تعارف:☜

آپؒ کا شمار نہ صرف اہلِ تقویٰ  ، اہل ورع میں ہوتا ہے بلکہ آپ مشاخین کے پیشوا و طریقت کے ہادی، ولایت و ہداہت کے مہر منور ، کرامات و ریاضت کے اعتبار سے اپنے دور کے شیخ کامل  تھے۔ آپؒ کے ہم عصر آپؒ کو صادق و مقتداء تصور کرتے تھے۔

حالات:☜

آپؒ ابتدائی دور میں ٹاٹ کا لباس پہنے، اونی ٹوپی پہنے، اور گلے میں تسبیح ڈالے صحرا بصحرا لوٹ مار کیا کرتے تھے اور ڈاکوؤں کے سرغنہ تھے۔ اور پورا مال تقسیم کرکے اپنے لیے اپنی پسندیدہ شئے رکھ لیا کرتے تھے۔اسکے باوجود آپؒ خود پانچوں وقت کی نماز پڑھتے تھے بلکہ ساتھوں اور خدّام میں سے جو نماز نہیں پڑھتا تھا اس کو خارج از جماعت کر دیتے تھے۔

عجیب واقعات:☜

ایک مرتبہ کوئی مالدار قافلہ اس جگہ سے گزر رہا تھا۔ان میں ایک شخص کے پاس بہت رقم تھی۔ چنانچہ اس نے لٹیروں کے ڈر سے کہ رقم بچ جائے ،تو بہت اچھا ہو،پھر صحرا میں رقم دفن کرنے کے لیے جگہ کی تلاش میں نکلا، تو وہاں ایک بزرگ کو مصلٰی بچھائے تسبیح پڑھتے دیکھا تو کچھ مطمئن سا ہو گیا۔اور وہ رقم اس بزرگ کے پاس رکھ کر جب قافلہ کی جانب پہنچا تو سارا قافلہ لٹیروں کی نظر تھا۔وہ شخص جب ان بزگ کے پاس اپنی رقم واپس لینے پہنچا تو کیا دیکھتا ہے ، کہ وہ بزرگ لٹیروں کے ساتھ مل کر مال غنیمت تقسیم کر رہیں تھے۔ اس بے چارے نے اظہار تاسف کرتے ہوئے بولا کہ میں نے اپنی رقم اپنے ہی ہاتھوں ایک ڈاکوں کے حوالے کر دی۔ لیکن حضرت فضیلؒ نے اسے اپنے پاس  بلاکر پوچھا ! کہ یہاں کیوں آئے ہو؟؟؟ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ اپنی رقم واپسی کے لیے!!! تو آپؒ نے فرمایا کہ جس جگہ رکھ کر گئے تھے وہیں سے اٹھا لو۔جب وہ اپنی رقم لے کر واپس ہو گیا تو آپؒ کے ساتھیوں نے کہا،،، کہ اپؒ نے اس رقم کو باہمی تقسیم کرنے کے بجاۓ اسکو واپس کیوں کر دی؟؟؟ آپؒ نے فرمایا کہ اس نے مجھ پر اعتماد کیا!!!! اور میں اللہﷻ پر اعتماد رکھتا ہوں!!!

چند دنوں بعد ساتھوں نے پھر سے ایک قافلہ لوٹ لیا۔جس میں بہت سا مال و متاع ہاتھ آیا لیکن اہل قافلہ میں سے کسی نے پوچھا کہ تمہارا کوئی سرغنہ ہے؟؟؟ ساتھوں نے کہا کہ ہیں تو سہی لیکن اس وقت وہ لبِ دریا نماز میں مشغول ہیں۔ اس شخص نے کہا کہ یہ تو کسی نماز کا وقت نہیں ہے۔۔۔رہزنوں نے کہا کہ نفل پڑھ رہا ہے۔۔اس نے سوال کیا کہ جب تم کھانا کھاتے ہو تو وہ  تمہارے ہمراہ نہیں کھاتا؟؟؟ ساتھیوں نے جواب دیا کہ وہ دن میں روزہ رکھتا ہے۔ اس نے سوال کیا کہ یہ تو رمضان کا مہینہ نہیں ہے؟؟؟ ساتھیوں نے کہا کہ نفلی روزے رکھتا ہے۔ یہ حالات سن کر وہ شخص حیرت زدہ ہو گیا اور حضرت فضیلؒ کے پاس جا کر عرض کیا کہ صوم و صلوة کے ساتھ رہزنی کا کیا تعلق؟؟ آپؒ نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا تونے قرآن پڑھا ہے؟؟؟ جب اس شخص نے اثبات میں جواب دیا، فضیلؒ نے یہ آیت تلاوت فرمایئ☜
"(وآخرون اعترفوا بذنوبھم خلطوا عملاً صالحا)” یعنی دوسروں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے ، انکے ساتھ عمل صالح کو خلط ملط کر دیا۔ آپؒ کی زبانی قرآنی آیت سن کر وہ شخص محو حیرت رہ گیا۔

روایت ہےکہ آپؒ بہت بامروت و باہمت تھے۔ جس کارواں میں کوئی عورت یا ان کے پاس قلیل متاع ہوتا تو اس قافلہ کو نہیں لوٹتے تھے۔اور جسکو لوٹتے اسکے پاس کچھ نہ کچھ مال و متاع چھوڑ دیتے۔

سبق آموز واقعہ:☜

ایک مرتبہ رات میں کوئی قافلہ آکر ٹھرا اس میں کوئی شخص یہ آیت تلاوت کر رہا تھا۔ (الم یٵن للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ)
یعنی کیا اھل ایمان کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے قلوب اللہﷻ کے ذکر سے خوف ذدہ ہو جائیں۔
اس آیت کا حضرت فضیلؒ کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ کسی نے تیر مارا ہو۔اور آپؒ نے اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا کہ یہ غارت گری کا کھیل کب تک جاری رہیگا کہ  اب وہ وقت  آ چکا ہے کہ ہم اللہﷻ کی راہ میں نکل پڑیں۔ یہ کہتے ہوئے زار و قطار روئے اور اس کے بعد مشغول ذکر و ریاضت ہو گئے اور ایک صحرا میں جا نکلے جہاں کوئی قافلہ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔

اہل قافلہ میں سے کوئی کہہ رہا تھا کہ فضیل ڈاکے ڈالتا ہے ہمیں اپنا  راستہ تبدیل کر دینا چاہیئے۔ یہ سن کر آپؒ نے کہا کہ اب بالکل بے فکر ہو جائیں کیونکہ میں نے رہزنی  سے توبہ کر لی ہے۔پھر ان لوگوں سے جن کو آپؒ سے تکلیف پہنچی تھی آپؒ نے ان سے معافی طلب کی۔ لیکن ایک یہودی نے معاف کرنے سے انکار کر دیا اور یہ شرط لگا دی کہ اگر سامنے والی پہاڑی کو یہاں سے ہٹا دو میں معاف کر دونگا۔ چنانچہ آپؒ نے اسکی مٹی اٹھانی شروع کر دی اور ایک دن ایسی آندھی آئی کہ وہ پوری پہاڑی اپنی جگہ سے ختم ہو گئی۔  یہودی نے یہ دیکھ کر اپنے دل سے آپؒ کی دشمنی ختم کر دی اور عرض کیا کہ میں نے یہ عہد کیا تھا کہ جب تک تم میرا مال واپس نہیں کروگے میں تمہیں معاف نہیں کرونگا۔ لہٰذا اس  تکیہ کے نیچے اشرفیوں کی تھیلی رکھی ہوئی ہے وہ اٹھا کر آپؒ مجھے دے دیں تاکہ میری قسم کا کفارہ ہو جائے۔ چناچہ آپؒ نے وہ تھیلی اٹھا کر اسکو دے دی۔

اسکے بعد اس نے یہ شرط لگائی کہ پہلے مجھے مسلمان کر لو پھر معاف کرونگا۔ پھر آپؒ نے اسے کلمہ پڑھا کر مسلمان کر لیا پھر اس نے بتایا کہ میرے مسلمان ہونے کی وجہ یہ تھی۔۔کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ اگر صدق دلی سے تائب ہونے والا خاک کو ہاتھ لگا دیتا ہے تو وہ سونا بن جاتی ہے۔ لیکن مجھے اس بات پر یقین نہیں تھا۔اورآج جبکہ میری تھیلی میں مٹی بھری ہوئی تھی۔اور آپؒ نے مجھکو دی تو واقعی  اسمیں سونا نکلا اور مجھے یقین ہو گیا کہ آپؒ کا مذہب سچا ہے۔

ہارون رشید کا آپؒ کے پاس آنا

ایک رات ہارون رشید نے فضل بر مکی کو حکم دیا کہ مجھے کسی درویش سے ملوا دو۔ چنانچہ وہ حضرت سفیانؒ کی خدمت لے گیا اور  دروازے پر دستک دینے کے بعد حضرت سفیانؒ نے پوچھا کہ کون ہے؟  تو فضل نے کہا کہ امیر المؤمنین ہارون رشیدؒ تشریف لاۓ ہیں۔ سفیانؒ نے کہا کہ کاش مجھے پہلے علم ہوتا تو میں خود استقبال کے لیے حاضر ہوتا۔ یہ سن کر ہارون رشیدؒ نے فضل سے کہا کہ میں جیسے درویش کا متلاشی تھا ان میں وہ اوصاف نہیں ہیں اور تم مجھے یہاں لیکر کیوں آئے؟  فضل نے عرض کیا کہ آپ جس قسم کے بزرگ کی جستجو میں ہیں وہ اوصاف  صرف فضیل بن عیاض میں ہیں۔

پھر فضل انکو فضیل بن عیاضؒ کے یہاں لے گیا۔ اس وقت آپؒ یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے۔( ام حسب الذین اجترحوا السیاٰت ان نجعلھم کلذین امنوآ) یعنی کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جنہوں نے برے کام کیے ہم انہیں نیک کام کرنے والوں کے برابر  کر دینگے۔ یہ سن کر ہارون رشیدؒ نے کہا کہ اس  سے بڑی نصیحت اور کیا ہو سکتی ہے۔ پھر جب دروزاے پر دستک دینے کے جواب میں  حضرت فضیلؒ نے پوچھا کہ کون؟ تو فضل بر مکی نے کہا کہ امیر المؤمنین تشریف لائے ہیں۔ آپؒ نے اندر ہی سے فرمایا کہ انکا میرے پاس کیا کام؟ اور مجھے ان سے کیا واسطہ ؟  آپ لوگ میری مشغولیت میں حارج نہ ہو۔

پھر فضل بر مکی نے کہا کہ  اولو الامر کی اطاعت فرض عین ہے۔ آپؒ نے فرمایا مجھے اذیت نہ دو۔  پھر فضل نے کہا کہ اگر آپؒ اندرداخلہ کی اجازت نہیں دیتے تو بلا اجازت داخل ہو جائینگے۔ آپؒ نے فرمایا کہ میں تو اجازت نہیں دیتا ویسے بلا اجازت داخلہ پر تم مختار ہو۔ اور جب دونوں اندر داخل ہوئے تو آپؒ نے شمع بھجا دی تاکہ ہارون رشید کی شکل نظر نہ آسکے۔لیکن اتفاق کے تاریکی میں ہارون رشید کا ہاتھ آپؒ کے ہاتھ پر پڑ گیا تو آپؒ نے فرمایا کتنا نرم ہاتھ ہے۔کاش جہنم سے نجات حاصل کر سکیں۔۔۔ یہ فرما کر آپؒ نماز میں مشغول ہو گئے۔ فارغ نماز ہو نے کے بعد جب  ہارون نے عرض  کیا کہ کچھ ارشاد فرمایئے۔  تو آپؒ نے ارشاد فرمایا ؛ کہ تمہارے والد حضورﷺ کے چچا تھے چنانچہ انہوں نے جب حضورﷺ سے استدعا کی کہ آپﷺ مجھے کسی ملک کا حکمراں بنا دیجیے،  تو آپﷺ نے فرمایا  کہ میں تجھے تیرے نفس کا حکمراں بناتا ہوں۔کیونکہ دنیا کی حکومت تو روز محشر وجہ ندامت بن جایئگی۔

یہ سن کر ہارون نے ارشاد فرمایا کہ  کچھ اور ارشاد فرمائیے۔آپؒ نے فرمایا کہ جب عمر بن عبد العزیز کو سلطنت حاصل ہوئی تو انہوں نے کچھ ذی عقل لوگو ں کو جمع کرکے فرمایا کہ میرے اوپر ایک ایسا بارگراں ڈال دیا گیا ہے جس سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آپ ہر سن رسید کو باپ کی جگہ تصور کرے۔اور ہر جوان کو بمنزلہ بھائی اور بیٹے کے،  اور ہر عورت کو ماں بیٹی اور بہن سمجھے۔ انہیں رشتوں کے مطابق ان سے حسن سلوک سے پیش آئے۔

ہارون رشید نےکہا کچھ اور ارشاد فرمایئے  پھر آپؒ نے کہا کہ،،،  پوری مملکت اسلامیہ کے باشندوں کو اپنی اولاد تصور کرو، بزرگوں پر مہربانی اور چھوٹوں سے  ہمدردی، بھائیوں سے حسن سلوک سے پیش آؤ۔پھر فرمایا کہ تمہاری حسین وجمیل صورت نار جہنم کا ایندھن نہ بن جاۓ؟؟؟کیونکہ بہت سی حسین صورتوں کا جہنم میں جا کر حلیہ تبدیل ہو جایئگا اور بہت سے امیر اسیرہو جایئنگے۔ اللہﷻ سے خائف رہتے ہوۓ محشر میں جواب دہی کے لیے ہمیشہ چوکس رہو۔ وہاں ایک ایک مسلمان کی باز پرس ہوگی۔ اگر تمہاری قلمرو میں ایک عورت بھی بھوکی سو گئی تو تمہارا گریباں پکڑیگی۔

ہارون رشید پر نصیحت آمیز گفتگو سنتے سنتے غشی طاری ہو گئی اور فضل بر مکی نے آپؒ سے عرض کیا ! کہ جناب بس کیجئے، آپؒ نے تو امیر المؤمنین کو نیم مردہ کر دیا۔ حضرتؒ نے فرمایا  کہ اے ہامان چپ ہو جا میں نے نہیں تونے اور تیری جماعت نے ہارون کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ یہ سن کر ہارون رشید پر عجیب رقت طاری ہوگئی اور فضل سے فرمایا کہ  مجھے فرعون تصور کرنے کی بابت  تجھے ہاماں کا خطاب دیا۔  پھر ہارون نے دریافت کیا کہ  آپؒ کسی کے مقروض تو نہیں؟ آپؒ نے فرمایا کہ ایک اللہﷻ ہی کا قرض دار ہوں اور اسکی ادایئگی اطاعت سے ہی  ہوگی۔لیکن اسکی ادایئگی بھی میرے بس سے باہر ہے  کیونکہ محشر میں میرے پاس کسی سوال کا جواب  نہ ہوگا۔

پھر ہارون نے فرمایا  کہ میرا مقصود دنیاوی قرض تھا۔ آپؒ نے فرمایا کہ اللہﷻ کی عطاء کردہ نعمتیں ہی اتنی ہیں کہ مجھے قرض لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ اسکے بعد ہارون نے بطور نذرانہ ایک تھیلی جسمیں دس ہزار اشرفیاں تھی، دیتے ہوئے کہ کہا کہ یہ مجھے میری ماں سے بطور وراثت ملی تھیں اس لیے یہ طعام حلال ہے۔ آپؒ نے فرمایا کہ صد حیف،،، کہ میری تمام نصائح بے سود ہو کر رہ گئیں کیونکہ تم نے ذرا سا بھی اثر نہیں قبول کیا۔ میں تمہیں دعوت و نجات دے رہا ہوں اور تم مجھے قعر و  ہلاکت میں جھونک دینا چاہتے ہو؟؟؟ کیونکہ مال مستحقین کو ملنا چاہئیے اور تم غیر مستحقین میں تقسیم کرنے کے خواہاں ہو؟ پھر رخصت ہوتے وقت ہارون رشید نے فضل بر مکی سے کہا کہ یہ واقعی صاحب فضل بزرگوں میں سے ہیں۔

حضرت فضیلؒ ایک مرتبہ اپنے بچے کو آغوش میں لیکر پیار کر رہے تھے کہ بچے نے سوال کیا کہ کیا آپؒ مجھے اپنا محبوب تصور کرتے ہیں؟  آپؒ نے فرمایا بے شک! پھر بچے نے سوال کیا  کہ   اللہﷻ کو بھی محبوب رکھتے ہیں؟ آپؒ نے فرمایا ہاں۔ پھر ایک قلب میں دو چیزوں کی محبوبیت کیسے جمع ہو سکتی ہے؟ یہ سنتے ہی بچے کو آغوش سے اتار کر مصروف عبادت ہوگئے۔

میدان عرفات میں لوگوں کی گریہ وزاری دیکھ کر فرمایا کہ اگر اتنے گریہ کےساتھ کسی بخیل سے بھی اسکی دولت مانگی جاتی تو وہ انکار نہیں کرتا۔ پھر فرمایا یا الہی  اس قدر گریہ وزاری کرنے کے بعد مغفرت طلب کرنے والوں  کو تو معاف فرما دیگا۔

ایک  مرتبہ کسی نے آپؒ سے  سوال کیا کہ عرفات کے متعلق جناب کی کیا راۓ ہے؟  فرمایا کہ اگر فضیلؒ ان میں نہ ہوتا سب کی مغفرت ہوتی۔

رموز و ارشادات:☜

ایک مرتبہ کسی نے آپؒ سے سوال کیا کہ خدا کی محبت معراج کمال تک کس وقت پہنچتی ہے؟ فرمایا کہ  جب جب دنیا اور دین بندے کے لیے مساوی ہو جاے۔ پھر کسی نے سوال کیا کہ  اگر کوئی شخص لبیک اس خوف سے نہ کہتا ہو کہ اگر اسکا جواب نفی میں نہ مل جاۓ،تو اسکے متعلق آپؒ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا کہ اس سے بلند مرتبت کوئی نہیں۔ پھر اس دین کے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا  کہ عقل دین کی بنیاد ہے۔عقل کی بنیاد علم اور علم کی بنیاد صبر ہے۔

حضرت احمد ابن یہ کہتے تھے  کہ میں نے اپنے کانوں سے حضرت فضیلؒ کو یہ کہتے ہوۓ سنا کہ طالب دنیا رسوا اور ذلیل ہوتا ہے۔ اور جب میں نے اپنے متعلق کچھ تنصحت کرنے کے لئے عرض کیا تو فرمایا کہ خادم بنو کیونکہ خادم بننا ہی وجہ سعادت ہے۔

ایک مرتبہ بشر حافیؒ نے پوچھا کہ زہد و رضاء میں افضل کون ہے؟ فرمایا رضاء کو فضیلت اس لئے حاصل ہے کہ جو راضی رہتا ہے وہ اپنی بساط سے زیادہ طلب نہیں کرتا۔

آپؒ نے حضرت عبد اللہ کو آتا دیکھ کر فرمایا جدھر سے آۓ ہو ادھر ہی لوٹ جاؤ ورنہ میں لوٹ جاؤنگا۔تمہاری آمد کی غایت یہ ہوتی ہے کہ ہم دونوں بیٹھ کر باتیں کریں۔

ایک بار آپؒ نے کسی سے حاضر خدمت ہونے کی وجہ دریافت کی تو اس نے عرض کیا کہ میری آمد کا مقصد آپکی شیریں بیانی سے محظوظ ہونا ہے۔ آپؒ نے  قسم کھا کر فرمایا کہ یہ بات میرے لئے بہت ہی وحشت انگیز ہے کہ تمہاری آمد کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہم دونوں جھوٹ اور فریب میں مبتلا ہیں لہذا یہاں سے فوراً چلے جاو۔

ایک مرتبہ آپؒ نے عرض کیا کہ  میری خواہش اس غرض سے علیل ہونے کی ہے کہ باجماعت نماز اداء نہ کرنی پڑے اور کسی کی شکل تک نظر نہ آۓ۔ کیونکہ بندگی ایک ایسی  خلوت نشیبی کا نام ہے جس میں کسی صورت کی نظر نہ پڑے۔

حضرت فضیلؒ فرماتے ہیں کہ  میںؒ ایسے شخص کا بہت ممنون ہوتا ہوں جو نہ مجھ سے سلام کرے اور نہ میری احوال پرسی کرے۔کیونکہ لوگوں سے میل ملاپ اور عدم تنہائی نیکی سے بہت دور کر دیتی ہیں۔اور  جو شخص محض اعمال پر گفتگو کرتا ہے اسکی ہر بات لغو اور بے سود ہوتی ہے۔

 جو اللہﷻ سے خوف رکھتا ہے اسکی زبان گنگ ہو جاتی ہے۔اور اللہﷻ  اس دوست کو غم اور دشمن کو عیش عطاء کرتا ہہے۔ پھر فرمایا کہ جس طرح جنت میں رونا عجیب بات ہے اسی طرح دنیا میں ہنسنا بھی تو تعجب انگیز بات ہے۔ کیونکہ نہ جنت رونے کی جگہ ہے اور نہ دنیا ہنسنے کی۔اور جسکا دل خشیت الہی سے لبریز رہتا ہے اس سے ہر شے خوف زدہ رہتی ہے۔

فرمایا بندے میں زہد کی مقدار اسی قدر ہوتی ہے جس قدر اسکو آخرت سے لگاؤ ہوتا ہے۔ فرمایا پوری امت محمدیہ میں ابن سیرین سے زیادہ بیم و درجا کسی کو نہیں دیکھا۔ فرمایا کہ اگر دنیا کی ہر لذت میرے لیے کر دی جاتی پھر بھی میں دنیا سے اتنا نادم رہتا جتنا کہ لوگ حرام اور مردار شئے سے نادم ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ اللہﷻ نے برائیوں کے مجموعہ کو دنیا کا نام دے دیا ہے۔اور دنیا سے بری الذمہ ہو کر لوٹنا اتنا مشکل ہے جتنا دنیا میں آنا آسان ہے۔ پھر فرمایا کہ لوگ دارالا مراض میں پاگلوں کی مانند تنگ جگہ میں  زندگی گزار دیتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر آخرت خاکی ہوتی اور دنیا خالص،لیکن پھر بھی دنیا فانی رہتی اور لوگوں کی خواہش خاکی ہونے کے باوجود آخرت  ہی کی جانب ہوتی۔ لیکن دنیا خاکی ہے اور آخرت ذر خالص۔ پھر بھی آخرت کی جانب لوگوں کی توجہ نہیں ہوتی۔

فرمایا کہ دنیا میں جب  کسی کو نعمتوں سے نوازا جاتا ہے۔تو آخرت میں اسکے سو حصے کم کر دیئے جاتے ہیں۔کیونکہ وہاں تو صرف وہی ملیگا جو دنیا سے کمایا ہے۔لہذا یہ انسان کے اختیار میں ہے کہ وہ آخرت کے حصہ میں کمی کرلے یا زیادتی۔ فرمایا کہ دنیا میں عمدہ لباس اور اچھا کھانا کھانے کی عادت نہ ڈالو کیونکہ محشر میں ان چیزوں سے محروم کر دیئے جاؤگے۔

ارشاد فرمایا کہ ہم انبیاء اکرام میں سے کسی ایک نبی سے پہاڑ پر ہم کلام ہونگے۔چناچہ طور سیناء کے علاوہ تمام پہاڑ فخر و تکبر کا شکار ہو گئے۔اسلئے اللہﷻ نے کوہ طور پر موسٰی علیہ السلام سے کلام فرمایا کیونکہ عجز خدا کی پسندیدہ شئے ہے۔

تین چیزوں کا حصول دشور ہے:☜

فرمایا کہ تین چیزوں کے حصول میں ناممکن ہے اس لیے انکی جستجو نہ  کرو۔
١۔ایسا عالم جو مکمل طور پر آپ پر علم پر عمل پیرا ہو۔
٢۔ایسا عامل جس میں اخلاص بھی ہو۔
٣۔وہ بھائی جو عیوب سے پاک ہو،
کیونکہ جو فرد اپنے بھائی کا ظاہری دوست ہو اور باطنی دشمن ہو اس پر صدا خدا کی لعنت رہتی ہے۔اور اسکی سماعت اور بصارت سلب کرنے کا خدشہ رہتا رہتا ہے۔

فرمایا کہ متوکل وہی شخص ہے جو خدا کے علاوہ نہ تو کسی سے خائف ہو اور نہ کسی سے امیدے وابستہ کرے۔کیونکہ توکل خدا پر شاکر اور قانع رہنے کا نام ہے۔

اہم اوقعہ:☜

ایک مرتبہ آپؒ کے بچے کا پیشاب بند ہوگیا تو آپؒ نے دعا کی کہ اے اللہﷻ تجھے میری دوستی کا واسطہ اسکا مرض دور کر دے۔ چنانچہ اسی وقت بچہ صحت یاب ہوگیا۔ 

آپؒ کی دعا دائمی

اپنی دعاؤں میں اکثر یہ فرمایا کرتے تھے  کہ اے اللہﷻ تیرا دستور یہ ہے کہ اپنے محبوب بندوں اور اسکے بیوی بچوں کو بھوکا ننگا رکھتا ہے اور انکو ایسی غربت دیتا ہے کہ گھر میں روشنی تک کا انتظام نہیں ہوتا۔۔بھلا تونے مجھے یہ دولت کیوں عطاء فرمائی؟ میں تیرے محبوب بندوں میں کا فرد نہیں ہوں۔اور کبھی عذاب سے نجات دیکر میرے حال پر رحم فرما کیونکہ تو عظیم و ستار ہے۔

صاحبزادے کی وفات کا واقعہ:☜

کسی قاری نے آپؒ کے سامنے بہت خوش حالی کے ساتھ قرآن کریم کی آیت تلاوت کی تو آپؒ نے فرمایا کہ میرے بچے کے نزدیک جاکر تلاوت کرو لیکن سورہ القارعة ہر گز مت پڑھنا کہ خشیت الٰہی کی وجہ سے وہ آخرت کا ذکر سننے کی استطاعت نہیں رکھتا۔مگر قاری نے وہاں پہنچ کر اسی سورة کی قرٵت کی اور آپؒ کے صاحبزادے اس دنیا سے ایک چیخ مارکر رخصت ہو گئے۔

اقوال:☜

زندگی کے آخری لمحات میں آپؒ نے فرمایا کہ مجھے پیغمبروں پر اس لیے رشک نہیں آتا کہ انکے لئے بھی قبر و قیامت اور جہنم و پل صراط کا مرحلہ ہے۔ اور  وہ بھی نفسی نفسی کے عالم سے گزریں گے اور ملائکہ پر اس لئے رشک نہیں کرتا کہ وہ انسانوں سے زیادہ خوف زدہ رہتے ہیں۔البتہ ان پر ضرور رشک آتا ہے جنہوں نے شکم مادر ہی سے جہنم لیا ہے۔

وصیت:☜

انتقال کے وقت آپؒ کی دو صاحبزادیاں موجود تھیں۔ آپؒ نے اپنی زوجہ محترمہ سے فرمایا کہ میرے بعد ان دونوں کو کوہ ابو القیس پر لے جا کر اللہﷻ سے عرض کرنا کہ فضیلؒ نے زندگی بھر انکی پرورش کی اور جب وہ اس دنیا سے چلا گیا تو اب یہ تیرے سپرد ہیں۔چناچہ بیوی نے اس وصیت پر عمل کیا اور ابھی دعا ہی میں مشغول تھیں کہ سلطان یمن ادھر سے گزرا اور اس نے  آپؒ کی صاحبزادیوں کو اپنی کفالت میں لے کر انکی والدہ کی اجازت کے بعد اپنے دونوں لڑکوں سے شادی کر دی۔

وفات

عبد اللہ بن مبارک فرمایا کرتے تھے کہ فضیلؒ کی موت کے وقت  زمین و آسمان حزن و ملال میں غرق تھے۔

Advertisements