تعارف

حسن شوقی کی ولادت ۹۴۸ھ میں ہوئی۔ شاعر کا نام شیخ حسن اور تخلص شوقی تھا۔ شہنشاہ اکبر کی فتح گجرات کے بعد وہاں کے اہل علم و ادب بھی انھیں دو سلطنتوں میں تقسیم ہو گئے۔ زوال کے بعد حسن شوقی بھی نظام شاہی سے عادل شاہی سلطنت میں چلا آیا۔ شوقی کا ذکر نہ کسی قدیم تذکرہ میں آتا ہے اور نہ کسی تاریخ میں۔

شاعری

حسن شوقی کی زبان اس زمانے کی دکن کی عام بول چال کی زبان ہے۔ اس میں ان تمام بولیوں اور زبانوں کے اثرات کی ایک کھچڑی سی پکتی دکھائی دیتی ہے جو آئندہ زمانے ایک جان ہو کر اردو کی معیاری شکلیں متعین کرتے ہیں۔

شوقی کی غزل موضوعات اور اسلوب و طرز ادا کے اعتبار سے بھی اردو غزل کی مجموعی روایت ہی کا ایک حصہ ہے۔ یہاں فارسی اور ہندی رنگ سخن دونوں  ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں۔ حسن شوقی کے ہاں فارسی طرز کا رنگ و آہنگ نمایاں ہو کر ابھرتا ہے۔ اس دور میں غزل کی  اپنی مخصوس روایت اور مخصوص مزاج کے ساتھ نہیں آتی یہ اس زمانے میں عام دستور تھا کہ صرف ردیف پر غزل کی ہیئت قائم کی جاتی تھی لیکن شوقی کے ہاں قافیہ اور ردیف دونوں غزل کا جزو بن کر آتے ہیں۔ یہاں ضائع بدائع کا اہتمام بھی ملتا ہے۔ تجنیس لفظی اور حسن تعلیل بھی حسن شعر میں اضافہ کرتے ہیں۔ غزل مسلسل بھی ملتی ہے۔ شوقی کے ہاں غزل کی مختلف روائیں مل جل کر ایک نقش بناتی ہیں اور یہی حسن شوقی کی اہمیت ہے۔

شوقی کی غزلوں میں محبوب عورت ہے اور مرد اپنے عاشقانہ جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ لیکن ہندی روایت کے مطابق دوچار جگہ عورت بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتی ،مچلتی  اٹھکھیلیاں کرتی نظر آتی ہے۔ حسن شوقی اپنی غزلوں میں سامنے کی تشبیہات استعمال کرتا نظر آتا ہے۔ آج یہ اس لیے سامنے کی معلوم ہوتی ہیں کہ حسن شوقی کے بعد سینکڑوں ،ہزاروں شاعروں نے انھیں استعمال کر کے پامال کر دیا ہے۔

تشبیہات

حسن شوقی نے بھنوؤں کو محراب ، نینوں کو دیا، زلف کو شب تاریک، چہرہ کو چاند، مکھ کو نور کا دریا، زلف کو تحریر، سحر کو زنجیر کہا۔ دل کو سنگ مرمر سے تشبیہ دی یا آنکھوں کو چاندی کی دوات کہا اس وقت تخلیقی عمل غزل میں ایک نئی چیز تھا۔ یہ تشبیہات اچھوتی اور یہ انداز بیان ،یہ اسلوب ،لہجہ و آہنگ ،یہ رچاوٹ غزل میں ایک منفرد چیز تھی۔ شوقی نے نئی نئی زمینیں نکالیں، خوبصورت بحروں میں قافیہ اور ردیف کو معنوی رشتہ میں پیوست کیا۔ غزل کی ہئیت کو خارجی اور داخلی طریقہ پر استادانہ انداز سے استعمال کیا۔

پختگی اور انفرادیت کی وجہ سے نظام شاہی دربار کے اس شاعر کی شہرت سارے دکن میں پھیل گئی اور شوقی کا تخلیقی عمل اس وقت کی شاعری میں ایک اثر بن کر قائم ہو گیا اور وہ سارے دکن کے شعراء کے لیے غزل کے جدید اسلوب کا نمائندہ بن گئے۔

تصانیف

حسن شوقی کی مشہور تصانیف میں ان کی دو مثنوی ملتی ہیں۔ جس میں
فتح نامہ نظام شاہ ، میزبانی نامہ قابل ذکر ہیں۔

آخری ایام

آپ کی وفات ۱۰۴۲ھ اور ۱۰۵۰ھ کے درمیان متعین کی جاسکتی ہے۔

حسن شوقی کا کلام درج ذیل ہے۔

Advertisements