انصاف پر مجھے پورا اعتماد ہو گیا ہے۔
  • محبت دل کے صحرا میں ایک سرسبز و شاداب قطعہ زمین ہے جہاں فکر کے قافلے نہیں پہنچ سکتے۔
  • تماری شادمانی دراصل تمہارا غم ہے جسے بے نقاب کردیا گیا ہے۔
  • یاد رکھنا بھی ملاقات کی ایک شکل ہے اور بھلا دینا بھی تجرد کی ایک صورت۔
  • خواہشات کی جدوجہد علامت ہے اس بات کی کہ زندگی نظم چاہتی ہے۔



Close