حکیم لقمان

  • بیٹا کسی کو خدا کا شریک نہ ٹھہرانا۔
  • جو بات لوگوں کو بری معلوم ہو وہ نہ کرو۔
  • جب خلقت کے پاس آؤ تو زبان کی نگہداشت کرو۔
  • علم بے عمل اور عمل بے علم سے پرہیز کرو۔
  • خاموشی کو اپنا شعار بنا تاکہ شر زبان سے محفوظ رہے۔
  • کثیر الفھم اور کم سخن بنا رہ اور حالت حاموشی میں بے فکر مت رہ۔
  • کوئی چیز تیرے نزدیک نعمت آخرت سے محبوب تر نہ ہو۔
  • حکمت اور دانائی مفلس کو بادشاہ بنا دیتی ہے۔
  • نیکی کی تکمیل یہ ہے کہ اس کو کر لیا جائے۔
  • راستے میں بزرگوں کے آگے نہ چل۔ یہ بے ادبی ہے۔
  • وقت کی اگر قیمت ہے تو وہ اس کا درست استعمال ہے۔
  • مصائب دنیا کوہ آسان خیال کر اور موت کو ہر وقت پیش نظر رکھ۔
  • جدوجہد نہ کرنا محتاجی کا باعث ہے۔
  • اپنے راز کو پوشیدہ رکھنا اپنی عزت کا بچانا ہے۔
  • غصہ مت کرو اس کی ابتدا جنون ہے اور انتہا پشیمانی۔
  • عقلمند کی دوستی اختیار کر اس میں فائدے بہت ہیں۔
  • عقل و حکمت کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ نظر نیچی رکھنا، سچ بولنا، عہد کو پورا کرنا، مہمان کو عزت کرنا، پڑوسی کی حمایت کرنا اور جس بات سے کوئی فائدہ نہ ہو تو اسے ترک کر دینا۔
  • مصائب سے مت گھبرائیے کیوں کہ ستارے اندھیرے ہی میں چمکتے ہیں۔
  • ہر شخص سچا دوست تلاش کرتا ہے لیکن خود سچا دوست بننے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔
  • مرد کامل تو وہی ہے جو دشمن کو دوست بنا سکے اور اگر کسی وجہ سے یہ تیری دسترس سے باہر ہے تو بخالت مخاصمت فرط غضب سے در گزر کر کہ تیرا غضب تیرے لیے دشمن سے زیادہ دشمن ہے۔
  • جو بات دشمن سے پوشیدہ رکھنا چاہتے ہو دوست سے بھی پوشیدہ رکھو۔ مبادا کسی دن میں بھی دشمن ہو جائے۔
  • طلوع آفتاب کے وقت نہ سو کیوں کہ یہ عبادت کا وقت ہے اس وقت سونا بدبختی ہے۔
  • عقل جیسی کوئی دولت نہیں اور جہالت جیسی کوئی غربت نہیں۔
  • جہاں تک ممکن ہو سکے لوگوں سے دور رہ تاکہ تیرا دل سلامت اور نفس پاکیزہ رہے۔
  • دنیا کے تھوڑے مال پر راضی رہ۔ رزق مقدر پر قناعت کر اور دوسرے کی روزی پر آنکھ مت ڈال تاکہ رنج نفس سے سلامت رہے۔
  • خدا اور موت کو کبھی نہ بھول۔ اپنی نیکی اور دوسروں کی بدی کو بھول جا۔
  • اپنے دل پر بھروسہ کرو کسی سے محبت یا نفرت کرنے میں محتاط رہو۔



Close