• کتاب” اپنی زبان "برائے چھٹی جماعت
  • سبق نمبر14: مضمون
  • سبق کا نام: ہمارے تہوار

خلاصہ سبق:

سبق ” ہمارے تہوار” میں ہندوستان کی سرزمین پر منائے جانے والے نمایاں مذہبی تہواروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ہندوستان کی سر زمین تہواروں کی سر زمین ہے جہاں ہر مذہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں۔ جو اپنے اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق تہوار مناتے ہیں۔تہوار نہ صرف کسی ملک کی تہذیب کے مختلف پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ تہوار خوشی اور امن کا پیغام بھی دیتے ہیں۔

پورے ملک میں منائے جانے والے اہم تہواروں میں ہولی دیوالی ،عید ،کرسمس اور گرونانک جینتی وغیرہ اہم ہیں۔ جبکہ علاقائی سطح پہ جنم اشٹمی ،مہاویر جینتی ، اونم ،پونکل ،بیساکھی وغیرہ اہم ہیں۔ہولی کا تہواررنگ اور مستیوں سسے بھر پور ہندوؤں کا مشہور تہوار ہے۔یہ تہوارہر سال فروری،مارچ میں منایا جاتا ہے۔

Advertisement

ہرن کشیپ نامی ایک ظالم راجہ نے اپنے بیٹے پر ہلاد کو جلانے کی کوشش کی تھی لیکن وشنو جی کی مہربانی سے وہ بچ گیا۔ اس کوشش میں پرہلاد کی ‘بوا’ ہولیکا جل کر ختم ہو گئی جس کی یاد میں یہ تہوار منایا جاتا ہے۔ایک رات شب مہورت پہ آگ جلانے کے بعد اگلے دن رنگ کھیلا جاتا ہے۔یہ تہوار آپسی رنجشوں اور نفرتوں کو بھلانے کا تہوار ہے۔

دیوالی ہندوؤں کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ جو کہ خوشحالی ،روشنیوں اور مسرت کا تہوار کہلاتا ہے۔ یہ تہوار ہر سال اکتوبر نومبر میں پورے ہندوستان میں منایا جاتا ہے۔یہ تہوار پہلی بار اس وقت منایا گیا جب ران چندر جی لنکا کے راجہ راون کو ہرا کر اپنی راجدھانی اجودھیا میں داخل ہوئے تھے۔ اس وقت ہر طرف چراغ جلا کر دیوالی منائی گئی۔ اب ہر سال بدی پر نیکی کی فتح کی خوشی میں یہ تہوار منایا جاتا ہے۔اس تہوار پہ سب آتش بازی کرتے اور خوشیاں مناتے ہیں۔

اونم کا تہوار جنوبی کیرالہ میں ساون بھادوں میں منایا جاتا ہے۔اس دن وہاں کے باشندے راجہ مہا بلی کے زمانے کے امن و سکون ، خوشحالی اور آپسی محبت کو یاد کرکے گیت گاتے ہیں۔ عورتیں گھروں کو صاف کر کے خوشنما پھولوں سے سجاتی ہیں۔ راجا مہا بلی اور وشنو کی پوجا۔کی جاتی ہے۔ گھر کے بڑے بزرگ چھوٹوں کو تحائف دیتے ہیں۔

پونگل تمل ناڈو اور کیرالہ کا خاص تہوار ہے۔ جس کے لفظی معنی چاول کی کھیر کے ہیں جو اس موقع پر غریبوں کوکھلائی جاتی ہے۔یہ تہوار تین دن تک منایا جاتا ہے۔ جس کا پہلا دن پھوگی پونگل دوسرا دن سوریہ پونگل جبکہ تیسرا دن مٹو پونگل کہلاتا ہے۔اس تہوار کے موقع پہ پتنگ بازی ہوتی ہے اور شکار کھیلا جاتا ہے۔

عید کا تہوار مسلمان لوگوں کا خاص تہوار ہوتا ہے۔ مسلمان سال میں دو عیدیں مناتے ہیں پہلی عید رمضان کے روزے مکمل ہونے کی خوشی میں یکم شوال کو منائی جاتی ہے جسے عیدالفطر کہا جاتا ہے۔اس عید پہ عید سے قبل ایک مقررہ رقم غریبوں میں تقسیم کی جاتی ہے جو صدقہ فطر کہلاتی ہے۔ بچے بڑے سب خوشیاں مناتے اور سویاں کھاتے ہیں اور دوسروں کو کھلاتے ہیں۔

جبکہ دوسری عید عیدالاضحی کہلاتی ہے جو حضرت ابرہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم کو بشارت دی کہ مجھ سے سچی محبت کرتے ہو تو اپنی سب سے عزیز چیز کو میرے راستے میں قربان کرو۔ اللہ کی محبت میں حضرت ابرہیم اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ مییں قربان کرنے جارہے تھے کہ اللہ کے حکم سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ چھری تلے دنبہ آگیا۔ اسی عظیم قربانی کی یاد میں ہر سال یہ تہوار منایا جاتا ہے۔

25 دسمبر یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے دن کو عیسائی کرسمس ڈے یا بڑا دن کہتے ہیں۔ ا س روز گرجا گھروں میں روشنیوں کا خاص اہتمام ہوتا ہے اور عیسیٰ مسیح کی عظمت کے گیت گائے جاتے ہیں۔بچوں میں چیزیں بانٹی جاتی ہیں اور کرسمس پیڑ سجایا جاتا ہے۔گرونانک جینتی سکھوں کا خاص تہوار ہے۔ سکھ مذہب کے بانی گرونانک دیو کی پیدائش کے دن یہ تہوار منایا جاتا ہے۔اس دن گردواروں کو سجا کر پاٹھ کیا جاتا ہے۔شربت اور کھانے کی چیزیں تقسیم کی جاتی ہیں۔ بیساکھی بھی سکھوں کا تہوار ہے۔ یہ 13 اپریل کو پنجاب میں منایا جاتا ہے۔اسی دن سکھوں کے دسویں اور آخری گرو نے خالصہ پنتھ قائم کیا تھا۔ ان دن پنجاب میں میلے لگتے ہیں۔ لڑکے بھنگڑے کا رقص جبکہ لڑکیاں فصل کے گیت گاتی ہیں۔

سوچیے اور بتایئے:

تہواروں سے ہمیں کیا پیغام ملتا ہے؟

تہوار نہ صرف کسی ملک کی تہذیب کے مختلف پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ تہوار خوشی اور امن کا پیغام بھی دیتے ہیں۔

ہولی کا تہوار کس واقعے کی یاددلاتا ہے؟

ہولی کا تہوار ہندوؤں کا مشہور تہوار ہے۔ ہرن کشیپ نامی ایک ظالم راجہ نے اپنے بیٹے پر ہلاد کو جلانے کی کوشش کی تھی لیکن وشنو جی کی مہربانی سے وہ بچ گیا۔ اس کوشش میں پرہلاد کی ‘بوا’ ہولیکا جل کر ختم ہو گئی جس کی یاد میں یہ تہوار منایا جاتا ہے۔

دیوالی کیوں منائی جاتی ہے؟

دیوالی ہندوؤں کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ جو کہ خوشحالی ،روشنیوں اور مسرت کا تہوار کہلاتا ہے۔ یہ تہوار پہلی بار اس وقت منایا گیا جب ران چندر جی لنکا کے راجہ راون کو ہرا کر اپنی راجدھانی اجودھیا میں داخل ہوئے تھے۔ اس وقت ہر طرف چراغ جلا کر دیوالی منائی گئی۔ اب ہر سال بدی پر نیکی کی فتح کی خوشی میں یہ تہوار منایا جاتا ہے۔

اونم کا تہوار کس طرح مناتے ہیں؟

اونم کا تہوار جنوبی کیرالہ میں ساون بھادوں میں منایا جاتا ہے۔اس دن وہاں کے باشندے راجہ مہا بلی کے زمانے کے امن و سکون ، خوشحالی اور آپسی محبت کو یاد کرکے گیت گاتے ہیں۔ عورتیں گھروں کو صاف کر کے خوشنما پھولوں سے سجاتی ہیں۔ راجا مہا بلی اور وشنو کی پوجا۔کی جاتی ہے۔ گھر کے بڑے بزرگ چھوٹوں کو تحائف دیتے ہیں۔

’ پونگل“ کے لفظی معنی کیا ہیں اور یہ کس علاقے کا تہوار ہے؟

پونگل تمل ناڈو اور کیرالہ کا خاص تہوار ہے۔ جس کے لفظی معنی چاول کی کھیر کے ہیں جو اس موقع پر غریبوں کوکھلائی جاتی ہے۔

عید کا تہوار کب اور کیوں منایا جاتا؟

عید کا تہوار مسلمان لوگوں کا خاص تہوار ہوتا ہے۔ مسلمان سال میں دو عیدیں مناتے ہیں پہلی عید رمضان کے روزے مکمل ہونے کی خوشی میں یکم شوال کو منائی جاتی ہے جسے عیدالفطر کہا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری عید عیدالاضحی کہلاتی ہے جو حضرت ابرہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔

عیدالاضحی کا تہوار کس قربانی کی یاد دلاتا ہے؟

عیدالاضحی کا تہوار حضرت ابرہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم کو بشارت دی کہ مجھ سے سچی محبت کرتے ہو تو اپنی سب سے عزیز چیز کو میرے راستے میں قربان کرو۔ اللہ کی محبت میں حضرت ابرہیم اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ مییں قربان کرنے جارہے تھے کہ اللہ کے حکم سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ چھری تلے دنبہ آگیا۔ اسی عظیم قربانی کی یاد میں ہر سال یہ تہوار منایا جاتا ہے۔

کرسمس ڈے کسے کہتے ہیں؟

25 دسمبر یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے دن کو عیسائی کرسمس ڈے یا بڑا دن کہتے ہیں۔

گرونا نک جینتی کیوں منائی جاتی ہے؟

گرونانک جینتی سکھوں کا خاص تہوار ہے۔ سکھ مذہب کے بانی گرونانک دیو کی پیدائش کے دن یہ تہوار منایا جاتا ہے۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

ناراضگیمجھے امی کی ناراضگی سے بہت ڈر لگتا ہے۔
استقبالمہمان خصوصی کا پر تپاک استقبال کیا گیا۔
قابلِ دید دہلی میں کئی ایک قابل دید مقامات ہیں۔
پیغامانسانیت ہر مذہب کا پیغام ہے۔
خوشحالیدیوالی کا تہوار خوشحالی کی دیوی کے استقبال کے لیے منایا جاتا ہے۔
پرکیفعید کا دن بہت پر کیف ہوتا ہے۔

کالم’الف’سے کالم’ب’ کو ملائیے۔

کالم الف: کالم ب:
دیوالی کا تہوار بدی پر نیکی کی فتح کی خوشی منائی جاتی ہے۔ 1
اونم کا تہوارلوگ نفرت اور ناراضگی کو بھلا کر رنگ کھیلتے اور گلے ملتے ہیں۔ 2
ہولی کے تہوارسیکولر اور ملی جلی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے۔ 3
کرسمس ڈے کے موقع پرحضرت عیسیٰ مسیح کی عظمت اور عقیدت کے گیت گاتے ہیں۔ 4
بقر عید کا تہوار حضرت ابرہیم کی قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ 5
گروناک جینتیسکھ مذہب کے بانی کی پیدائش کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ 6

ان لفظوں کے متضاد لکھیے:

خوشیغمی
فتحشکست
رہائیقید
نیکیبدی
نفرتمحبت
خوشحالبدحال
غریبامیر

لکھیے:

سبق میں لفظ "خوش حال” استعمال ہوا ہے۔ جو دو لفظوں خوش اور حال سے مل کر بنا ہے۔ اسی طرح خوش لگا کر پانچ نئے لفظ بنائیے:

خوش بخت ، خوش قسمت ،خوش اخلاق ،خوش شکل ، خوش الحان ، خوش خوراک وغیرہ۔