حضرت حسن البصری رحمتہ اللہ علیہ

  • یاد رکھو جو شریر لوگوں سے صحبت رکھے گا وہ اپنی شرارت نفس کے ماتحت ہوگا اور اگر اس میں بھلائی اور نیکی ہوگی تو وہ اخیار کے ساتھ ہی صحبت پسند کرے گا۔
  • جو بد بختوں میں رہے گا نیکیوں کی جماعت سے اور ان کے پیشواؤں سے بدگمان ہو جائے گا اور یہ بات متفق علیہ ہے بلکہ یقینی۔
  • جو کام حکمت سے خالی ہے وہ آفت ہے، جو خاموشی سے خالی ہے وہ غفلت ہے، جو نظر حکمت سے خالی ہے وہ ذلت ہے۔
  • جھوٹا سب سے پہلے اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
  • غم سے روح میں توانائی آتی ہے۔
  • جسے خدا ذلیل کرنا چاہے وہ دولت کی تلاش میں لگ جاتا ہے۔
  • نفس سے بڑھ کر دنیا میں منہ زور اور بد لگام کوئی جانور نہیں۔
  • جو شخص دنیا میں رہ کر دنیا کی محبت سے بچا رہا اس نے اپنے آپ کو بھی فائدہ پہنچایا اور دوسروں کو بھی۔
  • جو توقع تم دوسروں سے رکھتے ہو پہلے خود اس کی تکمیل کرو۔
  • اگر بنی آدم کے تمام اعمال نیک ہوتے تو اس بات کا تکبر انہیں ہلاک کردیتا۔
  • عقلمند بولنے سے پہلے سوچتا ہے اور بےوقوف بولنے کے بعد سوچتا ہے۔
  • چشم و زبان کی آزاری روح کے لئے قید ہے۔
  • دنیا کا عذاب یہ ہے کہ تمہارا دل مردہ ہو جائے۔
  • انسان کا سب سے بڑا دشمن خود اس کا نفس ہے۔
  • بروں کی صحبت نیکوں کو بدگمان کردیتی ہے۔



Close