تعارف:☜

آپؒ کا نام شفیق اور کنیت ابو علی ہے۔آپؒ ممتاز زمانہ مشائخ و متقین میں سے ہوئے اور امام جید و مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ پوری زندگی توکل میں گزار دی۔چناچہ آپؒ کی بہت سی تصانیف ہیں اور حضرت حاتم بن اصمؒ جیسے بزرگ آپؒ کے شاگردوں میں سے ہوئے۔ لیکن طریقت کی منزلیں آپؒ نے حضرت ابراھیم بن ادھمؒ کی صحبت میں طئے کیں اور کثیر مشائخین سے شرف نیاز حاصل کیا۔

حالات و حقائق:☜

آپؒ فرماتے تھے کہ میں نے ایک ہزار سات سو اساتذہ سے شریعت و طریقت کے علوم سے استفادہ کیا۔ لیکن نتیجہ میں یہ پتہ چلا کہ خدا کی رضا صرف چار چیزوں پر منحصر ہے۔
اول روزی کی جانب سے سکون حاصل ہونا۔
خلوص سے پیش آنا۔
ابلیس کو دشمن تصور کر لینا۔
توشہ آخرت جمع کرنا۔

آپؒ کے تائب ہونے کا واقعہ:☜

آپؒ ایک خاص واقعہ سے متاثر ہوکر تائب ہوئے اور وہ یہ کہ جب آپؒ  بغرض تجارت ترکی پہنچے تو ایک مشہور بتکدہ دیکھنے پہنچ گئے۔اور وہاں ایک پجاری سے فرمایا کہ تجھے ایک قادر و زندہ خدا کو نظر انداز کرکے ایک بے جان بت کی پوجا کرتے ندامت نہیں آتی؟۔ اس نے عرض کیا کہ آپ جو دنیا بھر میں تجارت کی غرض سے گھومتے ہیں۔ اس سے ندامت نہیں ہوتی۔تو کیا آپ کا خدا آپ کو گھر بیٹھے رزق پہنچانے پر قادر نہیں ہے؟

تو اسی وقت اپنے وطن کے لئے روانہ ہو گئے اور راستہ میں کسی نے پیشہ دریافت کیا تو فرمایا کہ میں تجارت کرتا ہوں۔اس نے طعنہ دیا کہ آپؒ کے مقدر کا جو کچھ بھی ہے وہ گھر بیٹھے آپؒ کو میسر آ سکتا ہے۔لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ شائد آپؒ خدا پر شاکر نہیں ہیں۔آپؒ اس واقعہ سے اور زیادہ متاثر ہوئے۔اور جب گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ شہر کے ایک سردار کا کتا گم ہو گیا ہے۔اور شبعہ میں آپؒ کے ہم سایہ کو گرفتار کر لیا گیا۔چناچہ آپؒ نے سردار کو یہ یقین دلایا کہ آپ کا کتا تین دن میں مل جائیگا۔اور اپنے ہمسایہ کو رہا کروایا۔اور جس نے کتا چوری کیا تھا  وہ تیسرے دن آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپؒ نے سردار کے یہاں کتا بھجوا کر دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

ایک مرتبہ بلخ میں قحط سالی ہوگئی اور آپؒ نے بازار میں ایک غلام کو بہت خوش دیکھ کر پوچھا کہ لوگ تو قحط سے برباد ہو گئے ہیں اور تو اتنا خوش کیوں نظر آرہا ہے؟؟ اس نے جواب دیا کہ ہمارے آقا کے یہاں بہت غلہ موجود ہے۔اور وہ مجھے کبھی  بھوکا نہیں رکھیگا۔ تو آپؒ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار کہ جب ایک غلام کو اپنے آقا پر اتنا اعتماد ہے؛ تو تیری ذات پر میں کیوں نہ اعتماد کروں؛ اے میرے اللہ جبکہ تو تو مالک الملک ہے۔بس اسکے بعد آپؒ نے دنیا سے سختی کے ساتھ کنارہ کشی اختیار کر لی۔حتٰی کہ آپؒ کا توکل معراج الکمال تک پہنچا؛؛ اور آپؒ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میرا استاد تو ایک غلام ہے۔

اصلی زاد راہ:☜

کسی نے آپؒ سے اپنے عزم حج کا تذکرہ کیا۔آپؒ نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ زاد راہ کے طور پر کیا چیز ہے؟؟؟ اس نے عرض کیا کہ میرے ہمراہ چار چیزیں ہیں۔
اول:۔ یہ کہ میں اپنی روزی کو دوسروں کی نسبت سے زیادہ قریب پاتا ہوں۔
دوم :۔ اسکا یقین رکھتا ہوں کہ میرے رزق میں کوئی دوسرا حصہ دار نہیں بن سکتا۔
سوم:۔ کہ خدا ہر جگہ موجود ہے۔
چہارم:۔یہ کہا کہ اللہ میری نیک اور بد حالت سے واقف ہے۔

یہ سن کر آپؒ نے فرمایا کہ اس سے بہتر کوئی اور زاد سفر نہیں ہو سکتا۔اللہﷻ تیرا حج قبول کرے۔

نصائح

سفر کے دوران جب آپؒ بغداد پہنچے تو خلیفہ ہارون رشید آپؒ کو مدعو کرکے بہت احترام کے ساتھ پیش آیا اور آپؒ سے کچھ نصائح کرنے کی استدعا کی۔ آپؒ نے فرمایا کہ یہ اچھی طرح سمجھ لو کہ آپ خلفاء راشدین کے نائب ہو۔ اور خدا تعالی تم سے علم و حیاء اور صدق و عدل کی باز پرس کریگا۔اور خدا نے تمہیں شمشیر و تازیانہ اور دولت اس لیے عطا کیے کہ اھل حاجت میں دولت تقسیم کرو۔ اور تازیانے میں شریعت پر عمل نہ کرنے والوں کو سزا دو اور شمشیر سے خون کرنے  بہانے والوں کا خون بہا دو۔اور اگر اس نے اس پر عمل نہ کیا تو زور محشر تمہیں اھل جہنم کا سردار بنا دیا جائیگا۔ اور تمہاری مثال دریا جیسی ہے۔ اور عمل و حکام اس سے نکلنے والی نہریں ہیں۔لہذا تمہارا فرض ہے کہ  اس طرح عادلانہ حکومت کرو کہ اسکا اثر عمال و حکام پر بھی پڑے۔ کیونکہ نہریں دریا کے تابع ہوا کرتی ہیں۔

پھر آپؒ نے سوال کیا کہ اگر ریگستان میں پیاس سے تم تڑپ رہے ہو اور کوئی شخص نصف حکومت کے معاوضہ میں تمہیں ایک گلاس پانی دے رہا ہو تو کیا تم اسے قبول کروگے؟؟؟ ہارون رشید نے جواب دیا یقینًا قبول کر لونگا۔ پھر پوچھا کہ اگر اس پانی کے استعمال سے تمہارا پیشاب بند ہو  جائے اور شدت تکلیف میں کوئی طبیب علاج کے معاوضہ میں بقیہ نصف سلطنت طلب کرے تو تم کیا کروگے؟؟؟ ہارون رشید نے جواب دیا کہ نصف سلطنت اس کے حوالے کر دونگا۔

یہ سن کر آپؒ نے فرمایا کہ وہ سلطنت باعث افتخار نہیں ہو سکتی جو صرف ایک گھونٹ پر فروخت ہو سکے۔ اس جواب کے بعد ہارون رشید بہت دیر تک روتا رہا اور بصد و احترام آپؒ کو رخصت کیا۔

جب آپؒ خانہ کعبہ میں پہنچے تو خیال آیا کہ خانہ خدا میں تلاش رزق مناسب نہیں اور جب حضرت ابراھیم بن ادھمؒ سے انکی ملاقات ہوئی ان سے سوال کیا کہ تم نے حصول رزق کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا؟؟؟ تو جواب دیا کہ اگر کچھ مل جاتا ہے تو شکر اداء کرتا ہوں اور اگر نہیں ملتا تو صبر سے کام لیتا ہوں۔ آپؒ نے فرمایا کہ یہ حال تو کتوں کا بھی ہے۔اور جب حضرت ابراھیم بن ادھمؒ نے آپؒ سے حصول رزق کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ اگر کچھ مل جاتا ہے تو خیرات کر دیتا ہوں۔اور نہیں ملتا تو شکر سے کام لیتا ہوں۔ یہ سن کر حضرت ابرھیم بن ادھمؒ نے کہا کہ واقعی آپؒ عظیم بزرگ ہیں۔پھر حج کے بعد بغداد تشریف لے آئے اور وہیں واعظ گوئی کا مشغلہ بنا لیا۔

متوکلیں:☜

ایک مرتبہ آپؒ نے کسی کو یہ کہتے سنا کہ متوکلین کے رزق اور خوشی میں زیادتی ہوتی رہتی ہے۔ اور وہ فراخ دل ہوتے ہیں، عبادت کے وقت انکے دل وسوسوں سے پاک ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ عبادت کی بنیاد بیم و رضاء اور حب الہی پر قائم ہے۔اور خوف کی نشانی محرمات کو ترک کر دینا ہے۔اور امید کی نشانی عبادات پر مداومت اختیار کرنا ہے۔زور محبت کی نشانی شوق و توبہ اور رجوع الی اللہﷻ ہو جانا ہے۔ اور جسکے اندر خوف و اضطرار نہ ہو وہ جہنمی ہے۔

  • پھر فرمایا کہ تین چیزیں انسان کے لئے مہلک ہیں۔
  • اول توبہ کی امید پر معصیت کا ارتکاب۔
  • زندگی کی امید پر توبہ نہ کرنا۔
  • رحمت سے مایوس ہونا۔
  • پھر فرمایا کہ اللہﷻ عابدین اور اھل رضاء کو مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے اور معصیت کاروں کو زندگی ہی میں مردہ بنا دیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ فقیر سے تین چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔
  • جسمانی غم
  • مشغلہ قلب
  • دشواری حساب

پھر فرمایا کہ موت آ کر واپس نہیں ہوتی لہذا اس کے لئے کمر بستہ رہو۔پھر فرمایا کہ میرے نزدیک مہمان ہر شئے سے زیادہ عزیز ہے۔کیونکہ مہمان نوازی کا صلہ خدا ہی جانتا ہے۔ پھر فرمایا کہ جو شخص حصول نعمت کے لئے دشواری اختیار کرکے دشواری کو فراخی تصور نہ کرے وہ ہمیشہ غم دو جہاں میں مبتلاء رہتا ہے۔اور جس نے اسکو فراخی سمجھ لیا وہ دونوں جہاں میں خوش رہتا ہے۔

رموز و ارشادات:☜

  • جب لوگوں نے آپؒ سے سوال کیا کہ خدا پر کامل اعتماد کرنے والا کون ہوتا ہے؟؟؟ فرمایا کہ جو دنیاوی زندگی کے فوت ہو جانے کو غنیمت تصور کرے۔اور جو انسانوں  کے وعدوں  کو خدا کے وعدوں  سے زیادہ اطمنان بخش سمجھے۔
  • فرمایا کہ تین چیزیں تقوٰی کی پہچان ہیں۔
  • فرستادن
  • منع کردن
  • سخن گفتن
  • فرستادن کا مفہوم یہ کہ آپ خدا کے فرستادہ ہو۔ لہذا اسی قسم کے امور انجام دو۔
  • اور منع کردن کا مفہوم یہ ہے کہ کسی سے کچھ طلب نہ کرو۔
  • سخن گفتن سے مراد یہ ہیکہ ایسی گفتگو کرو جو دین اور دنیا میں سود مند ہو۔ اور اس جملہ کا دوسرا مفہوم ہے کہ تم نے جس قدر نیک کام انجام دیئے اور جن کاموں کے لئے کنارہ کشی اختیار کی وہ دنیاوی بھلائی کے لیے ہیں۔کیونکہ ایک انسان اپنی زبان سے دین و دنیا دونوں کی باتیں کر سکتا ہے۔

پھر فرمایا کہ میں نے متعدد علماء سے کہ دانشور،دولت مند، دانا بخیل ، درویش کا  مفہوم دریافت کیا ہے؟؟؟ سب نے یہی جواب دیا کہ دانشور وہ ہے جو محب دنیا سے احتراز کرے۔ دولتمند وہ ہے جو قضاء و قدر پر مطمئن رہے۔ دانا وہ ہے جو فریب  دنیا میں مبتلاء نہ ہو سکے۔ درویش وہ ہے جو زیادہ طلب  نہ کرے۔ بخیل وہ ہے جو دولت کو مخلوق سے زیادہ عزیز تصور کرے اور کسی کو ایک دانہ بھی نہ دے۔

حضرت حاتم بن اصمؒ نے آپؒ سے نفع بخش نصیحت کرنے کے لئے درخواست کی  تو فرمایا کہ عام وصیت تو یہ ہے کہ  اپنے قول کا معقول جواب سوچے بغیر کوئی بات منھ سے نہ نکالی جائے۔ اور خاص وصیت یہ ہے کہ جب تک تمہارے اندر بات نہ کہنے کی طاقت موجود ہے تو خاموشی اختیار کرو۔

Advertisements