آپؒ شیخ سلیم چشتی  رحمةاللہ علیہ نے اپنے سرچشمہ ارشادات سے ایک عالم کو فیضیاب کیا۔

خاندانی حالات:☜

آپؒ کے آباؤ اجداد اجودھن سے ہجرت کرکے لدھیانہ تشریف لے آئے۔ کچھ عرصہ لدھیانہ میں رہے پھر دہلی میں سکونت اختیار کی۔آپؒ کے والدین نے دہلی سے ہجرت کرکے فتح پور سیکری میں سکونت اختیار کی۔ آپؒ بابا فرید گنج شکر کی اولاد میں سے ہیں۔ آپؒ کے والد کا نام بہاؤ الدین  تھا۔آپؒ کی والدہ کا نام بی بی احد تھا۔ حضرت شیخ موسٰی آپؒ کے بڑے بھائی تھے۔آپؒ کا نسب نامہ پدری حسب ذیل ہے۔

شیخ سلیم بہاؤ الدین بن شیخ سلطان بن شیخ آدم بن شیخ موسٰی بن شیخ مودود بن شیخ بدر الدین بن شیخ فرید الدین گنج شکرؒ۔

ولادت مبارک:☜

آپؒ  اس وقت دہلی کے ایک محلہ سراۓ علاءالدین زندہ پیر میں 884ھ میں پیداء ہوۓ۔آپؒ کے سن ولادت میں اختلاف ہے۔بعض علماء آپؒ کی سن ولادت 897 بتاتے ہیں۔ آپؒ کا نام مبارک شیخ سلیم ہے۔عرب میں آپؒ کو شیخ الہند کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

بچپن کی کرامت

آپؒ نے پیداء ہوتے ہی سجدہ کیا۔آپؒ کی پیشانی میں دھان کا ایک دانہ چبھ گیا۔اس دانے کا نشان پیشانی پر تمام عمر رہا۔ایک مرتبہ آپؒ نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوۓ ارشاد فرمایا تھا کہ دھان کا دانہ چبھنے کے وقت بہت تکلیف ہوئی تھی۔اسکو نکالنا چاہا لیکن اس ڈر سے نہیں نکالا کہ لوگوں میں اس بات کا چرچہ ہوگا۔ ابھی آپؒ کم سن ہی تھے کہ آپؒ کے والدین کا سایہ سر پر سے اٹھ گیا۔ آپؒ کی پرورش آپؒ کے بڑے بھائی کے ساۓ میں ہوئی۔ آپؒ کے بڑے بھائی شیخ موسٰی نے آپؒ کی تربیت پر مکمل توجہ دی۔ سن بلوغ پر پہنچ کر آپؒ نے سفر کا ارادہ کیا۔ اپنے بڑے بھائی سے اجازت مانگی آپؒ کے بڑے بھائی نے آپؒ کو اجازت نہیں دی اور کہا کہ انکی اولاد نہیں ( انہوں نے حضرت سلیم ہی کو اپنی اولاد کی طرح ہی پالا ہے) یہ سن کر آپؒ نے اپنے بڑے بھائی سے کہا کہ ناامید نہیں ہونا چاہیئے۔انکے یہاں لڑکا پیدا ہوگا اور انکا گھر روشن ہوگا چناچہ ایسا ہی ہوا نو مہینہ بعد انکے یہاں لڑکا پیدا ہوا۔

تعلیم:☜

جب آپؒ کے یہاں لڑکا پیداء ہوا تو آپؒ نے رخصت سفر باندھا۔فتح پور سیکری سے سر ہند تشریف لائے اور ملک العلماء مجد الدین سے علوم ظاہری کی تکمیل کی۔جس زمانے میں آپؒ کا قیام سر ہند تھا۔ آپؒ کبھی کبھی قصبہ بدالی جاتے اور حضرت شیخ زین العابدین چشتی کے مزار سے فیوض و برکات حاصل کرتے۔

سیر و سیاحت:☜

آپؒ نے 931 ھ میں حرمین شریف کی زیارت کی۔کچھ عرصہ مکہ معظمہ میں قیام فرمایا پھر مدینہ منورہ میں پہنچ کر دربار رسالت ﷺ کی پناہ میں رہنے لگے۔پھر عرب ؛ عجم ؛ خراسان ؛ بصرہ  ؛شام کی سیر و سیاحت فرمایئ بعد ازاں عرب واپس آئے۔ آپؒ ہندوستان واپس آئے اور فتح پور سیکری میں گوشہ نشین ہو کر عبادات ؛ مجاہدات؛ ریاضات؛ میں مشغول ہوۓ۔خانقاہ تیار کرائی؛ باغ لگایا؛ کنویں کھدواۓ۔ سیرو سیاحت کے دوران آپؒ بہت سے بزرگوں اور درویشوں سے ملے اور ان سے فیوض و برکات حاصل کیے۔حضرت شیخ چشتیؒ کے دست حق پرست پر آپؒ بیعت ہوۓ۔اور ان سے خرقہ خلافت پایا۔

سفر حرمین شریف:☜

ہیموں بقال کی فتنہ پردازی کی وجہ سے آپؒ کو دوبارہ وطن سے باہر جانا پڑا۔آپؒ 962ھ میں بیت اللہ پہنچے اور سیر و سیاحت کے بعد 976 ھ میں واپسی ہوۓ۔

شادی اور اولاد:☜

پہلے سفر سے جب آپؒ فتح پور سیکری تشریف لائے تو آپؒ نے شادی کی۔ آپؒ کے تین لڑکے ہوئے جن میں تاج الدین سب سے چھوٹے تھے۔انکا انتقال ڈھائی سال کی عمر میں ہوا۔آپکےؒ دو صاحب زادے تھے۔ شیخ بدرالدین آپؒ کے وصال کے بعد سجادہ نشین ہوۓ اور قطب الدین شہنشاہ جہاں گیر کے عہد میں بلند عہدے پر فائز ہوۓ۔

وفات:☜

آپؒ کا وصال 29 رمضان 979ھ کو  ہوا۔آپؒ کا مزار فیض آثار فتح پور سیکری میں مرجع خاص و عام ہے۔

آپؒ کے بعد آپکے صاحب زادے شیخ بدرالدین سجادہ نشین ہوۓ۔عرب میں جب آپؒ کا قیام ہوا تو آپ نے سید محمد ولی شیخ محمود شامی اور شیخ رجب علی کو خرقہ خلافت سے ممتاز فرمایا۔انکے علاوہ آپؒ کےممتاز خلفاء حسب ذیل ہیں۔ شیخ عبد الوحد؛ شیخ امام سر ہندی؛ امام سید حسین؛ شیخ رکن الدین؛ شیخ یعقوب وغیرہ۔

سیرت مقدس:☜

آپؒ صاحب علم و فضل جامع شریعت و طریقت بزرگ تھے۔زہد و تقوٰی ریاضت و مجاہدات بردباری میں یگانہ عصر تھے۔جب تک آپؒ بہت بزرگ اور کمزور نہیں ہو گئے آپؒ نے طے کیے روزے نہیں چھوڑے۔ آپؒ کو پرانا سرکہ ٹھنڈی ترکاریاں بہت مرغوب تھی۔ٹھنڈے پانی سے روزانہ غسل فرماتے تھے۔ کیسی ہی سردی ہو آپؒ کے لباس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی تھی کیسا بھی موسم ہو آپؒ باریک کرتہ ہی زیب تن فرماتے تھے۔نماز اول وقت پڑھتے تھے۔ لوگوں کو ان باتوں سے جو خلاف شرع ہوتی تھی روکتے تھے۔جب آپؒ محفل میں رونق افروز ہوتے تو ہر شخص پر نگاہ رکھتے۔کسی  کو ڈانتے ؛ کسی کو نصیحت فرماتے کسی کو تلقین کرتے۔

فرمان:☜

درویشوں کی ہڈیوں میں عشق الہی کے سبب بے شمار سوراخ ہوتے ہیں۔

کرامت:☜

شہنشاہ اکبر کے کوئی لڑکا نہ تھا۔آپؒ سے دعا کا طالب ہوا آپؒ نے مراقبہ کیا اور شہنشاہ اکبر سے کہا۔  ” افسوس ہے کہ تیری تقدیر میں بیٹا نہیں”
شہنشاه اکبر نے یہ سن کر آپؒ سے عرض کیا” چونکہ میری تقدیر میں بیٹا نہیں ہے اس لئے تو آپؒ سے عرض کیا ہے کہ دعاء کیجیے” آپؒ شہنشاہ اکبر کے اس بات سے خوش ہوۓ اور تھوڑی دیر اور مراقبہ کیا۔” اور فرمایا کہ اس ملک میں راجپوتوں کی حکومت بہت دیر تک رہے گی۔اچھا کل بادشاہ بیگم کو میری بیوی کے پاس بھیج دینا۔”

دوسرے دن جب بادشاہ بیگم آپؒ کے یہاں آئی تو آپؒ نے اپنی اہلیہ محترمہ کو رانی صاحبہ کی پیٹھ سے پیٹھ ملا کر بیٹھنے کا حکم دیا۔جب  آپؒ کی اہلیہ رانی کی پیٹھ سے پیٹھ ملا کر بیٹھی تو آپؒ نے اپنی چادر ان پر ڈال دی۔پھر اپنی اہلیہ محترمہ سے فرمایا کہ اپنا ہونے والا فرزند رانی کو دے دو۔بادشاہ بیگم کے لڑکا پیدا ہوا تو آپؒ نے اس لڑکے کا نام اپنے نام پر سلیم رکھا۔شہزادہ سلیم آپؒ کو شیخوبابا کہا کرتا تھا۔شہزادہ سلیم اپنے والد شہنشاه اکبر کے انتقال کے بعد تخت و تاج کا مالک ہوا اور جہاں گیر کے کے نام سے مشہور ہوا۔

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ آپؒ نماز کے واسطہ حجرے سے مسجد جا رہے تھے۔ایک فقیر کو دیکھا تو وہ سو رہا تھا اسکو جگایا اور فرمایا” فقیروں کو کسی سے لڑنا نہیں چاہیئے ” وہ فقیر یہ سن کر شرمندہ ہوا اور اس نے اقرار کیا کہ وہ واقعی خواب میں کسی سے لڑ رہا تھا۔ آپؒ نے فتح پور سیکری کے لوگوں سے عمارات تعمیر ہونے سے پندرہ سال قبل فرما دیا تھا کہ لوگوں کو چاہیئے کہ مکانات کشادہ بنا لیں ورنہ پھر جگہ نہیں ملے گی۔

Advertisements