Advertisement

کتاب”سب رنگ”برائے دسویں جماعت۔

خلاصہ سبق:

قاضی عبدالغفار کا یہ سبق حکیم اجمل خاں کی زندگی کے دلچسپ پہلوؤں کو بیان کرتا ہے۔ جس میں مصنف نے حکیم اجمل خاں کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ 1863ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔آپ دہلی شہر کے مشہور حکیم ٹھہرے جن کی شہرت کا چرچا پورے ہندوستان میں تھا۔ کم عمری میں قرآن مجید حفظ کیا۔عربی اور فارسی کی تعلیم گھر پر حاصل کی۔

Advertisement

بچپن سے کتب بینی اور ورزش کا شوق رکھتےتھے۔آپ مصنف کے خاندانی حکیم تھے جنھوں نے طب کو زندہ رکھنے کے لیے طبیہ مددسے کی بنیاد رکھی۔حکیم اجمل خاں نے مدرسے کی ترقی کے لیے بڑی محنت اور جدوجہد کرکے اسے کالج کا درجہ دلوایا۔ اس میں عورتوں کی تعلیم کے لیے الگ شعبہ قائم کیا۔ آپ نے اپنا ذاتی دواخانہ اور تمام املاک بھی اس مدرسے کے لیے وقف کر دیں۔

اس زمانے میں ان کی سالانہ آمدنی دو لاکھ روپے تھی جو کہ انھوں نے مدرسے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔تعلیم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔انھیں خود بھی تعلیم سے بہت لگاؤ تھا۔آپ کو وطن سے بھی بہت محبت تھی اور وطن کو ہمیشہ آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔انگریز حکومت کی نا انصافیوں کے خلاف تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

Advertisement

عدم تعاون تحریک کے نتیجے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام سے علی گڑھ میں ایک درسگاہ مولانا محمد علی جو ہر، ڈاکٹر مختار احمد انصاری اور حکیم اجمل خاں کی کوششوں سے قائم ہو ئی۔ہندو مسلم اتحاد حکیم صاحب کو بہت عزیز تھا۔ جہاں کہیں دو فرقوں کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوتا وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پہنچ جاتے تھے اور وہاں سے صلح صفائی کروائے بنا واپس نہ لوٹتے تھے۔

آپ ایک بلند حوصلہ اور باہمت انسان تھے۔غیرت اور خوداری کا یہ عالم تھا کہ عزت نفس کے معاملے میں ان کی موم سی نرمی بھی سختی میں بدل جاتی تھی۔ ایک دفعہ ریل کے سفر کے دوران حکیم صاحب اول درجے کے ڈبے میں سفر کررہے تھے وہاں جب ایک انگریز کی آمد ہوئی تو ہندوستانی کو اول درجے میں دیکھ کر اس نے وہاں سے جانے کا حکم صادر کیا مگر اپ ٹس سے مس نہ ہوئے کچھ دیر بعد جب اس انگریز کو معلوم ہوا کہ یہ حکیم اجمل خاں ہیں جن کا شمار ہندوستان کے بڑے حکیموں میں ہوتا ہے تو وہ آپ سے تحمل سے بات کرنے لگا مگر آپ نے اسے جتا دیا کہ اس نے گفتگو کا یہ طریقہ پہلے کیوں نہ اپنایا یہ جان کر کہ میں حکیم اجمل ہوں اس کے انداز میں بدلاؤ آیا ہے اس لیے میں یہاں سے ہر گز نہ جاؤں گا۔

حکیم صاحب کی زندگی رئیسانی تھی۔ان کی ٹکر کا حکیم پورے ہندوستان میں نہ تھا ۔غریبوں کا مفت علاج کرتے اور دوا بھی فراہم کرتے تھے۔حکیم صاحب نے غریبوں اور ضرورت مندوں کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے۔انھوں نے بیواؤں اور یتیموں کے وضائف مقرر کر رکھے تھے۔ دینے کا انداز ایسا تھا کہ ایک ہاتھ سے دیتے تو دوسرے کو خبر تک نہ ہونے دیتے تھے۔ 1927ء میں آپ چونسٹھ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔لیکن ان کے کارنامے آج تک ان کی یاد دلاتے ہیں۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:

سوال نمبر01:حکیم اجمل خاں نے طبیہ مدرسے کی ترقی کے لیے کیا کام کیے؟

حکیم اجمل خاں نے مدرسے کی ترقی کے لیے بڑی محنت اور جدوجہد کرکے اسے کالج کا درجہ دلوایا۔ اس میں عورتوں کی تعلیم کے لیے الگ شعبہ قائم کیا۔ آپ نے اپنا ذاتی دواخانہ اور تمام املاک بھی اس مدرسے کے لیے وقف کر دیں۔ اس زمانے میں ان کی سالانہ آمدنی دو لاکھ روپے تھی جو کہ انھوں نے مدرسے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

سوال نمبر02:تعلیم کے بارے میں حکیم اجمل خاں کا کیا خیال تھا؟

تعلیم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔انھیں خود بھی تعلیم سے بہت لگاؤ تھا۔

Advertisement

سوال نمبر03:جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام سے قومی درسگاہ کہاں اور کن لوگوں کی کوششوں سے قائم ہوئی تھی؟

عدم تعاون تحریک کے نتیجے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام سے علی گڑھ میں ایک درسگاہ مولانا محمد علی جو ہر، ڈاکٹر مختار احمد انصاری اور حکیم اجمل خاں کی کوششوں سے قائم ہو ئی۔

سوال نمبر04:ہندو مسلم اتحاد کے لیے حکیم صاحب نے کیا خدمات انجام دیں؟

ہندو مسلم اتحاد حکیم صاحب کو بہت عزیز تھا۔ جہاں کہیں دو فرقوں کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوتا وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پہنچ جاتے تھے اور وہاں سے صلح صفائی کروائے بنا واپس نہ لوٹتے تھے۔

Advertisement

سوال نمبر05:ریل کے سفر میں حکیم صاحب کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟

ریل کے سفر کے دوران حکیم صاحب اول درجے کے ڈبے میں سفر کررہے تھے وہاں جب ایک انگریز کی آمد ہوئی تو ہندوستانی کو اول درجے میں دیکھ کر اس نے وہاں سے جانے کا حکم صادر کیا مگر اپ ٹس سے مس نہ ہوئے کچھ دیر بعد جب اس انگریز کو معلوم ہوا کہ یہ حکیم اجمل خاں ہیں جن کا شمار ہندوستان کے بڑے حکیموں میں ہوتا ہے تو وہ آپ سے تحمل سے بات کرنے لگا مگر آپ نے اسے جتا دیا کہ اس نے گفتگو کا یہ طریقہ پہلے کیوں نہ اپنایا یہ جان کر کہ میں حکیم اجمل ہوں اس کے انداز میں بدلاؤ آیا ہے اس لیے میں یہاں سے ہر گز نہ جاؤں گا۔

سوال نمبر06: حکیم صاحب غریبوں کی مدد کس طرح کرتے تھے؟

حکیم صاحب نے غریبوں اور ضرورت مندوں کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے۔انھوں نے بیواؤں اور یتیموں کے وضائف مقرر کر رکھے تھے۔ دینے کا انداز ایسا تھا کہ ایک ہاتھ سے دیتے تو دوسرے کو خبر تک نہ ہونے دیتے تھے۔ آپ غریبوں کا مفت علاج بھی کرتے اور انھیں دوا بھی مفت دیتے تھے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement