Advertisement

تعریف

حقیقت پسند ادیب تحقیق پر امرِ واقعہ کو ترجیح دیتا ہے۔ ماضی کی بائے حال کے مسائل و معاملات کو اہم جانتا ہے۔ چونکہ زندگی کی موضوعی تصویر کشی اس کا مقصود ہے۔ اس لیے وہ اپنی ذات کو ادب پارے میں نمایاں کرنے سے اجتناب برتتا ہے۔ وہ زندگی کےک ایسے کراہت انگیز کوائف و مظاہر کو بھی موضوع بناتا ہے جن کا وجود مسلم ہوتا ہے۔ مگر نفاست پسند ادیب انہیں قابل اعتنا نہیں جانتے۔ وہ زندگی کو رنگین شیشوں میں سے دیکھنے کی بجائے اپنی ننگی آنکھ سے دیکھتا ہے اور کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے جوں کا توں پیش کرے۔

Advertisement

تفصیل و توضیح

ادب میں اشیاء، اشخاص اور واقعات کو کسی قسم کے تعصب، حیثیت، موضوعیت اور رومانیت سے آلودہ کیے بغیر دیانت و صداقت کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش حقیقیت پسندی یا حقیقت نگاری کہلاتی ہے۔ با الفاظ ِ دیگر حقیقت پسندی یا حقیقت نگاری کے معنی ہیں خارجی حقائق مثلاََ سماجی زندگی اور اس کے مسائل کو حتمی المقدور معروضی صحت کے ساتھ پیش کرنا اور کسی خیالی یا مثالی دنیا کے بجائے اس کھردری مگر حقیقی دنیا کو موضوع بنانا۔ گویا بغیر کسی رنگ و روغن کے آدمیوں اور ان کی زندگی کا سچا بیان حقیقت نگاری کہلاتا ہے۔ حقیقت نگاری کو انگریزی میں ریئلزم Realism کہا جاتا ہے۔

Advertisement

مثالیں

پریم چند کا افسانہ “کفن” حقیقت نگاری کی روایت میں ایک اہم سنگ ِ میل کا درجہ رکھتا ہے۔ کفن بڑی بھیانک تصویر ہے۔ خود پریم چند کے ہاں بھی حقیقت نگاری کی ایسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے متعدد افسانوں میں بلا کی حقیقت نگاری پائی جاتی ہے۔ یعنی اگر منٹو کے افسانوں کو تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو ہمیں پاکستان اور بھارت کی تقسیم کے واقعات کا عکس دکھائی دیتا ہے۔

Advertisement
تحریرمحمد ذیشان اکرم
Advertisement

Advertisement

Advertisement