پروفیسر محمود شیرانی بحیثیت محقق

پروفیسر محمود شیرانی بھی بہت بڑے محقق ہیں۔ تحقیق و تدوین گویا ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔اسی وجہ سے ان کی تحریروں میں تحقیق کی طرف زیادہ توجہ ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کی تنقید پس منظر میں جا پڑی ہے۔ ان کی تحقیقی تحریروں میں کہیں کہیں تنقیدی اشارے ضرور مل جاتے ہیں، لیکن وہ تنقید کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں کرتے۔

ایک زمانے تک وہ اورینٹل کالج میگزین میں مختلف موضوعات پر تحقیقی مضامین لکھتے رہے۔ ان میں سے بعض کو انہوں نے کتابی شکل دے دی ہے۔ ان کی تحقیقی تصانیف میں "شعرالعجم، پنجاب میں اردو، فردوسی پر چار مقالے، خالق باری، پرتھوی راج راسا، تنقید آب حیات” خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ لیکن ان سب میں تنقیدی پہلو بہت کم نمایاں ہیں۔ صرف کہیں کہیں تلاش کے بعد ایسے اشارے ملتے ہیں جن سے ان کے تنقیدی خیالات کا اندازہ ہوتا ہے۔

وہ شعر و ادب کے متعلق وہی خیالات رکھتے ہیں جو دوسرے محققوں کے ہیں۔ عہد تغیر کے تنقیدی خیالات کا بھی ان پر خاصا اثر ہے۔ ان کو اس کی اہمیت کا بھی احساس ہے لیکن جہاں کہیں تھوڑی بہت تنقید کرتے ہیں اس میں ان کا انداز مشرقی ہوجاتا ہے۔وہ مشرقی اصطلاحات تنقید کو استعمال کرتے ہیں لیکن ویسے ادیب کی شخصیت، ماحول کے اثرات، ذہنی رجحان اور افتاد طبع کے اثرات کا خیال ان کے پیش نظر ضرور رہتا ہے۔ مثلاً ملا وجہی کی ‘سب رس’ پر ایک مضمون لکھتے ہوئے وجہی کے ماحول اور سماجی حالات کا ذکر وہ خاصی تفصیل سے کرتے ہیں۔ شعروادب ان کے نزدیک بیکار مشغلہ نہیں وہ اس میں شعور اور ادراک سے کام لینے کے قائل ہیں۔ان کا خیال ہے کہ اس میں حکیمانہ خیالات کا اظہار ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ شعر و ادب کے فنی اور جمالیاتی پہلو کی طرف بھی توجہ کرتے ہیں۔

یہ خیالات ان کی تحریروں میں کسی منظم اور مربوط شکل میں نہیں ملتے۔ یہ مختلف مضامین سے اخذ کئے گئے ہیں۔ ان مضامین میں بھی انہوں نے کھل کر ان موضوعات پر بحث نہیں کی ہے۔ ان کو پڑھ کر مذکورہ بالا نتائج نکالے جاسکتے ہیں۔

پروفیسر شیرانی کی تحریروں میں عملی تنقید کے نمونے بھی مکمل طور پر نہیں ملتے اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنا میدان صرف تحقیق کو سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے تنقید کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تنقید کی اہمیت ان کی تحریروں میں ثانوی رہ جاتی ہے۔ ان کی تنقید میں تشنگی اور گہرائی کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔

صلائیؔ کے متعلق ایک مضمون میں لکھتے ہیں: "صلائیؔ نے غزلیں بہت کم لکھی ہیں، ان میں عشقیہ مضامین ندرت کے ساتھ ملتے ہیں، حسن و عشق کے لطیف جذبات سے اس کا کارخانہ بالکل خالی معلوم ہوتا ہے البتہ حکمت و پند اور جوش بے خودی اور انانیت، دشمنوں سے چھیڑچھاڑ، ان پر طعن و طنز، ان کی دعائے مرگ، اپنا افلاس وفاداری اور حالات کی شکایت پر اسکا قلم رواں ہے۔ شاندار الفاظ اور بندشوں نے اس کی غزل کو قصیدہ کی چاشنی دے دی ہے”

اس بیان سے صلائیؔ کے کلام کی خصوصیات کا اندازہ ضرور ہو جاتا ہے لیکن اس کو پوری طرح تنقید نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس میں تجزیے کا پہلو نہیں۔ پروفیسر شیرانی کی تنقید کا عام انداز یہی ہے لیکن کہیں کہیں اس قسم کی بھی تنقید کرتے ہیں:

"انوری کا اعجاز اس کے قصائد مانے گئے ہیں۔ منتقدین کے نزدیک محاسن قصیدہ گوئی زیادہ تر شان و شوکت، شکوہ الفاظ، نادر تشبیہات اور صنائع بدائع پر ختم تھیں۔لیکن انوری کی جدت پسند طبیعت نے اس میں مضمون داخل کیا، خیال بندی کا شوخ رنگ چڑھایا اور صنائع بندی کا زور توڑ کر اس کے علمیت کو رنگ میں رنگ دیا۔فارسی زبان اس کے یہاں ایک نئی کروٹ لیتی ہے۔ جدید خیالات اور نئے اسلوب وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ وہ سینکڑوں بندشوں کا متبدع ہے”

اس سے انوری کی خصوصیت کا اندازہ ہوجاتا ہے لیکن اس میں بھی تنقید کا مشرقی انداز موجود ہے۔

پروفیسر شیرانی کو تحقیق سے غیرمعمولی انہماک تھا اس لئے وہ تنقید کی طرف پوری طرح توجہ نہیں کرسکے۔ لیکن ان کی تحریروں میں کچھ نہ کچھ تنقیدی خیالات ملتے ہیں جن کو مجموعی اعتبار سے دیکھنے کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ ان پر بھی عہد تغیر کی تنقید کا اثر ہے۔

Close