تعارف:☜

آپؒ علوم حقائق شناسا راہ طریقت کے عامل سالکین و عارفین کے پیشواء و مقتداء تھے۔ اور امام ابو حنیفہؒ سے شرف تلمذ حاصل رہا حتٰی کہ مسلسل بیس سال امام صاحبؒ سے علم حاصل کرتے رہے۔یوں تو تمام علوم پر انکو درسترس حاصل تھی لیکن علم فقہ میں اپنا نمونہ آپ ہی تھے۔آپؒ حضرت حبیب راعی کے ارادت مندوں میں داخل تھے لیکن حضرت فضیلؒ اور حضرت ابراھیم ادھمؒ جیسی برگزیدہ ہستیوں سے شرف نیاز حاصل تھا۔

آپؒ کے تائب ہونے کا واقعہ اس طرح منقول ہے۔کہ کسی گویئے نے آپؒ کے سامنے یہ شعر پڑھا؀

 بای خدیک تبدی البلا                  
وبای عینک ماذا سالا

﴿کون سا چہرہ خاک میں نہیں ملا    
اور کون سی آنکھ زمین پر نہیں بہی﴾

                                      یہ شعر سن کر بےخودی میں امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا پورا واقعہ بیان کر کے کہا کہ میری طبیعت دنیا سے اچاٹ ہو گئی ہے۔اور ایک نا معلوم سی شئے قلب کو مضطر کیے ہوئے ہے۔یہ سن کر امام صاحبؒ نے فرمایا کہ گوشہ نشینی اختیار کر لو۔ چناچہ اسی وقت سے آپؒ گوشہ نشین ہو گئے۔پھر کچھ عرصہ بعد امام صاحبؒ نے فرمایا کہ اب یہ بہتر ہے کہ لوگوں سے رابطہ قائم کرکے ان کی باتوں پر صبر و ضبط سے کام لو۔ چناچہ ایک برس تک تعمیل حکم میں بزرگوں کی خدمت میں رہ کر انکے اقوال سے بہرہور ہوئے لیکن خود ہمیشہ خاموش رہتے تھے۔اسکے بعد حضرت حبیب راعیؒ سے بیعت ہوکر فیوض باطنی سے سیراب ہوتے رہے اور ذکر الٰہی میں مشغول رہ کر عظیم مراتب سے ہمکنار ہوۓ۔

قناعت:☜

ورثہ میں آپؒ کو بیس دینار ملے تھے اور بیس سال سے اپنے اخراجات کی تکمیل کرتے رہے۔اور جب بعض بزرگوں نے کہا کہ دینار جمع کرکے رکھنا  ایثار کے منافی ہے۔آپؒ نے فرمایا کہ یہی دینار زندگی بھر کے لئے باعث طمانیت ہیں۔لیکن قناعت کا یہ عالم ہے کہ روٹی پانی میں بھگو کر کھاتے تھے اور فرماتے کہ جتنا وقت یہ لقمہ بنانے میں صرف ہوتا ہے اتنے وقت میں قرآن کی پچاس آیتیں پڑھ سکتا ہوں۔ ایک مرتبہ حضرت عیاش آپ کے یہاں پہنچے تو دیکھا کہ روٹی کا ایک ٹکڑا ہاتھ میں لیے رو رہے ہیں۔اور حضرت عیاش نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ دل تو یہ چاہتا ہے کہ اسکو کھا لوں لیکن یہ پتہ نہیں کہ یہ رزق حلال بھی ہے یا نہیں؟؟؟

ایک شخص نے پانی کا گھڑا آپؒ کے یہاں دھوپ میں رکھا ہوا دیکھ کر عرض کیا کہ اسکو سائے میں کیوں نہیں رکھا؟ فرمایا کہ جس وقت میں نے یہاں رکھا اس وقت سایہ تھا۔لیکن اب دھوپ میں سے اٹھاتے ہوئے ندامت ہوئی کہ محض اپنی راحت کے لئے تضییع الاوقات کرتے ہوئے ذکر الٰہی سے غافل رہوں۔

کنارہ کشی:☜

جب لوگوں نے آپؒ سے کہا کہ صحبت مخلوق سے کنارہ کش کیوں رہتے ہو؟؟ فرمایا کہ اگر کم عمر لوگوں میں بیٹھوں تو وہ ادب کی وجہ سے دینی علم نہیں سکھایئنگے۔ اور اگر معمر بزرگوں میں بیٹھوں تو وہ مجھے میرے عیوب سے آگاہ نہیں کرینگے۔ پھر میرے لئے مخلوق کی صحبت کیا سود مند ہو گی۔ پھر کسی نے پوچھا کہ آپؒ شادی کیوں نہیں کرتے؟؟؟ فرمایا کہ نکاح کے بعد بیوی کے روٹی کپڑے کی کفالت لینی پڑتی ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ خدا کے سوا کوئی کسی کا کفیل نہیں ہوتا۔اس لئے میں کسی کو دھوکہ نہیں دینا چاہتا۔ پھر فرمایا کہ آپؒ ڈاڑھی میں کنگھی کیوں نہیں کرتے؟؟؟ فرمایا کہ ذکر الہی سے فرصت نہیں ملتی۔ آپؒ چونکہ دنیا سے کنارہ کش ہو کر ذکر الہی میں مشغول رہتے تھے اس لئے آپؒ کو عظیم مراتب عطاء کیے گئے۔

بے خودی:☜

ایک مرتبہ چاندنی سے لطف اندوز ہونے کے لئے چھت پر پہنچ گئے۔لیکن مناظر قدرت کی حیرت انگیزیوں سے متاثر ہو کر عالم بے خودی میں ہمسایہ کی چھت پر گر پڑے اور ہم سایہ یہ سمجھا کہ چور آ گیا ہے۔چناچہ وہ شمشیر برہنہ لیکر چھت پر چڑھا لیکن آپؒ کو دیکھ کر پوچھا کہ آپؒ یہاں کیسے پہنچ گئے؟؟ فرمایا کہ عالم بے خودی میں ناجانے کس نے مجھے یہاں پھنک دیا۔

منقول ہے کہ آپؒ مداومت کے ساتھ روزے رکھتے تھے ایک مرتبہ موسم گرما میں  دھوپ میں بیٹھے ہوۓ مشغول عبادت تھے۔آپؒ کی والدہ نے کہا کہ یہاں آ جاؤ آپؒ نے فرمایا کہ مجھے ندامت ہوتی ہے کہ خواہش نفس کے لئے کوئی اقدام کروں۔ فرمایا کہ جب بغداد میں لوگوں نے مجھے پرشان کرنا شروع کر دیا تو میں نے اللہ ﷻ سے دعا کی کہ ۔۔۔اے اللہﷻ میری چادر لے لے تاکہ نماز جماعت سے نجات حاصل ہو جائے اور مخلوق سے کوئی واسطہ نہ رہے۔اور جس وقت سے اللہﷻ نے میری چادر لے لی اس وقت سے مجھے گوشہ نشینی اور ذکر الہی کے سوا کچھ اچھا نہیں لگتا۔

نکتہ:☜

آپؒ صدا غمزدہ رہتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جسکو ہر لمحہ مصائب کا سامنا ہو اسے مسرت کیسے حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک مرتبہ کسی درویش نے آپؒ  کو مسکراتا دیکھ کر وجہ دریافت کی؟؟؟ فرمایا کہ خدا نے مجھے شراب محبت پلا دی ہے اسکے خمار میں مسرور ہوں۔اور جب آپؒ کہیں مجمع میں پہنچ جاتے تو یہ کہہ کر کہ لشکر آ رہا ہے بھاگ جاتے۔جب لوگ دریافت کرتے کہ کس کا لشکر ؟؟؟؟ تو فرماتے کہ قبرستان کے مردوں کا لشکر ہے!!!

نصیحت:☜

جب حضرت ربیعؒ نے آپؒ سے نصیحت کی درخواست کی تو آپؒ نے فرمایا کہ دنیا سے روزہ رکھو اور آخرت سے افطار کرو۔ ہر کسی نے نصحت کی خواہش کی تو فرمایا کہ بد گوئی سے احتراز کرو۔ مخلوق سے کنارہ کش رہو۔دین کو دنیا پر ترجیح دو اور اگر ہو سکے تو مخلوق کا خیال ہی دل سے نکال دو۔ پھر کسی نے نصیحت کی درخواست کی تو فرمایا کہ مردے تمہارے انتظار میں ہیں۔تمہیں بھی مرنا ہے اسلیے وہاں کا سامان کر لو۔ ترک دنیا سے بندہ خدا تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔

بے نیازی:☜

جب ہارون رشید امام ابو یوسفؒ کے ہمراہ بغرض ملاقات حاضر ہوا تو آپؒ نے ملاقات سے انکار کرتے ہوۓ  فرمایا کہ میں دنیا دار اور ظالموں سے نہیں ملتا۔لیکن جب ہارون رشید کی والدہ نے بے حد اصرار کیا تو آپؒ نے اجازت دے دی۔ جب ہارون رشید رخصت ہونے لگا تو ایک اشرفی پیش کرنی چاہی تو آپؒ نے منع کرتے ہوۓ فرمایا کہ میں نے اپنا مکان جائز دولت کے عوض فرخت کیا ہے اسلئے میرے پاس اخراجات کے لئے رقم موجود ہے۔اور دعاء کرتا ہوں کہ جب یہ رقم ختم ہو جاۓ تو اے اللہﷻ مجھے اس دنیا سے اٹھا لے۔

ایک مرتبہ امام ابو یوسفؒ نے آپؒ کے خادم سے پوچھا کہ اب اخراجات کے لئے کتنی رقم باقی رہ گئی ہے۔ تو آپؒ کے خادم نے عرض کیا کہ دس درھم چاندی کے تو امام ابو یوسفؒ نے حساب لگایا کہ اب آپؒ اتنے ہی  دن حیات رہینگے۔

ترک لذت:☜

کسی بزرگ نے آپؒ کو دھوپ میں قرآن خوانی کرتے ہوۓ دیکھا تو فرمایا کہ آپؒ سائے میں آ جائیں۔ تو آپؒ نے فرمایا کہ مجھے اتباع نفس پسند نہیں ہے اور اسی رات آپؒ کا وصال ہو گیا۔

وصیت:☜

آپؒ نے یہ وصیت فرمائی کہ مجھے دیوار کے نیچے دفن کرنا۔ چناچہ آپؒ کی وصیت پر عمل کیا گیا۔۔اور اکابرین فرماتے ہیں کہ آپؒ کی قبر آج تک محفوظ ہے۔

وفات:☜

کسی نے آپؒ خواب میں ہوا میں پرواز کرتے ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج مجھے قید سے چھٹکارا مل گیا۔اور بیدار  خواب ہو کر وہ شخص آپؒ کے پاس خواب کی تعبیر دریافت کرنے کے لئے حاضر ہوا۔ تو آپؒ کی وفات کی خبر سنتے ہی کہنے لگا کہ خواب کی تعبیر مل گئی۔اور روایت میں منقول ہے کہ آپؒ کے انتقال کے وقت آسمان سے یہ ندا آئی کہ داؤد طائی اپنی مراد کو پہنچ گیا اور خدا بھی ان سے خوش ہے۔

Advertisements