Advertisement

کتاب” اپنی زبان “برائے چھٹی جماعت
سبق نمبر18:ڈراما
مصنف کانام: شوکت تھانوی
سبق کا نام:ہوائی قلعے

ڈرامہ ہوائی قلعے کا خلاصہ

سبق “ہوائی قلعے” ایک مزاحیہ ڈراما ہے۔ جس کی کہانی منشی جی ان کی بیوی اور ان کے بھائی سلیم کے گرد گھومتی ہے۔منشی جی نے لاٹری کا ٹکٹ خریدا تھا اور وہ اس کے نتیجہ کے لیے تار کے انتظار میں تھے کیوں کہ انہیں لگ رہا تھا کہ اس بار ان کی لاٹری ضرور نکلے گی۔

Advertisement

اس لیے وہ بار بار اپنی بیگم کو وہ ٹکٹ تکاش کرکے لانے کا کہتے اور ان کا دھیان مسلسل دروازے کی جانب تھا کہ جہاں سے ڈاکیا نے ڈاک لے کر آنا تھا۔ اسی اثناء میں ان کا بھائی سلیم بھی آگیا۔ اس کی خیریت دریافت کرنے کے بعد منشی جی فوراً اپنے مدعا پر آجاتے ہیں اور سلیم سے زرد باغ کے چوراہے کے قریب موجود لال دو منزلہ کوٹھی کے بارے میں پوچھتے ہیں۔

Advertisement

سلیم کے بتانے پہ کہ اس نے وہ کوٹھی دیکھ رکھی ہے منشی جی اس کس بتاتے ہیں کہ بہت جلد وہ یہ کوٹھی خرید رہے ہیں۔منشی جی کی بیوی بھی ان کی کسی بات کا یقین نہیں کرتی اور ان کو چیخ چلی کی طرح خواب بننے سے منع کرتی ہے۔اس پر منشی جی کوٹھی کے ساتھ ساتھ دو نئی موٹر کاریں خریدنے کی بات بھی سب کے سامنے کرتے ہیں کہ ایک چھوٹی گاڑی روزمرہ استعمال کےلیے اور ایک ذرا مہنگی اور بڑی گاڑی خریدی جائے گی۔

Advertisement

منشی جی کے بھائج سلیم اس تمام معاملے پہ حیرت میں مبتلا ہیں کہ منشی جی کی بیوی کہتی ہے کہ تمھارے بھائی کا کہیں ڈاکہ ڈالنے کا ارادہ ہے۔منشی جی بتاتے ہیں کہ انھوں نے لاٹری کا ٹکٹ لیا ہے جسے آج نکلنا ہے۔ان کی دنیا امید پہ قائم ہے اور انھوں نے یہ سب اس لیے پہلے سے سوچا رکھا ہے کہ بعد میں آناً فاناً سب کرنا مشکل ہو جائے گا۔ یہی۔ نہیں بلکہ اس سب کے ساتھ ساتھ انھوں نے موجودہ نوکری پر دینے کے لیے استعفیٰ بھی لکھ لیا تھا کہ کل کو لوگ کیا کہیں گے کہ لکھ پتی منشی جی کا بھائھ معمولی ملازم ہے۔

دروازے پہ دستک ہوتی ہے ڈاکیا ڈاک لاتا ہے۔ تار کی خبر سن کر منشی جی پر گھبراہٹ طاری ہو گئی اور انہیں اختلاج ہونے لگ گیا۔منشی جی تار نہیں کھولنا چاہ رہے تھے کہ انہیں لگ رہا تھا وہ اتنی بڑی خوشی برداشت نہ کر پائیں گے۔گھبراہٹ میں منشی جی نے دستخط کرنے کی جگہ لکھ پتی لکھ دیا تھا۔ انھیں لگ رہا تھا کہ پتہ نہیں اس تار میں کتنی رقم لکھی ہے۔اس لیے انھوں نے اپنی بیوی سے تار کھولنے کا کہا جسے سلیم نے پڑھا۔یہ تار محمود بھائی کا تھا جس میں لکھا تھا کہ بھابھی جان کل شام کی ٹرین سے آرہی ہیں۔ یہ سنتے ہی منشی جی گر پڑتا ہے اور یہی ایکٹ کا اختتام ہوتا ہے۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:

منشی جی تار کے انتظار میں کیوں بے چین تھے؟

منشی جی نے لاٹری کا ٹکٹ خریدا تھا اور وہ اس کے نتیجہ کے لیے تار کے انتظار میں تھے کیوں کہ انہیں لگ رہا تھا کہ اس بار ان کی لاٹری ضرور نکلے گی۔

منشی جی کو سات تاریخ کا انتظار کیوں تھا؟

اس لیے کہ سات تاریخ کو لاٹری کا نتیجہ نکلنے والا تھا۔

Advertisement

منشی جی نے لاٹری کا ٹکٹ خرید کر کیا کیا منصوبے بنا رکھے تھے؟

منشی جی نے ایک کوٹھی، بہت ساری جائدادیں، باغ، نوکر چاکر اوردو عدد موٹر گاڑی خریدنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے موجودہ نوکری پر دینے کے لیے استعفیٰ بھی لکھ لیا تھا۔

منشی جی کی بیوی ان کا مذاق کیوں اڑا رہی تھیں؟

منشی جی کی بیوی ان کا مذاق اڑا رہی تھیں کہ وہ شیخ چلیوں کی طرح منصوبہ بنا رہے ہیں ۔کیونکہ انہیں منشی جی کی لاٹری نکلنے کا یقین نہیں تھا۔

Advertisement

تار کی خبر سن کر منشی جی پر کیا اثر ہوا؟

تار کی خبر سن کر منشی جی پر گھبراہٹ طاری ہو گئی اور انہیں اختلاج ہونے لگ گیا۔

منشی جی تار کیوں نہیں کھولنا چاہتے تھے؟

منشی جی تار اس لیے نہیں کھولنا چاہ رہے تھے کہ انہیں لگ رہا تھا وہ اتنی بڑی خوشی برداشت نہ کر پائیں گے۔ انہیں لگ رہا تھا کہ پتہ نہیں اس تار میں کتنی رقم لکھی ہے۔

Advertisement

منشی جی نے دستخط کرنے کی جگہ کیا لکھ دیا تھا ؟

منشی جی نے دستخط کرنے کی جگہ لکھ پتی لکھ دیا تھا۔

تار کس کا تھا اور اس میں کیا لکھا تھا ؟

یہ تار محمود بھائی کا تھا جس میں لکھا تھا کہ بھابھی جان کل شام کی ٹرین سے آرہی ہیں۔

Advertisement

لاس ڈرامے میں سب سے دلچسپ کردار کون سا ہے اور کیوں؟

اس ڈرامے میں سب سے دلچسپ کردار منشی جی کا ہے۔ وہ ہر ایک بات سے بے نیاز ایک لاٹری کے ٹکٹ خریدے ہوئے ٹکٹ کی امید پہ ہوائی قلعہ بنانے لگتے ہیں۔ وہ شیخ چلی کی طرح منصوبہ بنانے لگتے ہیں اور بہت کچھ خریدنے کا سوچ لیتے ہیں کہ جیسے وہ یہ سب کھڑے کھڑے خرید لیں گے۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے:

  • یعنی معلوم بھی ہے آج سات تاریخ ہے ۔ آج ہی تو تار آے گا اس لاٹری کا۔
  • راستہ میں تار گھر کا کوئی آدمی تو لال بائیسکل پر نظر نہیں آیا ؟
  • اچھا تم خیالی پکاتے جاو مگر میں تو ہانڈی دیکھوں۔
  • بڑ بیٹھے بٹھاے آخر یہ بڑے آدمیوں کی سی بڑی باتیں بلا وجہ تو نہیں ہوسکتیں۔
  • میں تو باغ کے مالی کے لیے بھی اس قسم کی چارپائیاں مناسب نہیں سمجھتا۔
  • نہیں تم کھولوبسم اللہ کر کے۔مجھے تو کچھ اختلاج سا ہو رہا ہے۔

غور کیجئے اور لکھیے:

ہر زبان میں الفاظ کے کچھ ایسے مجموعے ہوتے ہیں جنھیں لفظی معنی کے بجاۓ دوسرے مفہوم میں استعمال کیا جا تا ہے جن میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی ۔انھیں محاورہ کہتے ہیں۔

Advertisement
خیالی پلا ؤ پکاناایسی باتیں سوچنا جو مکن نہ ہو
زٹیں اڑناشیخی بگھارنا
ناک میں دم کرنابہت پریشان کرنا
سر کھانابحث کرنا

اوپر دیے ہوۓ محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

خیالی پلا ؤ پکانااحمد ہر وقت اپنے مستقبل کو لے لر خیالی پلاؤں پکاتا رہتا ہے۔
زٹیں اڑناعلی ہر معاملے میں زٹیں کرنے کا عادی ہے۔
ناک میں دم کرنامچھروں نے ہم سب کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔
سر کھانادفتر والوں کا تین گھنٹے تک سر کھانے کے بعد بھی معمالہ جوں کا توں رہا۔

ڈرامے کی کہانی مختصر طور پراپنی زبان میں لکھیے۔

ملاحظہ کیجیے “سبق کا خلاصہ”

Advertisement

Advertisement