>
  • کچھ انتہائے سلسلۂ غم نہیں ہے آج
  • ہر ظلم آخریں ستم اولیں ہے آج
  • میرے مذاق غم پہ اک نکتہ چینی ہے آج
  • ان کی طرف نگاہ کسی کی نہیں ہے آج
  • بدنام کر رہی ہے مجھے میری بندگی
  • ہر سنگ آستاں پہ نشان جبیں ہے آج
  • درماں کہاں کہ پرسش غم بھی نہ کر سکی
  • اتنی بھی اس نگاہ کو فرصت نہیں ہے آج
  • پردہ حریمِ ناز کا اپنے بچائیے
  • فریاد کا مزاج بہت آتشیں ہے آج
  • انکار کر رہے ہیں وہ اسی جرم قتل سے
  • جس کو گواہ ہر شکن آستیں ہے آج
  • زنجیر اپنا ہاتھ بڑھاتی ہی رہ گئی
  • دیوانۂ بہار کہیں سے کہیں ہے آج
  • عاجزؔ مری فغاں ذہ ہر اک یوں خموش ہے
  • جیسے کسی کی آنکھ میں آنسو نہیں آج
Close Menu