تعارف:☜

آپؒ عابد و زاہد ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے واعظ اور مقبول عام تھے۔حضرت معروف کرخیؒ کو آپؒ کے مواعظ حسنہ سے بہت انشراح صدر ہوا تھا۔اسکے علاوہ خلیفہ ہارون رشید بھی آپؒ کے بے حد معترف تھے۔ایک مرتبہ آپؒ نے خلیفہ ہارون رشید سے فرمایا کہ اے ہارون شرف زہد  سب سے عظیم شرف ہے۔

حقائق :☜

آپؒ فرماتے تھے کہ تواضع کا مفہوم یہ کہ بندہ خود کو ہینچ تصور کرے۔پھر فرمایا کہ عہد گزشتہ کے لوگوں کی مثال دوا کی طرح تھی۔ جس سے لوگ شفاء حاصل کرتے تھے اور موجودہ دور کے لوگوں کی مثال درد کی جیسی ہیں جو صحت مندوں کو بھی مریض بنا دیتے ہیں۔

فرمایا کہ ایک وہ دور تھا کہ جب  واعظین واعظ گوئی کو اس قدر دشوار سمجھتے تھے جتنا اب علم پر عمل کو مشکل تصور کیا جاتا ہے۔اور جس طرح آج کے عہد میں علماء کی قلت ہے۔اسی طرح گزشتہ دور میں واعظین کی کمی تھی۔

حضرت احمد حواریؒ سے روایت ہے کہ جب میں حالت مرض میں آپؒ کا قاردرہ لیکر طبیب کے یہاں پہنچا تو وہ اتفاق سے آتش پرست تھا۔اور جب وہاں سے گزر رہا تھا تو کسی بزرگ نے سوال  کیا کہ کہاں سے آرہے ہو؟ اور جب میں نے پورا واقعہ بیان کر دیا  تو انہوں نے فرمایا  کہ انتہائی  حیرت ہے کہ خدا کا غنیم خدا کے غیر سے اعانت طلب کرے۔لہذا تم ان سے کہہ دو کہ درد کے مقام پر ہاتھ رکھ کر یہ دعاء پڑھیں۔
"اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم وبالحق انزلناہ و بالحق نزل” ترجمہ:☜میں راندے ہوۓ شیطان سے اللہﷻ  کی پناہ مانگتا ہوں۔اور ہم نے اسے سچ کے ساتھ اتارا ہے۔اور سچ کے ساتھ وہ نازل ہوا۔

چناچہ واپسی میں جب  میں نے آپؒ سے واقعہ بیان کیا تو آپؒ نے فوراً وہ دعاء پڑھ کر دم کر لی اور صحت یاب ہو گئے۔پھر مجھ سے فرمایا کہ وہ حضرت خضر علیہ الصلوة و السلام تھے۔

آپؒ سے شادی درخواست:☜

جس وقت آپؒ سے شادی کرنے کے متعلق عرض کیا گیا تو آپؒ نے فرمایا کہ دو ابلیسوں کی مجھ میں ہمت نہیں ہے۔

حالت نزع کے وقت آپؒ کی دعاء:☜

آپؒ نے حالت نزع کے وقت فرمایا کہ اے اللہ میں نے ارتکاب معصیت کے وقت بھی تیرے بندوں کو محبوب رکھا تھا۔لہذا اس کے صلہ میں میری مغفرت فرما دے۔

خواب میں آپؒ کی زیارت:☜

بعد از وفات کسی نے آپؒ کو خواب  میں دیکھا تو آپؒ کا حال دریافت کیا تو آپؒ نے فرمایا کہ مغفرت ہو گئی ہے۔لیکن جو مرتبہ بال بچوں کی دیکھ بھال کرنے سے حاصل ہوتا ہے وہ نہ مل سکا۔۔۔

Advertisements