Advertisement

کتاب”گلزارِ اردو”برائے نویں جماعت۔

تعارف مصنف:

آپ کا اصل نام علی سکندر،جبکہ تخلص جگر کرتے تھے۔1809ءمیں ضلع مراد آباد اتر پردیش میں پیدا ہوئے جب کہ آپ کا انتقال 1958ء میں اتر پردیش کے شہر گونڈہ میں ہوا۔ جگر مراد آبادی نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ فطرتاً شاعر تھے اس لیے کم عمری سے ہی شاعری کا آغاز کر دیا۔ جگر مراد آبادی کی شاعری میں مستی اور سر شاری کی کیفیت موجود ہے۔حسن و عشق کے معملات کو انھوں نے والہانہ انداز میں بیان کیا ہے۔تقسیم ہند کے بعد آپ نے ایسی غزلیں کہیں جن میں عصری شعور اور فکر کا عنصر نمایاں تھا۔سادگی،روانی اور موسقیت جگر کے کلام کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ان کے شعری مجموعے داغ جگر،شعلہ طور اور آتش گل ہیں۔

Advertisement

غزل کی تشریح:

کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پر
میں چمن میں چاہے جہاں رہوں مرا حق ہے فصل بہار پر

یہ شعر جگرمراد آبادی کی غزل سے لیا گیا ہے۔ شاعر اس شعراپنی ذات کے متعلق بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ دنیا جو کہ ایک باغ کی مانند ہے اس باغ کے چاہے جس بھی کونے میں،میں رہوں خواہ وہ کوئی سبزہ ہو یا یا شاخ ہو یا پتی۔وہ پھولوں کا باغ ہو یا کانٹوں کا باغ ہو ہر جگہ میرا حق ہے کہ میں بہارکی فصل پاؤں۔ اس شعر کے ذریعے شاعر نے زندگی کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان چاہے جس طرح کے بھی حالات سے دوچار ہو زندگی کی خوشیاں اس کا حق ہیں۔

مجھے دیں نہ غیظ میں دھمکیاں گریں لاکھ بار یہ بجلیاں
مری سلطنت یہ ہی آشیاں مری ملکیت یہ ہی چار پر

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ مجھے غصے میں باتیں سنانے یا دھمکیاں دینے سے کوئی چارہ نہیں ہے۔چاہے تم لاکھ بار اپنے غصے کی بجلیاں مجھ پر گراؤ۔ مگر میرا یہ گھر ہی میری سلطنت رہے گی۔اور زندگی کے یہ کچھ سکون کے پل ہی میری کائنات رہیں گے۔

Advertisement
عجب انقلاب زمانہ ہے مرا مختصر سا فسانہ ہے
یہی اب جو بار ہے دوش پر یہی سر تھا زانوئے یار پر

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میری مختصر سی کہانی بھی اپنے اندر زمانے کے کئی طرح کے انقلاب سمیٹے ہوئے ہے۔ اس میں آپ کو ہر گزرتے دور کی چاپ سنائی دے جائے گی۔اب جس بوجھ کو میں الزام دیتا ہوں کبھی یہی باآدب مجھے میرے محبوب کے آگے جھک جانے پر مجبور کرتا تھا۔

Advertisement
مری سمت سے اسے اے صبا یہ پیام آخر غم سنا
ابھی دیکھنا ہو تو دیکھ جا کہ خزاں ہے اپنی بہار پر

اس شعر میں شاعر ہوا کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ وہ جا کر میرے محبوب کو یہ پیغام میری طرف سے سنائے کہ میری زندگی کی ویرانی یعنی کہ خزاں اس وقت موسم بہار کی طرح اپنے پورے جوبن پر ہے۔ وہ آئے اور میری اجڑی ہوئی خزاں کی مانند زندگی کی یہ بہار دیکھ لے۔

میں رہین درد سہی مگر مجھے اور چاہئے کیا جگرؔ
غم یار ہے مرا شیفتہ میں فریفتہ غم یار پر

شاعر اس شعر میں اپنے درد کے احساس کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں ہمیشہ سے درد،دکھوں اور غموں کا اسیر رہا مجھے اس کے سوا اور کیا چاہیے۔محبت اور محبوب کا غم ہی میرا شیفتہ ہے اور میں ہمیشہ اسی غم پر فدا رہا ہوں۔

Advertisement

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:مطلعے کے پہلے مصرعے میں بہار سے متعلق کون کون سے لفظ آئے ہیں؟

مطلعے کے پہلے مصرعے میں بہار کے حوالے سے باغ،پھول،سر سبز شاخوں،اور پتیوں کا ذکر آیا ہے۔

سوال نمبر02:مطلعے میں میرا حق ہے فصل بہار پر سے کیا مراد ہے؟ تفصیل سے بیان کریں۔

اس سے شاعر کی مراد ہے کہ فصل بہار یعنی کہ زندگی کی خوشیوں اور آسائشوں پر میرا بھی حق ہے چاہے میں دنیا کے کسی بھی گوشے میں رہوں مجھے یہ حق ملنا چاہیے۔

Advertisement

سوال نمبر03:غزل کے قافیوں کی نشاندہی کیجیئے۔

اس غزل میں درج ذیل ہم قافیہ الفاظ ہیں:
خار،بہار، چار،یار، دھمکیاں،آشیاں وغیرہ۔

سوال نمبر04:شاعر نے صبا کے ذریعے اپنے دوست کو کیا پیغام بھیجا ہے؟

شاعر نے صبا کے ذریعے دوست کو پیغام بھیجا کہ وہ جا کر میرے محبوب کو یہ پیغام میری طرف سے سنائے کہ میری زندگی کی ویرانی یعنی کہ خزاں اس وقت موسم بہار کی طرح اپنے پورے جوبن پر ہے۔ وہ آئے اور میری اجڑی ہوئی خزاں کی مانند زندگی کی یہ بہار دیکھ لے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement