تعارف

آپ کا نام ابو محمد جعفر صادق اور کنیت ابو محمد ہے۔ آپ کے مناقبت اور کرامتوں کے متعلق جو کچھ بھی تحریر کیا جاے بہت کم ہے۔ آپ امت محمدی کے لیے صرف بادشاہ اور حجت نبوی کے لیے روشن دلیل ہی نہیں بلکہ صدق و تحقیق پر عمل پیرا اولیاء کرام کے باغ کا پھل ،آل علی،نبیوں کے سردار کے جگر گوشہ اور صحیح معنوں میں وارث نبی بھی ہیں۔

حالاتِ زندگی

آپ کا درجہ صحابہ اکرام کے بعد ہی آتا ہے۔ اہل بیت میں شامل ہونے کی وجہ سے نہ صرف باب طریقت میں ہی آپ کے ارشادات منقول ہیں بلکہ بہت سی روایتیں بھی مروی ہیں اور جو لوگ آپ کے طریقے پر گامزن ہیں، وہ بارہ اماموں کے مسلک پر گامزن ہیں۔ کیونکہ آپ کا مسلک بارہ اماموں کے طریقت کا قائم ہے۔ آپ نہ صرف مجوعہ کمالات و پیشواۓ طریقت کے مشائخ ہیں بلکہ ارباب ذوق اور عاشقان طریقت اور زہدان عالی مقام کے مقتداء بھی ہیں، نیز آپ نے بہت سی تصانیف میں راز ہاۓ طریقت کو بڑے اچھے پیراۓ میں واضح کیا ہے اور امام باقر رحمۃ اللہ علیہ کی بھی کثیر مناقبت روایت کی ہیں۔

آپ کا رعب و جلال

خلیفہ منصور نے ایک شب اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کو میرے روبرو پیش کرو تاکہ میں ان کو قتل کروں۔ وزیر نے عرض کیا کہ جو شخص دنیا کو خیر باد کہہ کرعزلت نشین ہو گیا، اس کو قتل کرنا قرین مصلحت نہیں۔ لیکن خلیفہ نے غضب ناک ہو کر کہا :میرے حکم کی تعمیل تمہارے لیے لازم ہے۔ چناچہ وزیر امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کو لینے چلا گیا، تو منصور نے غلاموں سے کہا کہ جب میں اپنے سر سے تاج اتاروں تو فی الفور تم امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کو قتل کر دینا۔ لیکن جب آپ تشریف لاۓ تو آپ کی عظمت و جلال نے خلیفہ کو اس درجہ متائثر کیا کہ بے قرار ہو کر آپ کے استقبال کے لیے کھڑا ہو گیا اور نہ صرف آپ کو صدر مقام پر بیٹھایا بلکہ خود بھی مؤدبانہ آپکے سامنے بیٹھ گیا اور آپکی حاجات و ضروریات کے متعلق دریافت کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا :میری سب سے اہم ضرورت اور حاجت یہ ہے کہ مجھے آئیندہ کبھی دربار میں طلب نہ کیا جاؤں تاکہ میری عبادت و ریاضت میں خلل واقع نہ ہو۔ چناچہ منصور نے وعدہ کرکے آپکو عزت و احترام کے ساتھ رخصت کیا، لیکن آپکے روعب اور دبدبے کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ تین روز و شب مسلسل بے ہوش رہا۔ بعض روایات میں تین نمازوں کی قضاء ہونے کی حد تک غشی طاری رہی۔

نجات عمل پر موقوف ہے ناکہ نسب پر

ایک مرتبہ حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ نے خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ آپ چونکہ اہل بیت میں سے ہیں اسلیے مجھ کو کوئی نصیحت فرمائیے۔ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ خاموش رہے۔ جب دوبارہ داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ اہل بیت ہونے کے اعتبار سے اللہ نے آپکو جو فضیلت بخشی ہے اس لحاظ سے نصیحت کرنا آپکے لیے ضروری ہے۔ یہ سن کر امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجھے تو یہی خوف لگا ہوا ہے کہ قیامت کے دن میرء جد اعلی میرا ہاتھ پکڑ کر یہ سوال نہ کر بیٹھے کہ تونے خود میرا اتباع کیوں نہیں کیا؟کیونکہ نجات کا تعلق نسب سے نہیں اعمال صالحہ سے ہے۔ یہ سنکر داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ رب العزت سے عرض کیا :کہ جب اھل بیت پر خوف کے غلبہ کا یہ عالم ہے…تو میں کس گنتی میں آتا ہوں؟؟؟

نفاق سے نفرت

جب آپ تارک دنیا ہو گئے تو حضرت ابو سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا :کہ آپکے تارک الدنیا ہونے سے مخلوق آپکے فیوض عالیہ سے محروم ہو گئی ہے-امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ نے اسکے جواب میں فرمایا :کہ کسی جانے والے انسان کی طرح وفاء بھی چلی جاتی ہے- لوگ اپنے خیالات میں غرق رہ گئے، گو بظاہر ایک دوسرے کے ساتھ اظہار محبت و وفاء کرتے ہیں،لیکن انکے قلوب بچھوؤں سے لبریز ہیں۔

حق رفاقت

ایک مرتبہ آپ تنہاء اللہ جل شانہ کا ورد کرتے ہوۓ کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں ایک شخص بھی اللہ جل شانہ کا ذکر کرتے ہوۓ آپکے ساتھ ہو گیا۔ اس وقت آپکی زبان سے نکلا یا اللہ میرے پاس کوئی بہتر لباس نہیں ہے-چناچہ یہ کہتے ہی غیب سے ایک بہت قیمتی لباس نمودار ہوا-اپنے زیب تن کر لیا-لیکن اس شخص نے جو اپکے ساتھ تھا-عرض کیا کہ میں بھی تو اللہ جل شانہ کا ذکر کرنے میں اپکا شریک ہوں لہذا آپ اپنا پرانا لباس مجھے عطا کر دے-اپ نے لباس اتار کر اسکے حوالے کر دیا-

آپ کے ارشادات

فرمایا کہ اللہ تعالی نے دنیا ہی میں فردوس و جہنم کا نمونہ پیش کر دیا ہے۔ کیونکہ آسائش جنت ہے اور تکلیف جہنم ہے اور جنت کا صرف وہی حقدار ہے جواپنے تمام امور اللہ کے سپرد کر دے اور دوزخ اسکا مقصد ہے جو اپنے امور نفس سرکش کے حوالے کر دے۔ فرمایا کہ اگر دشمنوں کی صحبت سے اولیاء اکرام کو ضرر پہنچ سکتا تو فرعون سے آسیہ کو پہنچتا؟اور اگر اولیاء کی صحبت دشمن کے لیے فائدہ مند ہوتی تو سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام سے انکی ازواج کو فائدہ پہنچتا لیکن قبض اور بسط کے سواء اور کچھ بھی نہیں۔

اعتذار

اگر چہ آپکے فضائل و ارشادات بہت زیادہ طویل ہیں لیکن طوالت کے ساتھ حصول سعادت کا ذریعہ ہیں۔

Advertisements