Advertisement

غزل

دل ازروئے شوق کا اِظہار نہ کردے
ڈرتا ہے، مگر یہ کہ وہ انکار نہ کر دے
ہشیار! کہ اس پرسشِ پہیم کی نوازش
عشاق ستم کش کو ہوس کار نہ کر دے
ہم جور پرستوں پہ گماں ترک وفا کا
یہ وہم کہیں مجھ کو گنہگار نہ کر دے
ہوتا ہے برا لذت آزار کا لپکا
مرنا بھی کہیں مجھ کو یہ دشوار نہ کر دے
کچھ حد بھی ہے اس سوزشِ خاموشی کی حسرت
یہ کش مکش سے غم تجھے بے کار نہ کردے

تشریح

دل ازروئے شوق کا اِظہار نہ کردے
ڈرتا ہے، مگر یہ کہ وہ انکار نہ کر دے

غزل کے مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ دل میں محبت کی آرزو ہے اور دل کی اس خواہش کا وہ محبوب سے اظہار بھی کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اس لیے اظہار نہیں کرتا کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ محبوب کا ردِعمل کیا ہوگا۔اُس کو ڈر ہے کہیں محبوب ہماری درخواست ٹھکرانہ دے۔وہ انکار نہ کردے اور خواہ مخواہ دل ٹوٹ نہ جائے۔

Advertisement
ہشیار! کہ اس پرسشِ پہیم کی نوازش
عشاق ستم کش کو ہوس کار نہ کر دے

معشوق عاشق پر نوازش نہیں کرتا لیکن یہاں معاملہ برعکس ہے۔وہ لگاتار عشاق کی خبر گیری کر رہا ہے۔اب شاعر کہتا ہے کہ خبردار یہ محبوب کی نوازشیں،لگاتار عاشقوں کی خبر گیری کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ عشاق جو ستم برداشت کرنے میں لذّت پاتے ہیں انھیں محبوب کی یہ نوازش جھوٹا عاشق بنا دیں،لالچی نہ کردیں۔

Advertisement
ہم جور پرستوں پہ گماں ترک وفا کا
یہ وہم کہیں مجھ کو گنہگار نہ کر دے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہم تو ظلم و ستم کی پرسش کرنے والے ہیں یعنی برداشت کرنے والے ہیں اور تجھ کو یہ گمان،یہ وہم کہ ہم نے وفا ترک کر دی ہے۔تمہارا یہ وہم کہیں تمہیں گناہ گار نہ بنا دے۔کہ تو یہ خیال کرکے تغاقل کرتا ہے کہ ہم نے محبت ترک کر دی ہے اور ہم برداشت کرتے کرتے مٹ جائیں اور خون تمھارے سر لگ جائے۔

Advertisement
ہوتا ہے برا لذت آزار کا لپکا
مرنا بھی کہیں مجھ کو یہ دشوار نہ کر دے

بہت اچھا شعر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ تکلیف میں لذت پانے کا چسکا کچھ اچھا نہیں ہوتا، بلکہ بُرا ہوتا ہے کیونکہ درد حد سے بڑھتا ہے تو آدمی مرتا ہے۔ لیکن جب درد سے لذت ہو گی تو جیسے جیسے یہ بڑھے گا زیادہ مزہ آئے گا۔ اس طرح شاعر کہتا ہے کہ یہ چسکا کہیں ایسا نہ ہو کہ مرنا ہی مشکل بنا دے۔

کچھ حد بھی ہے اس سوزشِ خاموشی کی حسرت
یہ کش مکش سے غم تجھے بے کار نہ کردے

غزل کے مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ حسرتؔ تم جو اندر ہی اندر جل رہے ہو،یہ جلن یہ درد جو تمہارے سینے میں لاوے کی طرح دھک رہا ہے اس کی کوئی حد بھی ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ غم کی کش مکش تمھیں بے کار ہی کردے۔ کسی کام کا ہی نہ رہنے دے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement