Advertisement

کتاب”نوائے اردو”برائے نویں جماعت

Advertisement

سبق نمبر03:افسانہ
مصنف کا نام: منشی پریم چند
سبق کا نام: حج اکبر

Advertisement

تعارف صنف:

اردو میں افسانے کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔ ناول کی طرح اس صنف پر بھی مغربی ادب کا گہرا اثر ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے زمانے کا ساتھ دینے اور مصروف رہنے والوں کے لیے مختصر افسانہ، ناول اور داستان سے زیادہ کشش رکھتا ہے۔

مختلف نقادوں نے افسانے کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں۔ ایک نقاد نے کہا ہے کہ افسانہ ایسی نثری کہانی ہے جو ایک ہی نشست میں پڑھی جاسکے۔ایک اور نقاد کا قول ہے کہ افسانے میں بنیادی چیز وحدت تاثر ہے۔

Advertisement

وقت کے ساتھ ساتھ افسانے کی شکل بھی تبدیل ہوئی ہے۔ایک اچھا افسانہ اختصار کے ساتھ زندگی کے کسی گوشے کو قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔ مختصر ہونے کی وجہ سے کہانی میں جھول پیدا ہونے کا اندیشہ بھی کم ہوتا ہے۔ افسانہ نگار کا مشاہدہ اور انسانی نفسیات کا مطالعہ گہرا ہونا چاہیے۔ کردار اور واقعات ایسے ہوں جو ہماری زندگی اورہمارے تجربوں سے مطابقت رکھے ہوں۔

Advertisement

اردو کے افسانہ نگاروں میں پریم چند، علی عباس حسینی ، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی ، راجندرسنگھ بیدی ، کرشن چندر ، غلام عباس ، قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین بہت اہم ہیں۔

تعارف مصنف:

منشی پریم چند کا اصلی نام دھنپت رائے تھا۔ انھوں نے نواب رائے کے نام سے کچھ افسانے لکھے، پھر 1910 ء میں پریم چند نام اختیار کیا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔ وہ بنارس کے قریب ایک گاؤں ہی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدمنشی عجائب لال ڈاک کے محکمہ میں کلرک تھے۔

Advertisement

پریم چند آٹھ سال کے تھے کہ ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ جب وہ پندرہ سال کے ہوئے تو ان کے باپ نے ان کی شادی کر دی۔ کچھ دنوں کے بعد ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھیں انٹر پاس کرنے کے بعد اپنی تعلیم چھوڑ دینی پڑی۔انھوں نے محکمہ تعلیم میں نوکری کر لی۔ سرکاری ملازمت کی وجہ سے حق بات کے اظہار میں رکاوٹ محسوس ہوئی تو ملازمت ترک کر کے ساری زندگی تصنیف و تالیف کے کاموں میں صرف کر دی۔

پریم چند نے تقریبا ساڑھے تین سو افسانے اور بارہ ناول لکھے۔انھیں اردو افسانے کا موجد نہیں تو پہلا بڑا افسانہ نگار ضرور کہا جاسکتا ہے اور اکثر لوگوں کے خیال میں وہ اردو کے سب سےبڑے افسانہ نگار بھی ہیں۔ انھوں نے مختصر افسانے کو ایک معیار عطا کیا۔ ان کے افسانے اور ناول اردو ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔

Advertisement

ان کے مجموعوں میں واردات ، پریم پچیسی، پریم بتیسی، ، آخری تحفہ،نجات اور زادراہ قابل ذکر ہیں اور ان کے ناولوں میں چوگان ہستی، میدان عمل ،بیوہ،بازار حسن اور گئودان ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔

پریم چند کے ناول اور افسانے بے مثل حقیقت نگاری کا نمونہ ہیں۔ ان کے افسانوں کا پس منظر مشرقی یوپی کا دیہات ہے۔ ہندوستانی کسان اپنی پوری شخصیت کے ساتھ پریم چند کی تصانیف میں نظر آ تا ہے۔ پریم چند کی نثر سادہ اور آسان ہے۔ اپنے انداز بیان سے انھوں نے افسانوں کو بہت پر لطف بنا دیا۔

Advertisement

افسانہ حج اکبر کا خلاصہ

منشی پریم چند نے افسانے "حج اکبر” میں ایک ایسے گھرانے کی کہانی کو پیش کیا ہے جن کی آمدنی کم تھی اور خرچے زیادہ۔ اپنے بچے کے لیے دایہ (آیا) رکھنا گوارا نہیں کرسکتے تھے لیکن ایک تو بچے کی صحت کی فکر اور دوسرے اپنے برابر والوں سے کم تر بن کر رہنے کی ذلت اس خرچ کو برداشت کرنے پر مجبور کرتی تھی۔

بچہ دایہ کو بہت چاہتا تھا ہر دم اس کے گلے کا ہار بنا رہتا۔بوڑھی دایہ ان کے یہاں تین سال سے نوکر تھی اس نے ان کے اکلوتے بچے کی پرورش کی تھی اپنا کام دل وجان سے کرتی تھی۔ اس لیے اسے نکالنے کا کوئی بہانہ نہ نہ تھا۔

Advertisement

کہانی کے مرکزی کردار یعنی بچے نصیر کی ماں شاکرہ اس معاملہ میں اپنے شوہر سے متفق نہ تھی۔ اسے شک تھا کہ دایہ ہم کو لوٹ رہی ہے۔ جب دایہ بازار سے لوٹتی تو وہ دہلیز میں یہ دیکھنے کے لیے چھپی رہتی کہ کہیں دایا آٹا چھپا کر تو نہیں رکھ دیتی، لکڑی تو نہیں چھپا دیتی، اس کی لائی ہوئی چیز کوگھنٹوں دیکھتی اور بار بار پوچھتی اتنا ہی کیوں ؟ کیا بھاؤ ہے ؟کیا اتنا مہنگا ہو گیا؟دایہ کبھی تو ان بدگمانیوں کا جواب نرمی سے دیتی لیکن جب بیگم زیادہ تیز ہو جاتیں تو اس کے لہجے میں بھی کڑواہٹ آ جاتی تھی۔

قسمیں کھاتی صفائی کی شہادتیں پیش کرتی اسی میں گھنٹوں لگ جاتے۔ قریب قریب روزانہ یہی معاملہ ہوتا اور روز ڈراما دایہ کے کچھ دیر رونے کے بعد انجام پاتا تھا۔اتفاق سے ایک روز دایہ کو بازار سے لوٹنے میں ذرا دیر ہو گئی وہاں دو سبزی فروشوں میں بڑے جوش وخروش سے مناظرہ تھا۔دایہ بھی کھڑی ہو گئی کہ دیکھوں کیا ماجرا ہے پر تماشا اتنا دلآویز تھا کہ اسے وقت کا بالکل احساس نہ ہوا۔

Advertisement

اچانک نو بجنے کی آواز کان میں آئی تو سحر ٹوٹا تو وہ بھاگتی ہوئی گھر کو چلی۔ مگر گھر پہنچتے ہی شاکرہ غصے سے بھرے بیٹھی تھی۔ آیا نے بہانہ تراشا کہ دور کے کسی رشتے دار کے مل جانے کی وجہ سے دیر ہوئی اور یہ کہنے کے بعد چھوٹے نصیر کو اٹھا لیا۔مگر شاکرہ پہلے تو آیا پر خوب برسی بعد میں نصیر کو اس سے چھین کر آیا کو نوکری سے نکال دیا۔

آیا کے جان کے بعد ننھا نصیر خوب رویا۔اپنے والد اور والدہ کے بہلاوے میں وہ کسی طور نہ آتا اور ہر وقت آیا آیا کی رٹ کگائے رکھتا۔ دروازے کی آواز ہوتی یا کچھ اور وہ آیا کر کے دوڑتے ہوئے جاتا۔ آیا کی جدائی کا نصیر پر بہت گہرا اثر ہوا اور کچھ ہی دنوں میں وہ شدید بیمار ہوگیا۔

Advertisement

دوسری جانب آیا کی حالت بھی نصیر سے مختلف نہ تھی۔شاکرہ کے خوف سے وہ نصیر کو ملنے بھی نہ آتی۔کئی بار ارادہ کیا مگر رستے سے ہی پلٹ گئی۔ نصیر کی جانب سے توجہ ہٹانے کی غرض سے آیا نے حج پر جانے کا ارادہ کیا اور جیسے ہی وہ اس مقدس سفر پر روانہ ہونے لگیں تو انھوں نے دیکھا کہ نصیر کے والد صابر حسین ان کو تلاش کرتے وہاں آپہنچے۔

صابر حسین اپنے بچے کی بگڑتی حالت کو برداش نہ کر پایا اور آیا کو واپس لانے کے لیے آپہنچا۔دوسری جانب شاکرہ بھی آیا سے اپنے رویے کے لیے بہت پشیمان تھی اور وہ اپنے بچے کی حالت کو لے کر بہت فکر مند بھی تھی۔ آیا نے صابر حسین سے جیسے ہی نصیر کی بیماری کی خبر طائی تو فوراً حج کا ارادہ ترک کیا اور صابر حسین کے ساتھ گھر کو ہو لی۔تمام راستے وہ نصیر کے کیے دعا گو رہیں اور خود کو ملامت کرتی رہیں کہ وہ نصیر کو دیکھنے کیوں نہ آئی۔

Advertisement

نصیر جذباتی طور پو آیا سے اس قدر جڑا ہوا تھا کہ آیا کی جدائی کو سہہ نہ پایا اور بیمار ہو گیا مگر جیسے ہی آیا واپس آئی تو اس کی واپسی سے مرجھایا ہوا نصیر دوبارہ سے کھلکھلا اٹھا۔ اس کا زرد چہرہ روشن ہو گیا۔وہ بہت جلد تندرست ہو کر دوبارہ سے آنگن میں کھیلنے لگ گیا۔ یوں مصنف نے نہایت خوبصورتی سے محبت اور خدمت خلق کے جذبے کو کہانی کے ذریعے پیش کیا۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:شاکرہ عباسی سے کیوں ناراض رہتی تھی ؟

شاکرہ کو یہ گمان ہوتا تھا کہ عباسی محض بچے کی محبت میں تو ان سے نہیں جڑی ہوئی ہے وہ ضرور راشن کی خریداری وغیرہ میں دو نمبری سے کام لیتی ہے اور باوجود برا بھلا کہنے کے بھی نوکری نہیں چھوڑتی ہے۔ انہی بدگمانیوں کی وجہ سے شاکرہ اس سے ناراض رہتی تھی۔

Advertisement

سوال نمبر02:نصیر کی بیماری کا کیا سبب تھا؟

نصیر کی بیماری کی بنیادی وجہ اس کی آیا سے اس کا جذباتی لگاؤ تھا۔جو آیا سے دوری کی صورت میں اس کی بیماری کی وجہ بنا۔

سوال نمبر03:عباسی نے حج پر جانا کیوں ملتوی کر دیا تھا ؟

عباسی کو جب نصیر کی بیماری کا معلوم ہوا تو اس نے ححج پر جانا ملتوی کر دیا۔

Advertisement

سوال نمبر04:عباسی کی واپسی سے نصیر پر کیا اثر ہوا؟

عباسی کی واپسی سے مرجھایا ہوا نصیر دوبارہ سے کھلکھلا اٹھا۔ اس کا زرد چہرہ روشن ہو گیا۔وہ بہت جلد تندرست ہو کر دوبارہ سے آنگن میں کھیلنے لگ گیا۔

سوال نمبر05:صابرحسین نے عباسی سے یہ کیوں کہا:
” تمھیں اس سے کہیں زیادہ ثواب ہو گیا۔ اس حج کا نام حج اکبر ہے ۔”

صابر حسین نے عباسی سے یہ جملہ کہ ” تمھیں اس سے کہیں زیادہ ثواب ہو گیا۔ اس حج کا نام حج اکبر ہے ۔” اس لیے کہا کہ اس نے محض انسانیت کی خدمت اور محبت کے فریضے کو مقدم جانتے ہوئے حج جیسے مقدس فریضے کو ترک کیا۔ انسانیت کی خدمت اور بھلائی بے شک ایک بڑا حج ہے۔

Advertisement

عملی کام:

ذیل میں دیے گئے محاوروں کے جملے بنائیے؛

خوشی سے پھولا نہ سمانا احمد کے والدین اس کی شاندار کامیابی پر خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے۔
آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنادشمن کے خلاف جوابی کارروائی کے بعد وطن عزیز کی جانب کسی کی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی ہمت نہ ہوئی۔
کانٹوں میں پیر رکھناخانگی معاملات میں مداخلت مرزا صاحب کے لیے کانٹوں میں پیر رکھنے کے مترادف تھی۔
گلے کا ہار ہونا چھوٹا بچہ آیا سے اس قدر مانوس تھا گویا اس کے گلے کا ہار بنا ہوا تھا۔
طبیعت سیر ہونا دعوت میں اچھا کھانا کھا کر مہمانوں کی طبیعت خوب سیر ہوئی۔

افسانہ (حج اکبر) کا مرکزی خیال بتائیے۔

اس افسانے کا مرکزی خیال خدمت خلق کا جذبہ ہے۔ کیانی میں یہ درس دیا گیا ہے کہ محض مذہبی عبادت باعث ثواب نہیں ہوتی بلکہ انسانی خدمت بھی عبادت سے بڑھ جر ثواب رکھتی ہے۔

درج ذیل الفاظ کے متضاد لکھیے :

نفرتمحبت
ستامہنگا
ہوشبے ہوش
محبتنفرت
خوشاداس
مہنگاسستا
روناہسنا
ہنسیرونا
شیریںنمکین

افسانہ حج اکبر کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

سبق کا خلاصہ اوپر ملاحظہ فرمائیں۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement