پروفیسر حامد حسن قادری بحیثیت محقق

پروفیسر حامد حسن قادری اردو زبان کے مؤرخ کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ ان کی کتاب "تاریخ داستان اردو” اردو نثر کی سب سے اچھی اور جامع کتاب ہے۔ اسی کتاب میں وہ اپنے محقق ہونے کا ثبوت بھی دیتے ہیں۔ انہوں نے اردو زبان اور اردو نثاروں کے متعلق لکھتے ہوئے بعض ایسی باتیں کہی ہیں اور چند ایسی چیزوں کا پتہ لگایا ہے جس سے ان کی طبیعت کے تحقیقی رجحان کا پتہ چلتا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے اپنے دوسرے مضامین میں بھی زبان و ادب اور ان کے مختلف مسائل پر تحقیقی زاویہ نظر سے روشنی ڈالی ہے۔ ان کی تصانیف میں "تاریخ داستان اردو، تاریخ و تنقید ادبیاتاردو، نقدونظر، ماثر عجم اور کمال داغ کے دواین کا انتخاب مع ایک طویل مقدمہ کے خاص طور پر مشہور ہیں۔

ان کے علاوہ چند اور مضامین بھی ہیں جو انہوں نے رسائل میں لکھے ہیں۔ ان سب سے ان کے تنقیدی خیالات کا اندازہ ہوتا ہے۔ پروفیسر قادری ہر بات میں قدامت پسند اور روایت پرست ہیں۔انہوں نے خود اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔لکھتے ہیں:

"میں بڑھاپے کی نسبت سے بہت بڑھ کر قدامت پسند بلکہ قدامت پرست ہوں۔ میں اپنے مذہب، اخلاق و معاشرت، ادب اور شاعری سب میں نہایت کٹر واقع ہوا ہوں۔ میں اپنے مذہب کو الہامی، اپنی تہذیب کو توفیقی اور اپنے شعر و ادب کو روایتی سمجھتا ہوں اور ان میں سے کسی کے متعلق اپنے نظریے کو بدلنے کے لیے تیار نہیں۔میں زندگی کے ہر پہلو، انقلاب کی ہر تحریک اور شعر و ادب کی ہر تجدید کو اپنے اصول پر جانچتا ہوں اور پر رکھتا ہوں”

ان خیالات کے زیر اثر ہی ان کے تنقیدی نظریات کی تشکیل ہوتی ہے۔ ان میں روایت پرستی قدم قدم پر موجود ہے لیکن خلوص کا فقدان نہیں۔ ان کے ذہنی رحجان اور افطاد طبع نے انہیں جس راستے پر گامزن کیا ہے وہ اسی پر چل دیتے ہیں۔ چنانچہ ان کی تنقید میں تنقید قدیم کے اثرات کا غلبہ نظر آتا ہے۔

وہ شعر و ادب کے ظاہری پہلو کی اہمیت کے قائل ہیں۔انہوں نے کئی جگہ اس کا اظہار کیا ہے اور ان کے انداز تنقید سے بھی یہی پتہ چلتا ہے۔

وہ ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کے نظریوں کے قائل ہیں۔ ان کے خیال میں شاعری کام بھی ہے، شاعری براۓ زندگی بھی ہے اور برائے شعر و ادب بھی اور برائے لا شے بھی۔مشرق ہندوستان کا نظریۂ شاعری مغرب سے بالکل مختلف رہا ہے اور ہے اور رہے گا۔

صاف ظاہر ہے کہ وہ ان میں سے کسی ایک نظریہ سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ وہ دونوں کے دوراہے پر کھڑے ہیں۔ شاعری ان کے نزدیک مقصدی بھی ہوسکتی ہے اور غیر مقتدی بھی۔ اس سے بڑے بڑے کام بھی لئے جاسکتے ہیں اور اس سے صرف خوشی بھی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن وہ اس موضوع پر کہیں تفصیل سے بحث نہیں کرتے۔ ویسے ان کی مختلف تحریروں کو دیکھنے کے بعد یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ شاعری میں حکیمانہ خیالات اور اخلاقیات کو ضرور جگہ دینی چاہیے۔ وہ شاعری کو علوم کا جوہر، لطیف اور روح رواں سمجھتے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے میتھیو آرنلڈ کے مضمون "مطالعہ شاعری” کا ترجمہ کچھ اس طرح کیا ہے کہ ایک ایک لفظ سے انہیں اتفاق ہے‌ یہ مضمون "نقد وشعر” میں شامل ہے۔

بہرحال پرفیسر قادری شاعری میں جس مقصدیت کے قائل ہیں اس کی نوعیت سماجی اور عمرانی کم ہے عملی اور فکری زیادہ ہے۔ اگر شاعری بغیر مقصد کے بھی تخلیق کی جائے تو اس کو بھی وہ برداشت کرسکتے ہیں بشرطیکہ اس میں شاعری کی وہ خصوصیات موجود ہوں جن کو اسلوب اور انداز بیان کہا جاتا ہے۔ یہ چیز ان کی مشرق پرستی پر دلالت کرتی ہے۔ وہ نئے تجربات کے مخالف نہیں ہے لیکن مشرقی رنگ کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔لکھتے ہیں:

"میرا مقصد یہ ہے کہ انقلاب جدید کے اثرات سے اردو شاعری کے قدیم موضوعات میں تغیر ہو جائے۔ قدیم اصناف تبدیل ہوجائیں، نئے تجربات لکھے جائیں، نئی آفادی حیثیت پیدا ہوجائے کوئی مضائقہ نہیں لیکن ہندوستانیت فنا نہ ہونی چاہیے، مشرقیت تباہ نہ ہو جائے”

یہ باتیں انکی مشرقیت اور روایت کو ظاہر کرتی ہیں ان ہی خیالات کا اثر ہے کہ انہوں نے مغرب کے اثرات قبول نہیں کیے وہ اپنے تنقیدی خیالات اور انداز تنقید دونوں میں مشرقی ہیں۔ پروفیسر پر انہی خیالات کا اثر ہے۔وہ عموماً مشرقی انداز کی تنقید کرتے ہیں ان کے یہاں انداز بیاں اور طرز ادا پر زیادہ زور ہوتا ہے۔ وہ کسی ادبی تخلیق کی سماجی اور عمرانی اہمیت پر بہت کم روشنی ڈالتے ہیں۔ زبان کی صحت، صنائع بدائع، بندشوں اور ترکیبوں کا خیال خاص طور پر ان کے پیش نظر رہتا ہے اور اسی میں وہ اصلیت اور واقعیت کی تلاش بھی کرتے ہیں لیکن صحیح جذبات و احساسات اور واردات قلبیہ کو بھی وہ نظرانداز نہیں کرتے۔

اردو تنقید میں پروفیسر قادری کی حیثیت ایک بزرگ کی ہے۔ ان کا مزاج مشرقی ہے، انہوں نے مشرقی علوم کا بغور مطالعہ بھی کیا ہے، وہ مشرق کو مشرق سمجھتے ہیں اور مغرب کو مغرب۔ وہ مشرق کی اہمیت کے قائل ہیں اسی وجہ سے انہوں نے اپنی تنقید میں مشرقی رنگ دیا ہے حالانکہ وہ مغربی تنقید سے ناواقف نہیں ہیں۔

Close