Advertisement

قطعہ

مثال کے طور پر قطعہ کے بارے میں اثرؔ کا خیال ہے کہ:
’’عروضی ترکیب اس صنف شاعری کی وہی ہے جو قصیدہ کی ہے۔ الّا یہ کہ اس صنف شاعری میں ہمیشہ مطلع ندارد ہوتا ہے ، اور اشعار کے عدد چار سے کم نہیں ہوتے۔ مضامین کے اعتبار سے یہ صنف شاعری میں ایک اعلیٰ درجہ رکھتی ہے۔ اس کے مضامین کو مسائل اخلاق و حکمت پر مشتمل ہونا چاہیے۔ قطع نگاری کا تقاضا یہی ہے ، مگر بعض شعرا نے اس صنف شاعری کو پست مضامین کی بندش سے درجۂ ابتذال کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہو کہ قطعہ نگاری کے لیے داخلی شاعری درکار ہے۔ چنانچہ فارسی اور اردو کے جتنے عمدہ قطعات ہیں اسی پہلو کے مضامین سے مزین نظر آتے ہیں۔ مگر اس جگہ ایک امر قابلِ گزارش یہ ہے کہ قطعہ نگاری میں شاعر کو یہ بات ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ اس کا کلام غزلیت کا رنگ پیدا نہ کرے۔ اِلّا اس حال میں کہ قطعہ بند اشعار وہ کسی غزل میں موزوں کرنے کو ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۲۹)

Advertisement

حالی کی قطعہ نگاری

اکیسویں صدی کے اس ما بعد جدید منظر نامہ میں بھی خواجہ الطاف حسین حالیؔ کی نظمیہ شاعری اصلاحی،اخلاقی اور مقصدی غیر معمولی معنویت و اہمیت کی حامل ہے۔مجموعی طور پر اس کا براہ راست تعلق اُردو ادب کے دورِ جدید سے وابسطہ ہے۔

Advertisement

1857 کی پہلی جنگِ آزادی کا اثر نہ صرف ہندوستان کی سیاسی ،تہذیبی ،اقتصادی اور معاشرتی زندگی پر پڑا بلکہ تہذیبی ،علمی ، ادبی اور شعری ادب پر بھی اس کا اثر مرتب ہوا۔ انیسویں صدی کا رُبع آخر اُردو شاعری کے لیے انقلاب آفریں دور تھا۔ ۱۸۷۴ء میں خواجہ الطاف حسین حالیؔ اور مولانا محمّد حسین آزادؔ نے کرنل ہالرائڈ کی سرپرستی میں انجمن پنجاب لاہور کے مشاعرے سے عنوانی نظموں کی بنیاد ڈالی۔ جس میں نیچرل اور متفرق مضامین پر مثنوی کی ہیت میں نظمیں کہی گئیں۔ انھیں با عنوان نظموں نے دورِ جدید کی نظمیہ شاعری کی سنگِ بُنیاد رکھی اور یہ نیا نظمیہ رنگ و آہنگ آہستہ آہستہ فروغ پانے لگا۔

Advertisement

دورِ جدید کے شعرانے شعوری طور پر حسن و عشق کی رسمی دُنیا کو ترک کرکے حقیقیت پسندی پر زیادہ زور دیا۔بہ اعتبار ہیت و موضوع اس میں نئے تجربے ہونے لگے اور بنانیہ،جذباتی واقعات، منظر کشی یا تشریحی،تمثیلی، سیاسی،قومی و ملکی نظمیں لکھی جانے لگیں۔جس سے اُردو شاعری میں نئی موضوعاتی اور اسلوبیاتی وسعتیں پیدا ہوئیں اور اُردو شاعری میں مختلف ہیتوں میں نظمیں تخلیق ہونے لگیں۔ انھیں میں سے ایک نظمیہ ہیت اصطلاحی طور پر قطعہ نگاری سے موسوم ہے۔

حالیؔ کی اصلاحی،اخلاقی،افادی اور مقصدی شاعری نے انیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں بہت بڑا مصلحانہ انقلاب آفریں کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے اُس دور سے قبل تک کی نام نہاد روایتی نظمیہ شاعری کے پس منظر اور پیش منظر کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ انھوں نے سرسید کی اصلاحی تحریک کے زیر اثر اپنی غیر معمولی فکری اور فنّی شعور و آگہی سے اُردو شاعری کو زندگی کا فنّی ترجمان بنا دیا۔ اُن کا بہ عنوان قطعہ ’چھوٹوں کا بڑا بن جانا‘ میں زندگی کی فنّی آئینہ داری ملاحظہ فرمائیں:

Advertisement
چند خطوط اک دانا نے
کھینج کر یاروں سے یہ کہا
دیکھ لو ان میں جتنے ہیں خط
کوئی ہے چھوٹا کوئی بڑا
ہے کوئی؟ جو بے ہاتھ لگائے
دے یوں نہیں خط کو بڑھا
ایک نے جتنے خط تھے بڑے
اُٹھ کے دیا ایک اِک کو مٹا
جب نہ رہا وہاں پیش نظر
خط کوئی چھوٹے خط کے سوا
دیکھا اُٹھا کر آنکھ جدھر
تھا وہی چھوٹا وہ ہی بڑا
کل کی ہے یارو بات کہ تھی
قوم میں باقی جان ذرا
قوم میں جیسا حال ہے اب
آدمیوں کا کال نہ تھا

خواجہ الطاف حسین حالیؔ کے قطعات میں عقل و جذبات کا ایک خاص توازن موجود ہے۔ حالیؔ کے سیاسی اورقومی و ملکی نظمیہ اشعار میں جوش نہیں ہے مگر تاثیر کی کمی نہیں پائی جاتی ہے۔ اُن کے قطعات میں سادگی،حسن اور شیرینی ملتی ہے۔ الفاظ مین گھن گرج نہیں۔ الفاظ دھیمے ہیں مگر اُس میں کسک اور کھٹک موجود ہے جو نشتر میں ہوتی ہے۔ اس ضمن میں حالیؔ کا کامیاب قطع ’انگلستان کی آزادی اور ہندوستان کی غلامی‘ سے ایک اقتباس خاطر نشیں ہو:

کہتے ہیں آزاد ہو جاتا ہے جب لیتا ہے سانس
یہاں غلام آکر کرامت ہے یہ انگلستان کی
اُس کی سرحد میں غلامیوں نے جو ہیں رکھا قدم
اور رگڑ کر پانؤ سے ایک اک کے بیڑی گر پڑی
قلب ماہیت میں انگلستان ہے اگر کیمیا
کم نہیں کچھ قلب ماہیت میں ہندوستان بھی
وہ رہے ہو کر غلام اِس کی ہوا جن کو لگی

حالیؔ کی قطعہ نگاری کا ایک پہلو مُصلحانہ ہے۔ وہ اپنی اصلاحی نطمیہ شاعری کے ذریعہ لوگوں کو متاثر کرتے ہیں اور زندگی کو سجانے،سنوارنے اور نکھارنے کا ایک موثر ذریعہ مانتے ہیں۔ حالیؔ اپنے دل میں اصلاح قوم کا جذبہ رکھتے تھے۔ وہ اپنے قطعات کو اصلاح کے لیے استعمال کرتے تھے اور اِن قطعات کے ذریعہ اچھّی باتوں کی تلقین اور دورِجدید کی نظمیہ شاعری کا شوق پیدا کرنے کے لیے اشعار کہتے تھے۔ حالیؔ کے قطعات میں بلا کی سادگی، سلاست اور روانی پائی جاتی ہے۔ جو اُن کی نظمیہ شاعری کا سب سے بڑا وصف و کمال ہے۔ وہ بڑی سے بڑی بات کو نہایت ہی سادگی سے بیان کر دیتے ہیں۔ جس نے حالیؔ کو لافانی بنا دیا۔ ’بیٹیوں کی نسبت‘ سے ایک اقتباس خاطر نشان ہو:

Advertisement
جاہلیت کے زمانہ میں یہ تھی رسم عرب
کہ کسی گھر میں اگر ہوتی تھی پیدا دختر
سنگ دل باپ اُسے گود سے لیکر ماں کی
گاڑ دیتا تھا زمیں میں کہیں زندہ جا کر
رسم اب بھی یہی دُنیا میں ہے جاری لیکن
جو کہ اندھے ہیں ہے کہ نہیں کچھ اُن کو خبر
لوگ بیٹی کے لیے ڈھونڈھتے ہیں پیوند
سب سے اوّل انھیں ہوتا ہے یہ منظورِ نظر
ایسے گھر بیاہئے بیٹی کو جو ہو آسودہ
اور مہ و مہر سے جو ذات میں افضل تر
جانے پہچانے ہوں سمدھیانہ کے سارے زن و مرد
اُن کے معلوم ہوں عادات و خصائل یکسر

’آبگینہ اور ہیرا‘ خواجہ الطاف حسین حالیؔ کا کامیاب ترین قطعہ ہے۔ جو اُردو قطعہ نگاری میں ایک شاہ کار کا درجہ رکھتا ہے۔ اس نظمیہ اشعار میں ایک ہیرا بہت ہی مغرور ہو کر شیشہ سے کہتا ہے کہ ائے ذلیل کمینے تیرا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔دُنیا میں کوئی تجھے منھ نہیں لگاتا ہے۔ تیری قدر و قیمت کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ تجھے پاکر کوئی خوش ہوتا ہے اور نہ ہی تجھے کھو کر کوئی رنجیدہ ہوتا ہے۔ اگر تو نقلی ہیرا بننا چاہتا ہے تو امتحان کے وقت تیری کلعی کھُل جاتی ہے۔ یہ سُن کر شیشہ مسکرایا اور کہا ائے جناب ہیرے صاحب آپ گو رتبہ اور عزت میں مجھ سے کہیں زیادہ ہیں لیکن دُنیا میں ایسے نظر والے کم ہیں۔ جو کھرے کھوٹے میں فرق کر سکیں۔ آج کل تو سب دھان بائس پسیری کا مضمون ہے۔ ہاں اگر چہ تیزئی چمک اور خوبی مجھ میں موجود نہیں لیکن جہاں تک عام پسندی اور قاعدے کا تعلق ہے ہم تجھ سے بہتر ہی ٹھہرتے ہیں۔ ’آبگینہ اور ہیرا‘دورِ جدید کی نظمیہ شاعری کی عمدہ مثال ہے۔ جس کو حالیؔ نے بہت ہی خوبصورت، دلکش اور فنّی پیرائے میں بیان کیا ہے۔ ’آبگینہ اور ہیرا‘ سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

از رہِ فخر آبگینہ سے یہ ہیرے نے کہا
ہے وجود اے مبتذل تیرا برابر اور عدم
جنس تیری کس مپرس اور قدر و قیمت تیری ہیچ
تیرے پانے کی خوشی کچھ اور نہ گُم ہونے کا غم
دے کے دھوکا تو اگر الماس بن جائے تو کیا
امتحاں کے وقت کھُل جاتا ہے سب تیرا بھرم
مسکرا کر آبگینہ نے یہ ہیرے سے کہا
گو کہ رتبہ ترا مجھ سے بڑا اے محترم
مجھ میں اور تجھ میں مگر کر سکتے ہیں جو امتیاز
ہیں مبصر ایسے اس بازارِ نا پُرساں میں کم
تیرے جوہر گو نہیں موجود اپنی ذات میں
تجھ سے اے الماس لیکن اچھّے پڑ رہتے ہیں ہم

خواجہ الطاف حسین حالیؔ کے قطعات میں شُگفتگی،دلکشی اور تازگی پائی جاتی ہے۔ جس سے اُن کی نطمیہ شاعری میں معنوی تسلسل پیدا ہو گیا ہے اور اُن کے قطعات اکیسویں صدی کے اس ما بعد جدید دور میں بھی معنی پرور ہیں۔ اُن کے قطعات حقیقت نگاری سے لبریز ہیں۔’سچ کہاہے‘ سے اشعار ملاحظہ ہو:

Advertisement
دیکھنے ہوں تمہیں گر جھوٹ کے انبار لگے
دیکھ لو جا کے خذانوں میں کتب خانوں کے
سچ کو تحریروں میں پاؤ گے نہ تقریروں میں
سچ کہیں ہے تو وہ سینوں میں ہے انسانوں کے

خواجہ الطاف حسین حالیؔ نے اپنی مقصدی نظمیہ شاعری کے ذریعہ اُردو شاعری میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ حالیؔ سے پیشتر ادب صرف ایک خاص اشرافی طبقہ کے لیے تھا اور اس پر جمود طاری تھا۔حالیؔ نے اس جمود کو توڑا تو ادب سے زندگی کے مسائل حل کرنے کا کام لیا جانے لگا۔ حالیؔ قطعات نگاری کو زندگی سے قریب لانا چاہتے تھے۔ اسی لیے حالیؔ اپنے افادی نطمیہ اشعار میں ایسے اسلوب اختیار کرتے تھے جو آسان ہو اور مِشعلِ راہ ہو۔ اس ضمن میں حالیؔ کا قطعہ ’مرد اور عورت کی حکومت کا فرق‘ خاطر نشیں ہو:

پوچھا کسی دانا سے سبب کیا ہے کہ اکثر
مردوں کی حکومت میں ہے ملکوں کی بری گت
لیکن بہ خلاف اس کے ہے عورت کا جہاں راج
وہاں ملک ہے سر سبز اور آباد رعیت
فرمایا کہ ہوتے ہیں جہاں مرد جہاں دار
قبضہ میں ہے وہاں عورتوں کے دولت وکمنت
اور سر پہ ہے عورت کے جہاں افسرِشاہی
سمجھو کے ہے اُس ملک میں مردوں کی حکومت

حالیؔ نے اپنی مُصلحا نظمیہ شاعری میں بے شمار قطعات لکھے ہیں۔ جن میں خاص طور سے ’شعر کی طرف خطاب‘،’مشاعرہ کی طرح پر غزل نہ لکھنے کا عُذر‘،’نکتہ چینی‘،’ایک خود پسند امیرزادہ کی تضحیک‘،’ بدی کرکے نیک نامی کی توقع رکھنی‘،’تفاخر سے نفرت کرنے پر تفاخر‘،’ سید احمد خاں کی تکفیر‘،’ قرض لے کر حج جانے کی ضرورت‘،’ سید احمد خاں کی مخالفت کی وجہ‘،’نوکروں پر سخت گیری کرنے کا انجام‘،’نیشن کی تعریف‘،’صفائی نہ رکھنے کا عُذر‘،’دلّی کی شاعری کا تنزّل‘ ،’ سید احمد خاں کی تصانیف کی تردید‘،’یقین‘،’استفادہ‘،’سخن سازی‘،’عقل اور نفس کی گفتگو‘،’خود ستائی‘،’پاس نیک نامی‘،’غرور نیک نامی‘،’کالے اور گورے کی صحت کا میڈیکل امتحان‘،’رَؤسائے عہد کی فیاضی‘،’ ایمان کی تعریف‘،’ خادم آقا کی خدمت میں کیوں گستاخ ہو جاتے ہیں‘،’خوشامد کرنے کی ضرورت‘،’رشک‘،’قانون‘،’ حرص‘، ’ فُضول خرچی کا انجام‘،’ کام اچھا کرنا چاہئے نہ جلد‘،’بے اعتدالی‘،’اپنی ایک ایک خوبی کو بار بار ظاہر کرنا‘، ’چانڈو بازی کا انجام‘،’قوم کی پاسداری‘ اور’ اسراف اور بخل‘ ہیں۔ مذکورہ بالا قطعات میں اِخلاقی،سماجی،سیاسی،اصلاحی،مقصدی،افادی اور قومی رنگ و آہنگ نظر آتا ہے۔

Advertisement

’اسراف اور بخل‘ حالیؔ کا بہت ہی مشہور اور معنی خیزقطعہ ہے۔ جس میں شاعر نے نہایت ہی نصحیت آمیزاور دلکش انداز میں فُضول خرچی اور کنجوسی کا مقابلہ پیش کیا ہے۔ کسی نے حالیؔ سے پوچھا کہ آپ فضول خرچی کی کیوں برائی کرتے ہیں جب کہ پُرانے شعرا تو کنجوسی کی بُرائی کیا کرتے تھے۔ حالیؔ نے فرمایا کہ جب ہمارے پاس پیسہ تھا۔ سکون تھا۔دولت تھی۔ فارغالبالی تھی۔ جب سب کچھ آتا ہے۔ اس کو بغیر سوچے سمجھے آگے پیچھے کا خیال کرتے ہوئے ہم خرچ کر دیتے ہیں۔ جب مستقبل کے لیے کچھ نہیں ہے تو فضول خرچی اور سخاوت کیسے ہو سکتی ہے۔ ’اسراف اور بخل‘ کے نظمیہ اشعار ملاحظہ ہو:

حالیؔ سے کہا ہم نے کہ ہے اس کا سبب کیا
جب کرتے ہو تم کرتے ہو مُسرِف کی مذمّت
لیکن بہ خلاف آپ کے سب اگلے سخنور
جب کرتے تھے کرتے تھے بخلیوں کو ملامت
اسراف بھی مذموم ہے پر بخل سے کمتر
ہے جس سے کہ انسان کو بِا لطبع عداوت
حالیؔ نے کہا رو کے نہ پوچھو سبب اس کا
یاروں کے لیے ہے یہ بیاں موجبِ رِقّت
کرتے تھے بخیلوں کو ملامت سلف اس وقت
جب قوم میں افرات سے تھی دولت و ثروت
وہ جانتے تھے قوم ہو جس وقت تونگر
پھر اس میں نہیں بخل سے برتر کوئی خصلت
اور اب کہ نہ دولت ہے نہ ثروت ہے نہ اقبال
گھر گھر پہ ہے چھایا ہوا افلاس و فلاکت
ترغیب سخاوت کی ہے اب قوم کی ایسی
پرواز کی ہے چیونٹیوں کو جیسے ہدایت

اسی طرح حالیؔ نے اپنے قطعہ ’خوشامد کے معنی‘ میں اپنے فکری اور فنّی شعور و آگہی سے روشناس کرایا ہے۔ ’خوشامد کے معنی‘ سے نظمیہ اشعار خاطر نشان ہو:

Advertisement
خوشامد کرتے ہیں آ آکے جو لوگ
تمہاری ہر دم اے اربابِ دولت
خوشامد پر نہ اُن کی پھولنا تم
وہ گویا تم کو کرتے ہیں ملامت
کہ جو ہم نے بیاں کیں خصلتیں نیک
نہیں اِن میں سے تم میں ایک خصلت

حالیؔ نے اپنے قطعات میں اصلاحی اسلوب استعمال کیا ہے۔ اُن کے تمام قطعات میں اصلاحی رنگ جا بجا نظر آتا ہے۔ وہ اپنے نظمیہ اشعار کے ذریعہ عوام کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اُن کی نظمیہ شاعری کا فنّی حسن و جمال یہ ہے کہ وہ عام فہم اور سادہ وسلیس زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ تشبیہ،استعارہ اور مبالغہ وغیرہ سے وہ گریز کرتے ہیں۔ سادہ بیانی کی عمدہ تصویرحالیؔ کے قطعہ ’کام اچھّا کرنا چاہئے نہ جلد ‘میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس قطعہ کے نظمیہ اشعار ملاحظہ ہو:

کام اچھّا کوئی بن آیا اگر انسان سے
اُس کی تاخیر اُس نے جس قدر اچھّا کیا
کب کیا کیوں کر کیا یہ پوچھتا کوئی نہیں
بلکہ ہیں بھی دیکھتے جو کچھ کیا کیسا کیا

اُردوادب میں حالیؔ کے علاوہ آزادؔ ،شبلیؔ ،اکبرؔ ،اقبالؔ ،وحید الدین سلیم ؔ ،جوشؔ ،فراقؔ ،فیضؔ ؔ اور اختر انصاری نے بے شمار قطعات لکھے لیکن جو رنگ حالیؔ نے اختیار کیااُس سے اُردو شاعری میں بڑا تغّیر برپا ہو گیا۔ حالیؔ نے اپنے دورِ جدید کے نظمیہ اشعار سے دوسرے شعرا کو روشنی بخشی اور اُردو ادب کو مالا مال کیا۔ حالیؔ قطعہ نگاری کو زندگی کے قریب لانا چاہتے تھے۔ آرٹ کو صرف آرٹ کی خاطر ہی نہیں بلکہ اخلاقی زندگی کو سنوارنے،سجانے،نکھارنے اور سدھارنے کی خاطرشعوری طور پر استعمال کرتے تھے۔

Advertisement
تحریرمحمد ذیشان اکرم
Advertisement

Advertisement

Advertisement