گؤدان منشی پریم چند کا آخری مکمل ناول ہے جسے انہوں نے "میدان عمل” کے بعد 1932 میں لکھنا شروع کیا اور 1935 میں مکمل کیا تھا۔اردو ہندی کے بیشتر ناقدین نے "گؤدان” کو نہ صرف پریم چند کا بلکہ اردو اور ہندی کا بہترین ناول قرار دیا ہے۔ اس ناول میں منشی پریم چند نے ہندوستان کے کسانوں کی دکھ بھری زندگی کو درد بھرے لہجے میں بیان کیا ہے۔ناول کا مرکزی کردار بلاری گاؤں کا ایک کسان ہوری ہے، جس کی زندگی کی خواہش صرف یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کے باہر ایک گائے کو باندھا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ بہت سی مشکلات سہہ کر وہ بلآخر بھولا اہیر کو دوسری شادی کروا دینے کی لالچ دے کر اس سے گائے حاصل کرلیتا ہے لیکن اس کا بھائی ہیرا اس کی خوش بختی پر جل اٹھتا ہے اور موقع پا کر وہ گائے کو زہر دے دیتا ہے۔ اس طرح ہوری کی یہ آرزو اور خوشی عارضی ثابت ہوتی ہے۔ ہوری اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرتے ہوئے بالآخر موت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہوری کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے پنڈت گائے کا دان یعنی ‘گؤدان’ کرنے کے لیے کہتا ہے۔ اب جو شخص زندگی بھر اپنے دروازے پر گاۓ بندھی ہوئی دیکھنے کا خواہش مند تھا اور یہ ارمان دل میں لئے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگیا اس کی گھر والی سے کہا جاتا ہے کہ وہ گؤدان کرے بھلا وہ کیسے کر سکتی ہے۔اس ناول کو پی ڈی ایف(pdf) کی صورت میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کریں۔

Download Part 1

Download Part 2

Advertisements