تعارف

اگر تاریخ میں کسی کو انقلاب کے لیے اپنے حق کے لیے سچ بولنے کے پاداش میں جلاوطنی جھیلنی پڑی ہو، سزائیں کاٹنی پڑی ہوں تو وہ اور کوئی نہیں تاریخ میں لکھے جانے والے معتبر شاعر حبیب جالب ہیں۔ حبیب جالب کا نام حبیب احمد تھا۔ حبیب جالب  ۲۸ فروری ۱۹۲۸ کو ہندوستان کے پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں، کسانوں کے گھر میں پیدا ہوئے۔ صرف ۱۵ برس کی عمر میں ہی انھوں نے مشق سخن شروع کر دی تھی۔ وہ ایام ابتداء میں استاد جگر مراد آبادی سے متاثر تھے اور روایتی غزلیات کہتے تھے۔

تقسیم ہند کے بعد وہ کراچی آگئے۔ جالب کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ وہ کئی طرح سے معاشرے میں رائج روایات کے خلاف تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی بائیں بازو کی ترقی پسند تحریک کے لیے وقف کردی۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ عوامی سطح پر وہ اس تحریک کی سب سے زیادہ وکالت کرتے تھے۔

ادبی خدمات

حبیب جالب متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور ایک عام آدمی کے انداز میں سوچتے تھے۔ وہ پاکستان کے محنت کش طبقے کی زندگی میں تبدیلی کے خواہش مند تھے اور اپنی انقلابی سوچ کے تحت دم آخر تک سماج کے محکوم عوام کو اعلی طبقات کے استحصال سے نجات دلانے کا کام کرتے رہے۔ ان کا پہلا مجموعہ "کلام برگ آوارہ” کے نام سے ۱۹۵۷ء میں شائع کیا۔

جہل کے آگے سر نہ جھکایا میں نے کبھی
سِفلوں کو اپنا نہ بنایا میں نے کبھی
دولت اور عہدوں کے بل پر جو اینٹھیں
ان لوگوں کو منہ نہ لگایا میں نے کبھی
میں نے چور کہا چوروں کو کھل کے سر محفل
دیکھ اے مستقبل

جالب کی زندہ شاعری اور آزاد پسندی ان کے کلام سے دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان کی اس نظم میں وہ وقت کے آمر کو للکارتے ہوئے یہ کہتے ہیں۔

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا
آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے
کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا
اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو
اک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھا
چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولے
تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا

حبیب جالب کی نظم "دستور” ایک انقلابی نظم ہے جو آج بھی ہر خاص و عام کی زبان پر چھائی ہوتی ہے۔

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے، تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے، تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے، تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

جالب کو شوشلزم کے پیچیدہ خیالات کو سیاست، شاعری اور طنز و مزاح کا روپ دینا آتا تھا۔ جالب نے اسلام کے مقدس نام پر مفاد پرست، استحصال پسند اور عوام دشمن سیاسی گروہوں کو عوام کے دل میں اُتر جانے والی زبان میں للکارا اور یوں اسلام کے معاشی انصاف اور معاشرتی مساوات کے تصورات غریب اور ناخواندہ عوام کے دل میں اُترتے چلے گئے۔

حبیب جالب کے ہم عصر شعراء اور ادیبوں نے حبیب جالب کو شاعر تسلیم نہ کیا اور کہا کہ وہ عارضی اور سیاسی شاعری کرتے ہیں جو زندہ نہیں رہے گی۔ ان کا خیال غلط ثابت ہوا ، آج پاکستان کے عوام ان کے ناموں سے واقف نہیں ہیں جبکہ حبیب جالب آج بھی زندہ ہیں۔ ترقی پسند مصنف علی سردار جعفری نے حبیب جالب کے بارے میں کہا کہ "حبیب جالب کی شاعرانہ آواز ہمارے انقلابی عہد کے اجتماعی ضمیر کی آواز ہے ، مبارک ہیں وہ لوگ جن کو فیض اور جالب کی آواز ملی”

اعزازات

حبیب جالب کے نام سے ۲۰۰۶ میں حبیب جالب امن ایوارڈ کا اجراء کیا گیا۔ جب کہ اُن کی وفات کے بعد ۲۳ مارچ ۲۰۰۹ کو انہیں نگار ایوارڈ اور نشان امتیاز سے نوازا گیا۔

وفات

حبیب جالب کی وفات ۱۳ مارچ ۱۹۹۳ کو ۶۵ برس کی عمر میں ہوئی۔

A Quiz On Habib Jalib

حبیب جالب 1