غلام ہمدانی مصحفی

شیخ غلام ہمدانی نام اور مصحفی تخلص تھا۔1749ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے۔والد کا نام شیخ ولی محمد تھا۔ابتدائی تعلیم امروہہ میں ہی حاصل کی اور آغاز جوانی میں ہی وطن چھوڑ کر دہلی چلے گئے جہاں عربی، فارسی اور اسلامی علوم کی تحصیل بڑے بڑے اساتذہ فن سے کی اور شعروسخن کی طرف مائل ہوگئے۔

مصحفی نواب محمد یار خان، نواب ٹانڈا ضلع بریلی کے پاس ملازم ہوگئے لیکن تھوڑے ہی عرصے کے بعد نواب کا انتقال ہوا جس کی وجہ سے ملازمت چھوٹ گئی اور واپس دہلی آگئے۔بارہ برس تک دہلی میں رہنے کے بعد باقی شعراء کی طرح لکھنؤ چلے گئے۔لکھنؤ میں مصحفی نے مستقل طور پر قیام کیا اور شہزادہ مرزا سلیمان شکوہ کے دربار میں ملازم ہو گئے۔کچھ عرصہ تک قیام کرنے کے بعد دلی واپس لوٹ آئے مگر تھوڑے دنوں بعد لکھنؤ دوبارہ چلے گئے اور 75 سال کی عمر میں 1822ء میں انتقال فرمایا۔

خصوصیات کلام یا شاعرانہ عظمت


غلام ہمدانی مصحفی بھی ان شعراء میں سے ہیں جنہوں نے دہلی سے سکونت ترک کرکے لکھنو کو آباد کیا۔مصحفی صرف شاعر نہیں، اعلیٰ پائے کے ناقد بھی تھے انہوں نے اپنے اردو اور فارسی کے تذکروں میں شعر و شاعری پر تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے۔انہوں نے ایہام گوئی کو ناپسند کیا اور فصاحت اور بلاغت کی ستائش کی۔

مصحفی کی شاعری صرف شاعری نہیں، انہوں نے قصائد اور غزلوں وغیرہ میں اپنے دور کے انتشار و اختلال اور مصائب و آلام کی تصویر کشی بھی کردی ہے۔مصحفی کے دہلی سے لکھنؤ آنے کا ایک بڑا مقصد یہاں کی فیاضی، دریا دلی اور شاعروں کی سرپرستی سے استفادہ کرنا تھا لیکن لکھنؤ میں بھی ان کی مالی حالت خراب رہی یہی پس منظر تھا جس کی وجہ سے ان کے مزاج میں تلخی اور ترشی نے جگہ بنالی۔انکے کلام میں یہ سارا پس منظر روشن ہو جاتا ہے۔وہ اپنی ناداری کا کی اشعار میں حوالہ دیتے ہیں۔

ہر چند کے ہم فاقوں سے جان دیتے ہیں
تنخواہ تو کب نعیم خان دیتے ہیں

ہے لب پہ خوشامد اور غزل کے مارے
بیٹھے ہوئے جی میں گالیاں دیتے ہیں

مصحفی فارسی اور اردو کے ایک بلند پایہ شاعر تھے۔وہ قواعد و ضوابط کے بڑے پابند تھے۔ان کے یہاں کہیں کہیں میر کا سوز و گداز بھی نظر آتا ہے کہیں سودہ کی بلند پروازی کی جھلک ملتی ہے مگر مضامین میں اتنی گہرائی اور پھیلاؤ نہیں ہے جتنا میر تقی میر کے یہاں ہے۔لیکن مصحفی کو زندگی اور خاص کر عشق کے تنوع و تجربات کو بیان کرنے پر قدرت حاصل تھی۔مصحفی کی امتیازی خصوصیت نشاط، شباب اور رنگ و روپ کا پرکیف طریقے سے بیان کر دینا ہے۔انہوں نے جملہ اصناف سخن پر طبع آزمائی کی اور قابل قدر کارنامے انجام دیے۔ان کے بہت سے شاگرد تھے جن میں مستحسن، آتش، خلیق اور ضمیر قابل ذکر ہیں۔مصحفی اور انشا کے معرکے بہت مشہور ہیں۔آٹھ اردو دیوان ان کی یادگار ہیں۔اس کے علاوہ فارسی کا ایک دیوان بھی مصحفی کو کامیاب شاعروں کی فہرست میں لاتا ہے۔اردو شعراء کے تین تذکرے بھی ان کی یادگار ہیں۔

Close