تعارف:☜

سید زہاد وقائد اوتاد حضرت عبد اللہ ابن مبارک الموروزیؒ کا شمار اکابرین مشائخ میں ہوتا ہے۔آپؒ علوم ظاہری و باطنی سے مرصع شریعت و طریقت سے آراستہ تھے۔ اور آپؒ اپنے وقت کے امام تھے۔آپؒ نے کافی مشائخ کی صحبت پائی اور فیض یاب ہوۓ۔تمام علوم پر آپؒ کی تصانیف و کرامات کثرت سے ہیں۔ایک دن حضرت سفیان ثوریؒ اور حضرت فضیل بن عیاضؒ نے آپؒ کو تشریف لاتے دیکھا تو سفیان ثوریؒ نے فرمایا اے مرد مشرق تشریف لائیے۔حضرت فضیل بن عیاضؒ نے کہا کہ اے مرد مغرب اور جو مشرق و مغرب کے درمیان ہیں تشریف لائیے۔جس کی تعریف  میں بھلا حضرت فضیلؒ جیسی ہستی رطب اللسان ہو اسکی تعریف بھلا ہم کیسے بیان کر سکتے ہیں۔

رجوع کی وجہ:☜

ابتدائی دور میں آپؒ ایک کنیز کی محبت میں گرفتار ہو گئے اور محبت کا عرصہ بہت طوالت پکڑ گیا۔ ایک مرتبہ سردی کا موسم تھا اور آپؒ اسکے مکان کے سامنے انتظار میں کھڑے رہے اور جب صبح نمودار ہوئی، تو رات کے ضایہ ہونے کا بےحد افسوس ہوا۔قلب میں یہ خیال پیداء ہوا کہ اگر میں یہ رات عبادت میں گزار دیتا تو اس بیداری سے وہ لاکھ درجہ بہتر تھا۔بس اسی تصور سے آپؒ نے تائب ہو کر عبادت و ریاضت کا اپنا مشغلہ بنا لیا اور بہت قلیل عرصہ میں اعلی و ارفع مقام پر فائز ہوۓ۔

ایک مرتبہ آپؒ کی والدہ آپؒ کی جستجو میں نکلی تو دیکھا کہ آپؒ ایک باغ میں گلاب کے درخت کے نیچے محو خواب ہیں۔اسکی ٹہنی سے مکھیاں اڑا رہے تھے۔آپؒ مرو کے باشندے تھے۔سیر و سیاحت کے بے حد دل دادہ اور مدتوں بغداد میں مقیم رہ کر مکہ معظمہ تشریف لے گئے۔اور وہاں سے واپس ہو کر اپنے وطن مرو سکونت پزیر  ہو گئے۔اور اس دوران مرو میں ایک جماعت فقہاء اور ایک جماعت محدثین کی تھی لیکن آپؒ کی بہترین  رز عمل کی وجہ سے دونوں جماعتیں آپؒ کو قابل احترام تصور کرتی تھیں۔اور اسی طرح کی مناسبت سے آپؒ کو راضی الفرقین کے خطاب سے یاد کیا جاتا تھا۔اور جب بھی کوئی اختلاف ان دونوں جماعتوں میں رونماء ہو جاتا۔تو آپؒ کو ثالث قرار دے کر آپؒ کے فیصلوں کی پابندی کرتے۔اسکے علاوہ آپؒ نے مرو میں دو سراۓ بھی قائم کرایئں۔ ایک فقہاء اکرام کے قیام کے لیے اور ایک محدثین اکرام کے قیام کے لیے۔اور اسکے بعد آپؒ مکہ معظمہ میں مکمل طور پر قیام پذیر ہو گئے۔

آپؒ کا معمول حیات:☜

آپؒ کا یہ معمول تھا کہ اک سال حج کرتے اور ایک سال شریک جہاد رہتے۔تیسرے سال تجارت کرتے جو کچھ نفع حاصل کرتے وہ سب مستحقین میں تقسیم کرتے۔اور فقراء  کو کھجورے کھلاتے تو گٹھلیوں کو شمار کرتے جاتے۔اور جو شخص جتنی کھجورے کھاتا اسکے حساب سے اسکو اتنے ہی درھم دیتے۔

مشہور واقعہ:☜

ایک مرتبہ آپؒ فراغت حج کے بعد بیت اللہ میں سو گئے اور خواب دیکھا کہ دو فرشتے باہم باتیں کر رہے ہیں اور ایک نے دوسرے سے سوال کیا کہ اس سال کتنے افراد حج میں شریک ہوۓ اور کتنے افراد کا حج قبول ہوا۔؟؟؟ دوسرے نے عرض کیا کہ چھ لاکھ لوگوں نے فریضہ حج اداء کیا ۔اور کسی ایک شخص کا بھی حج قبول نہیں ہوا۔ لیکن دمشق کا ایک موچی جو حج میں شریک تو نہیں ہوا لیکن اللہﷻ  نے اسکا حج قبول فرما کر اس کے طفیل سب کا حج قبول فرما لیا۔

خواب سے بیدار ہو کر موچی سے ملاقات کرنے دمشق پہنچے۔اور ملاقات کے بعد اسکا نام و نسب دریافت کرکے حج کا واقعہ دریافت کیا تو اس نے اپنا پیشہ بیان کرنے کے بعد آپؒ کا نام پوچھا۔تو آپؒ نے بتا دیا کہ عبد اللہ ابن مبارک ہوں یہ سن کر چیخ مار کر  بے ہوش ہوگیا۔اور ہوش میں آنے کے بعد اس طرح اپنا واقعہ بیان کیا کہ بہت عرصہ سے میرے قلب میں حج کی تمنا تھی اور میں نے اس نیت سے تین سو درھم بھی جمع کر لیے تھے۔لیکن ایک دن پڑوسی کے یہاں سے کھانا پکنے کی خوشبو آئی تو میری بیوی نے کہا اسکے گھر سے تم بھی مانگ لاؤ تاکہ ہم بھی کھا لیں۔

چناچہ میں نے اس سے جاکر کہا کہ آج آپ نے جو کچھ پکایا ہے ہمیں بھی عنایت کریں۔ لیکن اس نے کہا کہ وہ کھانا آپ کے کھانے کا نہیں ہے۔کیونکہ سات یوم سے میں اور میرے گھر والے فاقہ کشی میں مبتلا تھے تو میں نے مردار گدھے کا گوشت پکا لیا ہے۔یہ سن کر میں خوف خداوندی سے لرز گیا ۔اور اپنی تمام جمع شدہ رقم اسے دے کر یہ تصور کر لیا کہ ایک مسلمان کی امداد میرے حج کے برابر ہے۔یہ سن کر حضرت عبد اللہ نے یہ بات کہی کہ فرشتوں نے خواب میں  واقعی سچی بات بیان کی ہے اور اللہﷻ حقیقتاً قضاء و قدر کا مالک ہے۔

ارشادات:☜

جب آپؒ سے لوگوں نے یہ سوال کیا کہ خدا کی راہ میں چلنے والوں کی کیا کیفیت ہوگی ؟؟؟ کہ وہ ہمہ اوقات خدا کی طلب میں مشغول رہتے ہیں۔ فرمایا کہ ہمیں کثیر علم کے بجاۓ قلیل ادب کی زیادہ احتیاج ہوتی ہے۔ اور لوگ اس وقت ادب کی تلاش کرتے ہیں جب اھل ادب اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ گو مشائخین نے ادب کی بہت سی تعریفیں کی ہیں لیکن میرے نزدیک ادب نام ہے نفس شناسی کا۔ فرمایا کہ ایک درھم قرضہ حسنہ دینا ایک ہزار درھم صدقہ کرنے سے زیادہ مؤجب  ثواب ہے۔

  • فرمایا کہ ناجائز مال لینے والا بھی توکل سے محروم رہتا ہے۔
  • توکل وہ ہے جسکو تمہارا نفس ہی نہیں بلکہ خدا بھی توکل خیال کرے۔
  • توکل کسب کے لیے معنی نہیں ہے بلکہ کسب و توکل دونوں عبادت میں داخل ہیں۔اور اھل توکل کو اتنا پسماندہ کرنا کہ جو انکے مرض و موت میں کام آ سکے معیوب نہیں۔
  • فرمایا کہ عیال دار شخص بچوں کی تربیت و نگرانی کے ساتھ علم دین سکھاتا ہے تو اسکا اجر جہاد سے بھی فزوں ہے۔
  • فرمایا کہ جس کو دنیا والے وزارت و وقعت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں اسکو چاہیئے کہ وہ خود کو بے وقعت تصور کرتے ہوۓ خود فریبی میں مبتلا نہ ہو۔

جب لوگوں نے سوال کیا کہ قلب کامعالجہ کس طرح کیا جاۓ؟؟؟ فرمایا کہ قرب الہی اور لوگوں سے کنارہ کشی کرنے سے۔ جب  لوگوں نے آپؒ کی مجلس میں غیبت پر بحث کی تو آپؒ نے فرمایا کہ اگر انسان کو غیبت کرنی ہی ہے تو پہلے اپنے والدین کی کرے۔کیونکہ انکے گناہ اتنے زیادہ ہیں کہ اولاد کی نیکیاں انکے اعمال نامے میں درج کی جاتی ہیں۔

کسی نے آپؒ سے عرض کیا کہ میں ایسے گناہ کا مرتکب ہوں کہ بوجہ ندامت آپؒ کے سامنے نہیں بتا سکتا۔۔۔۔اصرار کے بعد  اس نے کہا کہ میں زنا کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں۔آپؒ نے فرمایا کہ میں تو اس خیال میں تھا کہ شائد تونے غیبت کا گناہ کیا ہے۔کیونکہ زنا کاتعلق تو خدا کے گناہ سے ہے۔جو توبہ کے بعد معاف بھی کرسکتا ہے۔لیکن غیبت بندے کا گناہ ہے جسکو خدا معاف نہیں کرتا۔

خدا کی خوشنودی میں راضی رہنے والے:☜

ایک مرتبہ آپؒ کے یہاں کچھ مہمان آۓ اس وقت آپؒ کے یہاں کچھ موجود نہیں تھا۔آپؒ نے اپنی بیوی سے کہا کہ مہمان تو خدا کا بھیجا ہوا ہوتا ہے لہذا مہمانداری میں کچھ کمی نہیں ہونی چاہیئے۔ لیکن بیوی نے آپؒ کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔ چناچہ اس حکم شرعی کے مطابق کہ جو عورت اپنے شوہر کا حکم نہ مانے اسکو طلاق دے دینی چاہیئے۔ آپؒ نے بھی اپنی بیوی کا حق مہر اداء کر دیا اور طلاق دے دی۔

ایک دن آپؒ کی مجلس واعظ میں کوئی  امیر زادی شریک ہوئی اور واعظ سے اس درجہ متاثر ہوئی کہ اپنے والدین سے کہہ دیا کہ میرا نکاح عبد اللہ بن مبارک سے کر دیا جاۓ۔تو والدین نے بھی خوشی خوشی اسکا نکاح عبد اللہ بن مبارک سے کر دیا اور ساتھ ہی پچاس ہزار دینار لڑکی کو دیکر آپؒ کے ہمراہ رخصت کر دیا۔ پھر آپؒ نے نکاح کے بعد خواب میں دیکھا کہ اللہﷻ فرماتا ہے کہ تونے ہماری خوشنودی کے لیے اپنی بیوی کو طلاق دے دی لہذا  ہم نے اس سے بہتر تجھکو  بیوی عطاء کر دی۔تاکہ تو بخوبی اندازہ کر سکے کہ خدا کو خوش کرنے والے کبھی نقصان میں نہیں رہتے۔

وفات”☜

موت سے قبل آپؒ نے اپنے گھر کا سارا سامان فقراء میں تقسیم کر دیا اور جب ایک ارادت مند نے سوال کیا کہ آپؒ کی تین صاحبزادیاں ہیں۔انکے لیے کیا چھوڑا؟؟؟ فرمایا انکے لیے خدا کو چھوڑ دیا کیونکہ جنکا کفیل خدا ہو اسکو عبد اللہ کی کیا حاجت ہے۔ موت سے پہلے آپؒ نے آنکھیں کھول کر مسکراتے ہوۓ فرمایا کہ عمل کرنے والو ایسے ہی عمل کرنے چاہیئے۔ اس کے بعد آپؒ کا انتقال ہو گیا۔ اور کسی نے حضرت سفیانؒ کو خواب میں دیکھ کر عرض کیا کہ اللہﷻ کا آپؒ کے ساتھ کیسا معاملہ رہا؟ فرمایا کہ اس نے میری مغفرت کر دی۔ پھر اس کے بعد سوال کیا کہ عبد اللہ بن مبارک کس حال میں ہیں؟؟؟ فرمایا ان کا شمار تو اس جماعت میں ہے جو دن میں دوسو مرتبہ حضوری کا شرف حاصل کرتے ہیں۔

Advertisements