حسرت موہانی

سید فضل الحسن نام اور حسرت تخلص تھا۔والد کا نام سیّد اظہر حسین اور والدہ کا نام شہر بانو بیگم تھا۔حسرت 1880-81ء میں قصبہ موہان ضلع اناؤ میں اپنے خاندانی مکان جسے ‘بارہ دری’ کہاجاتاہے میں پیدا ہوئے۔دستور زمانہ کے مطابق ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔اس کے بعد علم و ادب کی تکمیل کے لیے علی گڑھ چلے گئے اور وہیں قیام کیا۔ایم_ اے_او کالج علی گڑھ سے 1903ء میں بی-اے کا امتحان پاس کیا۔حسرت کا طالب علمی کا زمانہ نہایت عیش و عشرت سے گزرا۔ہر امتحان میں اول آتے رہے اور گورنمنٹ کی طرف سے وظیفہ حاصل کرتے رہے۔بی-اے پاس کرنے کے بعد "اردو معلیٰ” کے نام سے ایک معیاری ماہنامہ بھی جاری کیا۔جس کے ذریعے عرصہ دراز تک اردو زبان و ادب کی خدمت کرتے رہے۔حسرت اگرچہ مذہبی آدمی تھے لیکن تنگ نظر نہیں تھے۔انہوں نے 11 بار حج کی سعادت حاصل کی۔

حسرت کی زندگی ایک حسین مجموعہ اصنراد تھی۔مذہبی طور پر وہ پکے مسلمان اور سختی سے پابند شریعت تھے۔روحانی ذوق نے انہیں تصوف کی چاشنی کا گرویدہ بنا دیا۔سیاست کے میدان میں وہ بغاوت اور انقلاب کے علم بردار تھے۔انہوں نے عزم مجاہدانہ اور دلیری و بہادری کے ساتھ ہندوستان کی جنگ آزادی میں حصہ لیا جس کی وجہ سے قوم نے انہیں "رئیس الاحرار” کے لقب سے سرفراز کیا۔ان کی زندگی میں غضب کی سادگی اور درد بشانہ شرقیت تھی۔خیالات میں وہ انتہا پسند نظریوں سے ہم آہنگ تھے۔ان کی شخصیت میں انسانی عظمت کا راز پوشیدہ تھا۔

حسرت تمام عمر سیاست کے ساتھ وابستہ رہے مگر تعجب یہ ہے کہ انہوں نے کبھی کوئی مستقل سیاسی خیالات کا اظہار نہیں کیا۔تحریک آزادی کے سلسلہ میں حسرت کئی بار جیل گئے۔وہ ہندوستانی پارلیمنٹ کے ممبر بھی رہے۔مطالعہ کا انہیں بہت شوق تھا۔وہ مزاج اور فکر میں پختہ اور حساس انسان تھے۔بہت سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ہر زمانے میں انقلاب کے حامی رہے۔ساری زندگی سیاست اور زبان و ادب کی خدمت کرتے رہے۔آخر 13 مئی 1951ء کو لکھنؤ میں انتقال ہو گیا اور وہیں ان کی آخری آرام گاہ بنی۔

شاعرانہ عظمت


حسرت کو بچپن ہی سے شعر و شاعری کا شوق تھا۔ابتدا ہی سے شاعری کرنا شروع کردی۔اپنا کلام تسلیم اور جلال کو دکھا کر ان سے اصلاح لیتے رہے۔ان کے کلام میں استادی کا رنگ بہت کم ہے۔وہ دلی کیفیات اور جذبات کے ماہر اور نبض شناس تھے۔ان کی شاعری جدید خیالات کی ترجمان ہے۔دور جدید کے شاعر ہوتے ہوئے بھی وہ میر اور غالب سے متاثر تھے۔ان کے کلام میں درد اور تاثر کی کثرت ہے۔انہوں نے ہجر و فراق اور رنج و غم کے مضامین کے ساتھ ساتھ شوخی اور رشک و حسرت کے مضامین بلکل جدید رنگ میں پیش کیے ہیں۔ان کی غزلوں میں صرف تغزل ہی نہیں بلکہ سیاسی خیالات اور موجودہ زندگی کے مسائل بھی پائے جاتے ہیں۔حسرت غزل گو شاعر تھے اور ‘امام المتغزلین’ کی حیثیت رکھتے تھے۔ان کی غزلوں میں سادہ الفاظ کا استعمال ہے، بندش میں چستی اور روانی ہے۔حسرت نے لکھنوی زبان میں دہلی کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔کلام میں تغزل کا اصلی رنگ موجود ہے۔تخیل کی پاکیزگی اور ندرت ادا ان کے کلام کا خاص جوہر ہے۔حسین بندش، محاورات کے برمحل استعمال اور روزمرہ کے خیالات ان کے اشعار کو پر اثر بنا دیا ہے۔

سادگی اور لطافت حسرت کے کلام کا خاص وصف ہے۔تصوف کی چاشنی بھی موجود ہے۔اس کے علاوہ کلام میں فلسفیانہ خیالات کے اشعار بھی موجود ہیں۔حسرت کے کلام میں جدید اور معنی خیز ترکیبیں پائی جاتی ہیں۔ ان کی شاعرانہ فطرت پر ان کی زندگی اور ان کی شاعری پر ان کے خیالات کی گہری چھاپ ہے۔ان کی غزل گوئی کا بہترین دور 1908ء سے 1912ء تک کا ہے۔اس عرصہ کے کلام میں واقفیت، معنویت، شیرینی، لطافت، ندرت، جدت، لطف اور اثر بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ایک انقلاب پسند کی حیثیت سے سیاست میں داخل ہونے کے بعد ان کی شاعری میں ایک انقلاب آگیا۔یہ شاعری انقلابی شاعری کہلاتی ہے۔حسن و عشق کے مضامین کو حسرت نے ملائم ہ
اور آسان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ان کے کلام میں آزادی کی تڑپ بھی پائی جاتی ہے۔حضرت کا کلام "کلیات حسرت” کے نام سے شائع ہو چکا ہے جس میں تیرہ دیوان اور ایک ضمیر ہے۔حسرت نے اردو زبان و ادب میں بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔

پروفیسر رشید احمد صدیقی نے مولانا حسرت موہانی کی غزل گوئی کے بارے میں فرمایا ہے۔
"حسرت خالص غزل گو تھے۔ ان سے پہلے بھی بڑے جید غزل گو گزرے ہیں۔معاصر غزل گو بھی اپنا اپنا مقام رکھتے ہیں، پھر بھی حسرت کی غزل گوئ ممتاز اور منفرد ہے۔اس لیے حسرت غزل کا سہارا غزل ہی سے لیتے ہیں کسی اور سے نہیں۔غزل گوئی کوئی کرے معیار حسرت ہی ہوں گے”

پروفیسر رشید صدیقی نے جو کچھ فرمایا وہ حرف بحرف درست ہے۔حسرت نے جب شاعری کا آغاز کیا تو اردو غزل کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیاں پیدا ہوگئی تھیں۔سرسید کے اثر سے حالی نے غزل کو ناقص اور مضر صنف سخن قرار دیا۔مجنوں گورکھپوری کے لفظوں میں”حالی پر ایک پیر دیرینہ سال (یعنی سر سید) کا رعب کچھ ایسا چھایا کہ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ بلبل کی ہم زبانی چھوڑ کر وہ چمن والوں کو کیا نقصان پہنچا رہے ہیں”حالی نے غزل کو بے وقت کی راگنی قراردیا۔

حسرت کے مشہور کارناموں میں ‘نکات سخن’ ‘دیوان غالب اردو مع شرح’ ‘مشاہدات زنداں’ ‘ قید فرنگ’ وغیرہ بہت مشہور ہیں۔ہیں۔ ‘قیدفرنگ’ حسرت کے شعری مجموعے کا نام ہے۔حسرت نے جولائی 1914ء سے ‘تذکرہ شعراء’ کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ جاری کیا تھا۔اس کے علاوہ حسرت نے کانپور سے 1928ء میں ‘مستقل’ نام سے ایک روز نامہ شائع کرنا شروع کیا تھا۔1913ء  میں فیض آباد سے ‘قیصر ہند’ نام کا ایک اردو ہفتہ وار اخبار بھی جاری کیا تھا۔

Close