حبیب الرحمن خان شیروانی بحیثیت محقق

نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی بھی فارسی اور اردو کے محقق ہیں۔ وہ زندگی بھر قدیم کتابوں کے نسخے جمع کرتے رہے "کتب خانہ گنج” انکے اس ذوق و شوق اور انہماک کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین اور تبصرے علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ، مخزن، زمانہ، معارف وغیرہ رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔انہوں نے میر حسن کے تذکرہ "شعرائے اردو” اور "دیوان درد” کو معہ مقدمات بڑے سلیقے سے مرتب کیا ہے۔ ان کے علمی و ادبی اور تحقیقی مضامین بھی "مقالات شیروانی” کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی انہی تحریروں سے ان کے تنقیدی خیالات کا اندازہ ہوتا ہے۔

مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی کو دوسرے محققین کی طرح عہد تغیر کے لکھنے والوں سے مستفیض ہونے کا موقع ملا ہے۔ شبلیؔ اور حالیؔ کے اثرات ان پر خاصے گہرے ہیں۔ ایک جگہ انہوں نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ شبلیؔ کے اعتراف کے متعلق ایک جگہ لکھتے ہیں:

"اسی زمانے میں شبلی مرحوم سے ملاقات ہوئی ان کے فیض صحبت سے وسعت نظر پیدا ہوئی” حالیؔ کا اثر بھی ان پر گہرا ہے ان کی تنقیدی تحریروں میں ان کے اثرات کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ وہ اپنے زمانے کی پیداوار ہیں اور اس زمانے کی تمام خصوصیات ان کی تحریروں میں موجود ہیں۔

تنقید کی طرف انہوں نے پوری طرح توجہ نہیں کی ہے یہی وجہ کے ادب اور تنقید پر نظریاتی مباحث ان کی تحریروں میں نہیں ملتے۔ لیکن ان کی تحریروں سے ان کے تنقیدی نظریات کی وضاحت ضرور ہوتی ہے۔اپنے پیشرؤں اور ہم عصروں کی طرح وہ ادب اور شعر کی اہمیت کے قائل ہیں۔ شعر و ادب پر سوسائٹی کے اثرات کو انہوں نے تسلیم کیا ہے۔ ایک جگہ فارسی غزل کے دور اول پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس دور میں ‘نزاکت و لطافت’ استعارہ و مجاز جو جان غزل ہے، معدوم ہے۔ جوش و ولولہ اور سوزوگداز بھی نہیں، ان صفات کے پیدا ہونے کے دو بڑے سبب ہیں، ایک تصوف اور دوسرا سوسائٹی کا رنگ۔تصوف ان شعراء میں نہ تھا، سوسائٹی سپاہ کے نعروں اور ہتھیاروں کی جھنکار سے گونج رہی تھی، نزاکت کہاں بار پاتی، سوزوگداز کو مصروف کارزار سپاہی زادہ کیا جانے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ادب و شعر کو جانچنے اور پرکھنے کے لیے گہرے سماجی شعور کو ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ شاعری کو محض قافیہ پیمائی نہیں سمجھتے بلکہ حقیقی شاعری کے قائل ہیں جس کے لیے قوت مشاعرہ ضروری ہے۔ ان کے نزدیک یہ کسی شاعر کی بڑی اہم خصوصیات ہیں۔

مظہرؔ کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "مظہرؔ کے کلام میں سیرابی و تازگی ہے، قوت مشاہدہ ہے اور حقیقی شاعری محض قافیہ پیمائی اور الفاظ نووردی نہیں ہے” وہ حالی اور شبلی کی طرح مغرب کے صحت مند اثرات کو برا نہیں سمجھتے بلکہ ادب اور تنقید کے لئے اس کو مفید خیال کرتے ہیں۔

ان کے تنقیدی نظریات کا اندازہ ان کی عملی تنقید سے ہوتا ہے۔ گویا ان کی عملی تنقید ان ہی تنقیدی اصولوں کی روشنی میں ہوتی ہے۔ وہ ادب کو معاشی، معاشرتی پس منظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اصلیت اور واقفیت، جوش اور سوزوگداز کی انہوں نے برابر جستجو کی ہے۔ وہ مغرب کے اثرات کے قائل ہیں لیکن تنقید میں وہ اثرات کو خاطرخواہ برت نہیں سکتے کیونکہ عربی تنقید کے گہرے مطالعے نے ان کو پوری طرح مشرقی رنگ میں رنگ دیا ہے۔ چنانچہ ان کی عملی تنقید میں بندش کی چستی، معنی آفرینی اور نازک خیالی وغیرہ کا ذکر ملتا ہے۔تشریحی پہلو بھی ان کی تنقید میں نمایاں ہیں۔ الفاظ اور زبان و بیان کی طرف بھی ان کی توجہ رہتی ہے۔ بہرحال مجموعی اعتبار سے ان کی تنقید میں عہد تغیر کے اثرات غالب ہیں۔

Close