تعارف:☜

ہجرت سے سات سال پہلے مکہ معظمہ میں نبی کریمﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کفار کے ہاتھوں ظلم و ستم کا نشانہ بنتے ہیں۔تبلیغی میدان میں آپﷺ پر مسلسل حزن و ملال  غم اندوہ اور مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں۔اسی طلاتم خیز دور میں آپﷺ کی حیات طیبہ میں ایک خوشی کی لہر دوڑتی ہے۔کسی نے آپﷺ کو خوشخبری سنائی کہ ام یمن کے گھر اللہﷻ نے بیٹا عطاء کیا ہے۔یہ خبر سن کر آپﷺ کے روۓ انور پر بے انتہاء خوشی کے آثار دیکھایئ دینے لگے۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ نو مولود کون بچہ کون ہے؟ جس کی ولادت سے نبی کریمﷺ کو اس قدر خوشی ہویئ۔”یہ نومولود اسامہ بن زیدؓ تھے”۔

والدین:☜

صحابہ اکرام میں سے کسی کو رسول اللہﷺ کی اس بے انتہاء خوشی پر تعجب نہ ہوا۔کیونکہ سبھی حضرات اس نومولود کے والدین کا نبی کریمﷺ کے ساتھ قریبی تعلق سمجھتے تھے۔اسامہؓ کی والدہ کا نام تھا ۔جو ایک حبشی عورت تھین۔اور ام یمن کے نام سے مشہور تھیں۔نبی کریمﷺ کی والدہ حضرت آمنہ کی کنیز بھی رہ چکیں ہیں۔اور انہیں نبی کریمﷺ کو اپنی گود میں کھلانے کا شرف بھی حاصل ہے۔آپﷺ انکے متعلق اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ام یمن میری ماں کے مانند ہیں۔اور میرے اھل بیت میں سے ہیں۔اسامہ بن زیدؓ کے والد ماجد حضرت زید بن حارثہؓ ہیں۔ جنہیں نبی کریمﷺ کے نزول قرآن کریم سے قبل اپنا بیٹا قرار دیا تھا۔سفر ہو یا حضر انہیں آپﷺ کے ساتھ رہنے کا شرف حاصل ہے۔اور رازدانِ رسولﷺ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

آپؓ کا لقب:☜

اسامہ بن زیدؓ کی ولادت سے صحابہ اکرام کو جتنی خوشی ہویئ اپنی کبھی کسی اور کی ولادت سے نہی ہویئ۔اس لیۓ کہ جس چیز سے نبی کریمﷺ کو خوشی حاصل ہوتی صحابہ اکرامؓ کے لیۓ بھی وہ خوشی کا باعث بنتی۔
صحابہ اکرامؓ نے اسامہ بن زیدؓ کو لقب "حب النبی” سے نوازا۔اور اس نومولود کو یہ لقب دینے میں کسی مبالغہ سے کام نہی لیا۔حقیقتاً نبی کریمﷺ کو ان سے اتنا پیار تھا کہ سب مسلمان اس پہ رشکِ کناں تھے۔

آپﷺکی نوازش:☜

ایک مرتبہ کا  واقعہ ہے کہ ایک قریشی سردار حکیم بن حزام نے ایک قیمتی لباس نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں تحفتًا پیش کیا۔جسے اس نے یمن سے پچاس دینار میں خریدا تھا۔یہ لباس شاہِ یمن کے لیۓ بطورِ خاص تیار کیا گیا تھا۔آپﷺ نے یہ تحفہ لینے سے انکار کر دیا کیونکہ حکیم بن حزام ان دنوں مشرک تھا۔البتہ آپﷺ نے اس سے وہ لباس قیمتاً خرید لیا۔یہ بہترین لباس آپﷺ نے صرف ایک مرتبہ جمعہ کے دن پہنا تھا۔ پھر آپﷺ اسے اسامہ بن زیدؓ کو دے دیا۔وہ یہ لباس پہن کر صبح و شام شاداں و فرحاں اپنے مہاجر و انصار ساتھیوں کے پاس آیا کرتے تھے۔

عادات واخلاق:☜

حضرت اسامہ بن زیدؓ اعلی اخلاق اور عمدہ عادات سے متصف تھے۔ جو کہ آپؓ کو نبی کریمﷺ سے ورثہ میں ملی تھیں۔آپؓ حد درجہ ذہین؛ بہادر؛ دانشمند ؛پاکدامن؛ نرم خوں اور پرہیزگار تھے۔ان اوصافِ حمءدہ کی بناء ہر لوگوں میں ہر دل عزیز تھے۔

غزوۀ احد:☜

غزوۀ احد کے وقت اسامہ بن زیدؓ اپنے ہم عمر ساتھوں کے ساتھ میدانِ جہاد کی جانب نکل پڑے۔ان میں بعض کو تو جہاد کے لیۓ قبول کر لیا گیا۔اور بعض کو بہت چھوٹی عمر کی بناء پر شریک جہاد ہونے سے منع کر دیا گیا۔اور ان حضرات میں اسامہ بن زیدؓ بھی تھے۔جب یہ واپس لوٹے تو زار و قطار رو رہیں تھے۔کیونکہ انہیں نبی کریمﷺ کے جھنڈے کے نیچے راہِ خدا میں جہاد کرنے کا موقع نہی ملا۔

غزوۀ خندق:☜

غزوۀ خندق میں بھی حضرت اسامہ بن زیدؓ اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ نکلے جب میدانِ جہاد میں پہنچے تو اپنے پنجوں کے بل اونچے ہو کر کہنے لگے کہ کہیں آج بھی نو عمری کے باعث جہاد میں شرکت سے محرومی نہ  اٹھانی پڑے ۔ آپؓ کی یہ حالت دیکھ کر نبی کریمﷺ بہت خوش ہوۓ اور آپؓ کو جہاد میں شریک ہونے کی اجازت دی۔جب حضرت اسامہ بن زیدؓ نے جہاد کے لیۓ تلوار اٹھایئ تو اس وقت آپؓ کی عمر پندرہ برس تھی۔

غزوۀ حنین:☜

غزوۀ حنین میں جب مسلمان شکست سے دو چار ہوۓ۔تو اس نازک ومترین موقعہ پر حضرت اسامہ بن زیدؓ؛حضرت عباسؓ؛ ابو سفیان بن حارث؛اور دیگر چھ صحابہؓ میدانِ کارِ راز میں ثابت قدم رہیں۔اس چھوٹے بہادر کی بناء پر نبی کریمﷺ کے لیۓ یہ آسانی ہویئ کہ اللہ رب العزت نے شکست کو فتح میں بدل دیا۔اور بھاگنے والے مسلمانوں کو ہزیمت سے بچا لیا۔

جنگ موتہ:☜

حضرت اسامہ بن زیدؓ نے جنگ موتہ میں اپنے والد  گرامی کی قیادت میں بہت بہادری سے جہاد کیا ۔اس وقت آپؓ اٹھارہ سال سےکچھ کم تھی۔اپنی آنکھوں سے اپنے والد کی شہادت کا منظر دیکھا۔ لیکن حوصلہ نہ  ہارا۔لیکن حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی قیادت میں کفار سے نبرد آزما رہیں۔یہاں تکہ یہ سپہ سالار بھی اللہ کو پیارے ہو گیۓ۔پھر عبد اللہ بن رواحہؓ نے لشکر اسلام کی قیادت سنبھالی۔لیکن تھوڑی ہی دیر بعد یہ بھی شہید ہو گیۓ۔تو خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں مسلمان کافروں سے نبد آزما رہیں۔اور انہونے جنگی حکمتِ عملی اختیار کی کہ لشکرِ اسلام کو روم کے مضبوط آہنی پنجے سے چھڑانے میں کامیاب ہو گیۓ۔حضرت اسامہ بن زیدؓ نے اپنے والد کے جسدِ خاکی کو ملک شام میں سپردِ خاک کیا۔اور انکی ہی تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر مدینہ طیبہ پہنچے۔

آپؓ کا اعزاز:☜

11ہجری میں نبی کریمﷺ نے رومیوں سے جنگ کرنے کے لیۓ لشکر اسلام سے جنگ کرنے کے لیۓ حکم صادر فرمایا۔اور لشکر میں حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور ابو عبیدہ بن جراحؓ جیسے جلیل القدر صحابہ اکرامؓ  شامل تھے۔لیکن نبی کریمﷺ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو امیرِ لشکر بنایا۔ابھی انکی عمر بیس برس تھی۔انہیں حکم دیا کہ علاقہ بلقاء اور قلعہ روم کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالے۔یہ لشکر ابھی تیاری میں مصروف تھا کہ آپﷺ کو بیماری لاحق ہو گئ۔جب مرض نے شدت اختیار کر لی تو لشکر روانہ ہوا۔

حضرت اسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں:☜ کہ جب نبی کریمﷺ کے مرض نے شدت اختیار کی تو میں اور میرے چند ساتھی آپﷺ کی تیمارداری کے لیۓ حاضرِ خدمت ہوۓ۔بیماری کی شدت کی بناء پر آپﷺ بالکل خاموش تھے۔آپﷺ اپنا ہاتھ اٹھاتے اور مجھ پر رکھ دیتے۔میں سمجھ گیا کہ آپﷺ مجھے دعا دے رہیں ہیں۔
تھوڑی ہی دیر بعد حبیبِ کبریاﷺ اس دارِ فانی سے کوچ کر گیۓ۔اب حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ منتخب کر دیا گیا۔ تمام صحابہ اکرامؓ نے حضرت ابو بکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔آپؓ نے خلیفہ بنتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ حضرت اسامہ بن زیدؓ کی قیادت میں لشکر اسلام کو روانہ کیا۔جس کا حکم نبی کریمﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں دے چکے تھے۔لیکن انصار میں سے کچھ صحابہ اکرامؓ کی راۓ یہ تھی کہ لشکر کی روانگی میں کچھ تاخیر کر دی جاۓ تو بہتر ہوگا۔ ؛انہوں حضرت عمر بن خطابؓ سےکہا کہ وہ اس سلسلہ میں حضرت ابو بکر صدیقؓ سے بات کرے۔ساتھ ہی یہ مشورہ بھی دیا کہ اگر حضرت ابو بکر صدیقؓ فوری روانگئ لشکر پر مضر ہو تو انکو ہماری جانب سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہمارا امیر اسے بنا دیں جو حضرت اسامہ بن زیدؓ سے زیادہ عمر رسیدہ اور تجربہ کار ہو”۔
حضرت ابو بکر صدیقؓ ؛ حضرت عمرؓ کی زبانی انصار کا یہ پیغام سن کر غضبناک ہو گیۓ۔یوں گویا ہوۓ:☜ کہ ابنِ خطابؓ ! کتنے افسوس کی بات ہے کہ رسول اللہﷺ نے اسامہ بن زیدؓ کو امیرِ لشکر بنایا اور میں انہیں معزول کر دوں۔
اللہ کی قسم! !!! یہ کبھی نہی ہو سکتا۔۔۔۔
جب حضرت عمر فاروقؓ لوگون کے پاس واپس گیۓ تو لوگوں نے آپؓ سےدریافت کی  کہ خلیفة المسلمین کا جواب ہے؟؟؟
حضرت عمرؓ نے ارشاد فرمایا کہ تمہیں تمہاری مایئں گم پاۓ میں نے آج تمہاری وجہ سے خلیفہ رسولﷺ کو خفاء کر دیا۔جب یہ لشکر روانہ ہوا تو حضرت ابو بکر صدیقؓ انکو الودع کہنے کے لیۓ کچھ دور پیدل ساتھ چلے۔اور اسامہ بن زیدؓ سوار تھے۔حضرت اسامہ بن زیدؓ نے عرض کیا۔۔۔کہ اے خلیفہ رسولﷺ بخدا آپ بھی گھوڑے پر سوار ہو جاۓ ۔ورنہ میں بھی اترتا ہوں۔
حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ارشاد فرمایا:☜بخدا نہ تو آپ نیچے اترینگے اور نہ میں سوار ہونگا”۔
پھر فرمایا۔۔۔”کہ کیا میرے لیۓیہ اعزاز نہی کہ میں کچھ دیر کے لیۓ اپنے پیر اللہ کی راہ میں خاک آلود کروں”پھر حضرت اسامہ بن زیدؓ کو دعائیں دے دیکر جہاد پر روانہ کیا۔اور فرمایا کہ نبی کریمﷺ نے تمہیں جو وصیت کی ہے اسکے مطابق عمل پیرا رہنا۔اور پھر سرگوشی کے انداز میں فرمایا:☜ کہ اگر حضرت عمرؓ کو میری معاونت کے لیۓ میرے پاس رہنے دے تو بہتر ہوگا۔حضرت اسامہ بن زیدؓ نے آپؓ کی بات سے اتفاق کیا اور حضرت عمرؓ کو وہی رہنے دیا۔
چناچہ حضرت اسامہ بن زیدؓ لشکر کو لیکر روانہ ہوۓ۔اور فتح یابی کے لیے  ہر وہ کوشش کی جسکا حکم نبی کریمﷺ نے آپؓ کو دیا تھا۔
پہلے مرحلے میں لشکرِ اسلام نے سر زمینِ فلسطین میں بلقاء اور قلعہ دارِ روم کو فتح کیا؛ مسلمانوں کے دلوں سے رومیوں کا رعب و دبدبہ ختم کر دیا۔

دوسرے مرحلے میں دیارِ شام ؛مصر اور شمالی افریقہ  کو فتح کرکے بحرِ ظلمات تک اسلامی سلطنت کا جھنڈا لہرایا۔حضرت اسامہ بن زیدؓ اس مہیم میں کامیاب ہو کر اپنے والد ماجد کے تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر اور کثیر تعداد میں مالِ غنیمت حاصل کرکے فلاح کے ساتھ واپس لوٹے۔اور لوگوں میں یہ بات مشہور ہو گیئ کہ اسامہ بن زیدؓ سے بڑھ آج تک کویئ اتنا مالِ غنیمت حاصل نہ کر سکا۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا۔حضرت اسامہ بن زیدؓ کی قدر و منزلت لوگوں کی نظر میں بڑھتی گئ۔اور یہ عزت وقار اور آپؓ کو نبی کریمﷺ کے ساتھ وفاداری کے نتیجے میں آپؓ کو میسر آیئ۔