>
  • ستم کو بھی کرم ہائے نہاں کہنا ہی پڑتا ہے
  • کبھی نامہرباں کو مہرباں کہنا ہی پڑتا ہے
  • بنائے زندگی دو چار تنکوں پر سہی لیکن
  • انہی تنکوں کو آخر آشیاں کہنا ہی پڑتا ہے
  • بھلا ہم اور تجھ کو ناز بردار عدو کہتے؟
  • مگر ائے بے نیاز دوستاں! کہنا ہی پڑتا ہے
  • مری آہ و فغاں کو نالۂ بلبل سے کیا نسبت
  • مگر اک ہم وطن کو ہم زباں کہنا ہی پڑتا ہے
  • محبت خانۂ صیاد سے بھی ہو ہی جاتی ہے
  • قفس کو بھی کسی دن آشیاں کہنا ہی پڑتا ہے
  • بتوں سے اتنا دیرینہ تعلق باوجود اس کے
  • ہوا جو کچھ سر کوئے بتاں کہنا ہی پڑتا ہے
  • ہر اک محفل میں جا کر ہم غزل کہتے نہیں لیکن
  • جہاں وہ شوخ ہوتا ہے وہاں کہنا ہی پڑتا ہے
  • یہ مانا عشق میں ضبط فغاں کی شرط لازم ہے
  • الجھتا ہے جو دل، درد نہاں کہنا ہی پڑتا ہے
Close Menu